23
شبنم زادی جتنی تیری آنکھوں میں ہریالی ہے
تیرا سبزے پر نہ چلنا سبزے کی پامالی ہے
کس کو میں یہ بات بتاؤں کون اسے تسلیم کرے
آنگن میں پلتے سائے نے میری گیند چرا لی ہے
خواب کی افراتفری سے نکلوں تو فیصلہ کر پاؤں
کس کونے میں بستر ڈالوں سارا کمرہ خالی ہے
اتنی آنکھیں جھانک رہی ہیں اب سینے کے روزن سے
موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے
جانے بستر کا دروازہ کون نگر کو کھلتا ہے
صحرا صحرا گھوم چکا ہوں ساری خاک اڑا لی ہے
اس گرداب میں رہتے رہتے اتنا ہنر تو سیکھ لیا
اس سے پہلے ایڑی گھومے ہم نے سوچ گھما لی ہے
ان ہاتھوں نے بدل کے رکھ دی سائنس اور روایت بھی
پتھر پانی میں پھینکا اور اس سے آگ نکالی ہے
عثمان علوی
