خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسمندر کے نام ایک غنائیہ
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرسبین علی

سمندر کے نام ایک غنائیہ

از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2026 0 تبصرے 6 مناظر
7

میرے اردگرد بے شمار لوگ ہیولوں کی مانند رواں ہیں۔ مگر ان کے سر نظروں سے اوجھل ہیں اور راہ گزر پر ہر طرف اونچی ایڑی کے جوتوں پر ریشمی لبادے لہراتے نظر آتے ہیں۔ کسی جوتے کی ایڑی اتنی،بلند ہے گویا قطب مینار ہو، کسی کی پیسا کے ٹاور جیسی جھکی کسی بھی پل گرنے کو تیار مگر انہیں پہننے والے پھر بھی ننگے پاؤں کچے راستے پر چلنے کو تیار نہیں۔کئی ایڑیاں ایفیل ٹاور کے روپہلے ماڈل جیسی مرصع ہیں اور کئی ایڑیاں سنگِ سرخ سے تراشیدہ مناروں جیسی بلند پرشکوہ اور مغرور نظر آتی ہیں۔ مصنوعی عطر سے معطر لبادوں میں حکمرانی کی رعونت ہے ادب و فن کی نمود ہے عقل و ذہانت کی دمک ہے۔
میں حیران ہوکر اُن بلند چہروں تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہوں مگر ننگے پاؤں ان رفعتوں تک جھانکنے سے قاصر فقط مرعوبیت سے اوپر تکتی ہوں۔ اسی دوران کسی نوکدار ایڑی کی چھبن پاؤں کی بالائی سطح پر محسوس ہوتی ہے۔

سی۔۔۔
منہ سے اک سسکاری نکلتی ہے۔

تم دیکھ کر نہیں چل سکتیں!
یہ راہ گزر تمھارے لیے نہیں ہٹو۔۔۔

ننگے پاؤں چلو گی تو کانٹے ہی چبھیں گے۔
آپ نے درست کہا ہوگا مگر میرے پاؤں میں تو آپ کی ایڑی کی نوک چبھی ہے۔

پیچھے ہٹو
طریق۔۔۔ طریق۔۔۔

راستہ چھوڑ دو۔۔۔
Stand aside

No tresspassing
لا تعداد برساتوں سے سینچا رستہ قدموں تلے کروٹ لیتا ہے اور پاؤں کے تلوؤں میں دل دھڑکنے لگ جاتا ہے۔

خدایا! یہ کیا اضطراب ہے؟
دل کبھی انگلیوں کی پوروں تو کبھی قدموں میں کیوں دھڑکنے لگتا ہے۔ پوریں کپکپاتی نیلے برقی صفحے پر پھسلتی ہیں۔جھیلوں میں پرندوں کی ڈار کی مانند حروف اترنے لگتے ہیں۔

رستہ پھر کروٹ بدلتا ہے ارد گرد مناظر تبدیل ہوتے ہیں۔ دل پاؤں میں اتر آتا ہے میں گھٹنوں کے بل کچے رستے پر جھک جاتی ہوں۔
نوکدار ایڑی سے فگار راہگزر کے چھلنی سینے سے زمین کی دھڑکن سنائی دینے لگتی ہے اور پاؤں کے تلوؤں سے نیم خنک مٹی ہم کلام ہوتی ہے۔

ایک چھوٹے سے گڑھے میں بارش کا پانی بھرا پڑا ہے جو چھوٹے سے تالاب کا منظر پیش کرتا نیلے آسماں کا عکس دکھا رہا ہے۔ چند ننھے مینڈک پھدکتے ہوئے پانی سے باہر نکلتے ہیں، چند ثانیوں بعد پانی میں ارتعاش تھم جاتا ہے اور اس کے عکس میں درختوں کے لمبے سائے لہراتے ہیں۔ شام کے وقت اندھیرا زرد کرنوں کا پیچھا کرتے زینہ زینہ زمین پر اترنے لگتا ہے۔ ستاروں کے وہ سارے طاق جہاں اونچی ایڑی والے لوگ پہنچنے کی تگ و دو میں تھے اپنے عکس کے ساتھ زمین پر اتر آتے ہیں۔ سمندر میں رواں بادبانی کشتیوں کی مانند پیلا پتا سطح آب پر تیرتا ہے۔ روشن دائروں کے مرکز میں ساکن قطبی تارہ جھک کر بیک وقت بحر الکاہل میں ڈولتی کشتی اور بارش کے پانی میں تیرتے پتے کو سمت کا اشارہ کرتا ہے۔
دور پرے راہگزر کے کناروں پر اونچی ایڑیوں کا ہجوم بھاگتا گردنیں پھلانگتا اپنے مقرر کردہ راستے پر محو سفر ہے۔ اتنے میں بے خانماں لوگوں، خانہ بدوش سیارچوں فگار انگلیوں والے انسانوں کا ایک چھوٹا سا قافلہ پرلی جانب ایک متروک راہگزر پر رواں دکھائی دیتا ہے۔

فن کیا ہے؟ تخلیقیت کہاں سے جنم لیتی ہے؟ یہ لوگ کس سمت میں رواں ہیں کیا مجھے ان کے پیچھے چلنا ہے یا ادھر ٹھہر کر نم مٹی سے مصاحبت اختیار کروں؟
میں تالاب کی طرف دیکھتی خود کلامی کرتی ہوں۔ چھوٹے سے تالاب کے پانی میں چاند کا عکس مجھے دیکھ کر مسکراتا ہے اور کہنے لگتا ہے!

کیا، کہاں اور کدھر کی تلاش سے قبل تخلیق کے ابدی سمندر کی کچھ کہانیاں سنو گی!
ہاں کیوں نہیں۔

تو سنو!
پرانے دنوں کی بات ہے انسانی آبادیوں سے بہت دور ایک ویران ساحل پر بادشاہِ وقت نے پرانے قلعے کو عقوبت خانے کی شکل دے رکھی تھی۔ وہاں رات کو سمندر میں جوار بھاٹے اٹھتے اور مدوجزر سے موجیں اتنی بلند ہوجاتیں کہ دور دراز سے آ کر کوئی کشتی لنگر انداز ہونے کی ہمت نہ کرتی۔ ساحلی پہاڑی کے پتھر مدتوں سے اُن مشاق ہاتھوں کے منتظر تھے جو انہیں تراش کر دیدبان کی تعمیر میں صرف کر دیں تاکہ اجنبی زمینوں کی جانب سے آتی ہواؤں کی مانند وہاں بھولی بھٹکی کشتیاں بھی آکر اپنے لنگر ڈال سکیں اور انسانی آوازوں کا ارتعاش بھی سمندر کی لہروں کے شور میں ساحلوں پر سنائی دینے لگے۔

مگر ہوا یہ کہ وہاں کے پتھروں کو بلند و بالا فصیلوں اور غلام گردشوں کی تعمیر میں استعمال کر لیا گیا۔ دور دیس سے اُس گھاٹ پر کشتیاں بھی آئیں مگر ان میں مسافروں کی بجائے قیدی لدے ہوئے تھے جنہیں پرانے قلعے کی آہنی زنجیروں میں مقید کر دیا گیا۔ ان قیدیوں کے کان سنگی دیواروں کے پار سے آتی سمندر کی مہک سونگھ سکتے تھے، پتھروں سے الجھتی موجوں کا شور سن سکتے تھے مگر سمندر کو دیکھ نہ پاتے۔ ایسے میں کئی برس بیت گئے روشنی تازہ ہوا اور فطرت کے ہر نظارے سے محروم قیدیوں کا احوال کسی کو معلوم نہ تھا۔ ایک رات سمندر میں مہیب طوفان اٹھا۔ سرکش موجیں قلعے کی فصیلوں سے سر پٹکنے لگیں۔ سپاہیوں نے آہنی جنگلوں پر پڑی ترپالیں ہٹا دیں کسی فرار کا اندیشہ نہ تھا۔ اس طوفان میں جو بھاگنے کی کوشش کرتا موجوں کا شکار ہو جاتا یا سنگلاخ چٹانوں پر طوفانی ہواؤں کے زور سے پٹخیاں کھاتا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ حفاظتی جنگلوں اور روشن دانوں سے ترپالیں اٹھانے کے بعدسمندر کی طوفانی موجوں اور قیدیوں کے بیچ کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ چار دن بعد پانی اترا اور قلعے کے معمولات لوٹ آئے۔ مگر سمندر سے اتصال کے بعد قیدیوں کے اندر بہت کچھ بدل چکا تھا۔ ان قیدیوں نے کچھ ہی دنوں بعد اپنی پھٹی قمیضوں، ترپال کے چیتھڑوں کاغذ اور گتے کے ٹکڑوں پر فن پارے تخلیق کرنا شروع کر دیے۔ مصوری کے نمونوں اور مجسموں کی شکل میں ان کے تخیل کے دریچے وا ہونے لگے۔ گہرے نیلے پانیوں میں ڈوبے جزیروں کے عکس، آزادی کے سفر کا استعارہ بنی بادبانی کشتیوں کے نمونے، آہنی سلاخوں کے عقب سے پھوٹتے ہوئے سبزہ و گل، بانس کی شاخوں سے بنی لاتعداد دوربینیں جو چاند کو حسرت سے تکتی تھیں۔ اذیت اور تکلیف میں ڈوبی لہروں کے رنگ،کارنس پر دھری جامد گھڑی اور خوبصورت ساحلوں پر چہل قدمی کرتے جوڑے ہر تصویر گویا ایک روزن تھا جس کے واسطے سے فن اور فنکار کی روح میں جھانکا جا سکتا تھا۔
فن جو درد کی کوکھ سے پھوٹا، محرومی کرب اور شدت احساس کی مٹی سے نمو پایا۔ آفاقی سمندر نے اس کے در پر دستک دی فطرت خود اس کی اتالیق بنتی اور وہ فن پارے وجود میں آئے جو اونچی ایڑی والے تربیت یافتہ فنکار بھی تخلیق نہ کر سکے۔

ننھے سے تالاب میں بہتا پیلا پتا کنارے آن لگا۔ بگولے نے نرمی سے اسے پانی سے باہر نکالا اور ہوا کے رخ پر اچھال دیا۔ وہ اڑا، اٹکا پھر اڑا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
چاند اپنا سفر جاری رکھے افق کے دوسرے کنارے پر پہنچ گیا ہے۔ میں محویت کے عالم میں سر اٹھا کر بدلیوں کے بیچ تکتی ہوں۔ رات کا ایک پہر بیت چکا ہے ہوا میں خنکی بڑھنے لگی ہے۔ عکس میں چمکتا چاند پھر گویا ہوتا ہے۔

ایک دور دراز ساحل پر کشتیوں میں گانے والے مچھیروں کی بستیاں تھی۔ ان ساحلوں اور مچھیروں کی بستیوں سے بھی بہت دور وادیوں میں چرواہے اپنے جانور چراتے تھے۔ ایک بوڑھا معذور چرواہا اپنے نو عمر بیٹے کے ساتھ سبزے سے گھری کٹیا میں رہتا تھا۔ وہاں دن کو بادِ شُمال کے ساتھ تتلیاں رقص کرتیں، بیل گائیں اور گھوڑے جامنی پھولوں سے بھری گھاس چرتے اور رات کو کہکشاؤں کے سنگ جگنو چمکتے۔ وہاں بحر عمیق سے امڈتے بادل لہروں کی صورت میں تیرتے ہوئے آتے اور فلک بوس پہاڑوں سے ٹکرا کر روز بارش برساتے۔ جب رات کا اندھیرا پھیلنے لگتا تو لڑکا اپنے جانوروں کو ہنکاتے ہوا باڑے میں لے آتا۔ دودھ
دوہتا آگ دہکاتا اور اپنی بانسری لے کر بیٹھ جاتا۔ بوڑھا باپ اپنی مڑی تڑی انگلیوں سے کاغذ پر دوہرے اور گیت لکھتا۔ اس کے دوہرے، گیت اور نظمیں خانہ بدوش ہواؤں کی مانند سفر کرتیں اُن چراہ گاہوں سے نچلی وادیوں، قریوں اور مچھیروں کی بستیوں تک جا پہنچیں۔ مچھیرے جب گہرے پانیوں میں مہینہ مہینہ بھر شکار پر رہتے تو ہچکولے کھاتی کشتیوں میں تھکن اتارنے کو اُس بوڑھے کے گیت گاتے۔ اور میں فلک کا مسافر ہر رات اُس چرواہے کو بھی دیکھتا اور بڑے شہروں میں فن پاروں کی نمائشوں اور عالی شان تقریبات کا احوال بھی جانتا۔

ایک دن جب اس بوڑھے چرواہے کو شہر سے آئے قدر دان وہیل چئیر پر بٹھا کر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لیجا رہے تھے تو اُسی رات قیدیوں کے بنے فن پارے بادشاہ کے ہرکاروں کے ہاتھ لگے جنہیں دنیا کے عظیم ثقافتی مرکز میں پہنچا دیا گیا۔ کچھ عرصہ وہ فن پارے فقط خاص عمائدین اور اساتذہ فن کے سامنے پیش کیے جاتے رہے۔ پھر ایک دن اُن لوگوں نے طے کیا کہ ان فن پاروں کو عوامی نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔
جب یہ مجسمے اور مصوری کے نمونے دنیا کی نظر میں آئے تو خوفناک مجرم قرار گئے قیدیوں کی روح کی معصومیت اور خوبصورتی دنیا کی نظروں میں آنے لگی۔ درد اور محرومی سے سینچا گیا ہر فن پارہ تخلیقی اپچ میں بڑے شاہکاروں کو مات دیتا دکھائی دینے لگا تو اونچی ایڑی والوں نے غیض و غضب سے اپنی انگلیاں چبانا شروع کر دیں۔ اُن کے احتجاج کی وجہ سے نمائش موقوف کر دی گئی مگر اُس وقت تک ان کی شہرت دنیا میں پھیل چکی تھی۔

ان فن پاروں کا کیا ہوگا؟میں تجسس سے استفسار کرتی ہوں۔
ابھی ایک مدت تک انہیں چھپا کر رکھا جائے گا۔ جب وقت اپنی چال بدلے گا تو یہی فن پارے کسی عالی شان عجائب گھر کی زینت بنیں گے اور کوئی قیمتی لبادے والا اکشن ہاؤس میں ان فن پاروں کی بولی میں اپنی شناخت پوشیدہ رکھ کر حصہ لے گا۔ وہ قلعہ اور ساحل سیاحوں کے لیے کھولا جائے گا۔ اور اس چراہ گاہ میں جہاں بوڑھا چرواہا گیت لکھتا تھا۔ جہاں جگنو چمکتے اور تتلیاں رقص کرتی تھیں وہاں سیر گاہیں بنیں گی۔

اتنے میں دیکھتی ہوں کہ اونچی ایڑیوں کا ہجوم پھر سے اسی راہگزر پر ایک دوسرے کی گردنیں پھلانگتا روندتا چلا آ رہا ہے۔ میں اُٹھ کر اس راستے کو بغور دیکھتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک مدار نما راستہ ہے۔ پھر آنکھیں پھاڑے اس چھوٹے سے قافلے کو تلاش کرنا چاہتی ہوں جو متروک راہگزر پر رواں تھا مگر وہ نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں اور راستے پر فقط پیروں کے نشان باقی ہیں۔
مجھے کس راہگزر پر جانا تھا؟

چاند مسکراتا ہے
جس راہ پر تم چاہو

سبین علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جستجوِ صبحِ نو
  • ‪فوتگی کا مینیو
  • چالیسواں دن
  • موجودہ حالات اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سنہری چوٹی
پچھلی پوسٹ
طلوع ماہتاب

متعلقہ پوسٹس

سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی

اکتوبر 28, 2025

ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

اگست 17, 2025

ہماری کلاسیکی غزل کی شعریات

مئی 27, 2024

ڈی این اے کیا ہے

جون 15, 2025

کر کے تعمیر کربلا مجھ میں

مارچ 10, 2026

کس کی نظر لگی آشیانے کومیرے

جون 19, 2018

ہم اپنی مرضی کا وحشت کدہ بنائیں گے

فروری 22, 2026

زنجیر کا نغمہ

مئی 2, 2020

تقی کاتب

جنوری 28, 2020

جسمانی طاقت کی بنیاد

اپریل 1, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

معاشرتی اقدار، قربانیاں اور آزادی کی...

اگست 15, 2020

شام کے وقت ٹھکانے پہ نہیں...

جنوری 11, 2026

اردو زبان اور علامہ اقبال

ستمبر 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں