خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآہ! محمد سلیم اختر
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمجید احمد جائی

آہ! محمد سلیم اختر

مجیداحمد جائی کا اردو کالم

از مجید احمد فروری 14, 2020
از مجید احمد فروری 14, 2020 0 تبصرے 434 مناظر
435

آہ! محمد سلیم اختربھی داغ مفارقت دے گئے

زندگی کیا ہے؟ اس سوال کے جواب کی جستجو میں صدیاں گزر گئیں لیکن سوال کا جواب نہ مل سکا ۔ ہر کسی نے اپنی بساط کے مطابق اس کے جواب تلاش کیے ۔ کسی نے کچھ کہا ،کسی نے کچھ ۔ میرے نزدیک زندگی کچھ بھی نہیں صرف ایک ہوا کا جھونکا ۔ ایک خواب ،ایک راستہ ،جو منزل کی طرف پہنچاتا ہے ۔ زندگی کی حقیقت یہی ہے کے پل کا بھروسہ نہیں ۔ کب سانس کی ڈوری ٹوٹ جائے ،جو آیا ہے اُسے واپس آخر جانا ہے ۔ ہزاروں سال جی لے آخر موت ہے ۔

انسان اپنی زندگی کے مختصرسفرپر ہزاروں چہروں سے روشناس ہوتا ہے ،حالات و واقعات سے نبرد آزما ہوتا ہے ۔ یادوں اور خوابوں میں رہتا ہے ۔ آخردِلوں پہ راج کرنے والوں کے نقوش بھی وقت کی گردش میں مٹ جاتے ہیں ۔ انسانی وجود میں یہی ایک گوشہ ایسا ہے جو نرم وملائم ہے لیکن طاقت میں سپر پاور ہے ۔ یہی گوشہ مرکز کا کردار نبھاتا ہے ۔ جس کا نام دل ہے ۔ جو حساس دل رکھتا ہے وہ پیدائشی قلم کار ہوتا ہے ۔

قلم کار جیسا حساس دِل رکھنے والا دوسرا کوئی نظر نہیں آتا اس کا اندازہ مجھے باخوبی ہے ۔ میرا رشتہ بھی قلم قبیلے سے ہے ۔ اپنے اردگرد چھوٹے سے چھوٹے سے واقعے سے متاثر ہو کر صفحہ قرطاس پر بکھیرتا ہوں ۔ ہماری آنکھ ہر لمحہ مشاہدے میں رہتی ہے ۔ میرے عہد کے کئی قلم کار ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنے فکر وفن کے ذریعے،افکار و خیال کے ذریعے ،قلم وقرطاس کے ذریعے اپنا کردار نبھا رہے ہیں ۔ انہی میں ایک قلم کار ’’محمد سلیم اختر ‘‘راولپنڈی والے ،جو پچھلے دِنوں اس دُنیا سے رخصت ہوگئے ۔ جس دن سے ان کی وفات کی خبر سنی ہے دل مضطرب ہے ۔ تڑپ ہے ،بے چینی ہے ۔ آنکھوں کی سکرین پر پہلی اور آخری ملاقات کے مناظر کسی فلم کی طرح چل رہے ہیں ۔ ان سے ایک بار ہی ملاقات ہوئی اور ہزاروں بار موبائل پر بات ہوتی رہی ۔ لیکن اب یہ سلسلہ بند ہو گیا ۔ آہ !محمد سلیم اختر چلا گیا ۔

محمد سلیم اخترتیس نومبر 1940ء کو پنجاب کے ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے گاءوں جیون آباد میں پیدا ہوئے ۔ زندگی کی گاڑی نے انہیں راولپنڈی ٹھہرایا اور یہی کے ہو کر رہ گئے ۔ آپ نے بھر پور زندگی بسر کی ۔ عروج و زوال کا زمانہ دیکھا ۔ پاکستان کو معرض وجود میں آتا دیکھا ۔ اس پاک وطن کے ساتھ اپنوں نے جو سلوک کیا وہ بھی دیکھا ۔ اس کا جگر کا ٹکڑا کٹا تو تب محمد سلیم اختر کا کلیجہ بھی کٹ پھٹ گیا ۔ درد دل رکھنے والا یہ شخص اپنے درد کو صفحہ قرطاس پر بکھیرتا تو ایک شاہکار سامنے آتا ۔ اُ س نے پاکستان کے ساتھ ساتھ سفر کیا اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ۔ علم و ادب کا یہ ستارہ ہر طرف روشنی پھیلاتا رہا ۔ صبح و شام ،دن رات لکھتا رہا ۔ اس کا اوڑھنا بچھونا ادب ہی تھا ۔

محمد سلیم اختر ایک لکھاری اُبھر کر سامنے آیا اورپاکستان کا شاید ہی کوئی رسالہ ،ڈائی جسٹ ایسا ہو جس میں نہ لکھا ہو ۔ میں انہیں لکھنے کی مشین ہی کہتا تھا ۔ آپ کی ہر ماہ کسی نہ کسی رسالے میں کہانی چھپی ہوتی تھی ۔ ہر طرف اُن کا طوطی بولتا تھا ۔ ایڈیٹرحضرات ان کی کہانی کا انتظار کرتے بلکہ فرمائشیں کرکرکے لکھواتے ۔ محمد سلیم اختر کا بے باک قلم کبھی بوڑھا نہیں ہوا تھا ۔ روانی کے ساتھ اپنے مشاہدے کو قلم کی زبان سے بیان کرتا ۔ آپ کا مطالعہ وسیع تھا ۔ ہر موضوع ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ۔ اُن کا قلم کسی دلیر بہادر نوجوان کی طرح رواں دواں رہتا اور کہانیاں ہی کہانیاں بُنتا چلا جاتا ۔

محمد سلیم اختر صاحب کتاب اور کتاب دوست تھے ۔ میری لائبریری کے لیے کئی بار کتب کے ضخیم تحفے ارسال کیے ۔ ’’دیا بجھنے نہ پائے‘‘2014ء میں شائع ہوئی تو پہلی فرصت میں ارسال کی ۔ ’’ دیا بُجھنے نہ پائے ‘‘ان کا پہلا اور آخری سچائیوں کے انتخاب کا مجموعہ ہے ۔ لکھنے کی مشین اور صرف ایک کتاب ،اس کے پیچھے ہزاروں سوال پنہاں ہیں ۔ اپنے ستر، اسی سالہ دور میں دوسری کتاب منظر عام پرکیوں نہ آسکی ۔ ہے ناں سوال ۔

محمد سلیم اختر نے اپنے زندگی کے قیمتی سال کاغذ اور قلم کے نام کیے اور مختلف رسالوں کے پیٹ بھرتے رہے ۔ رسالوں والوں کواتنی فرصت نہ ملی کے ان کی کہانیوں کے مجموعہ شاءع کرے دیں ۔ جس کی کہانیوں نے ان کے رسالوں کو بلندیوں تک پہنچایا انہوں نے علم و ادب کے اس ستارے کو زندگی کے آخری سال میں خاموشی کے جنگل میں دھکیل دیا ۔

محمد سلیم اختر پچھلے سال ہی عمرے کی سعادت کرکے لوٹے تھے ۔ لیکن محمد سلیم اختر چند سال سے رسالوں کی دُنیا سے کنارہ کش ہو گئے تھے ۔ رسالے والوں نے انہیں مایوس کر دیا تھا ۔ محمد سلیم اختر نے کئی شاگرد پیدا کیے ۔ ان کے قارئین کا حلقہ احباب وسیع تھا ۔ ایک مہمان نواز،ملنسار شخصیت کا مالک یوں خاموشی سے اس دُنیا سے اُٹھ گیا ۔ آہ !محمد سلیم اختراس دُنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلا گیا ۔ آخر ایک نہ ایک دن ہم نے بھی چلے جانا ہے ۔ دولت کے انبار کسی کام کے نہیں ،حرص اور لالچ سے نکل کر پبلشرز اور رسالوں والوں کو سوچنا چاہیے کے وہ اپنے لکھنے والوں کے ساتھ نا انصافیاں کیوں کر رہے ہیں ۔ جن کے دم خم سے ان کے دفتروں کی رونقیں ہیں ،وہ ان کے چراغ سے تیل کی آخری بوند تک بھی نچوڑ نے کی کوشش میں کیوں لگے ہیں ۔ میری گزارش ہے کے محمد سلیم اختر کے لکھے مشاہدات ،فکر وفن اور افکار وخیالات کو محفوظ کیا جائے جس سے آنے والی نسلیں استفادہ حاصل کرسکیں ۔ علم وادب کا ایک سے ایک ستارہ اٹھتا چلا جاتا ہے اور ان کے مسودے ردی کی نذر ہو رہے ہیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو ایک علم و ادب بھی اس دھرتی سے اٹھ جائے ۔ اس سے پہلے ہ میں اس پر سنجیدہ ہو کر سوچنا اور عمل کرنا چاہیے ۔

اللہ تعالیٰ محمد سلیم اختر کو جنت الفردوس میں اعلی مقا م عطا کرے اور کروٹ کروٹ راحت نصیب ہو آمین

مجیداحمد جائی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سکون کی آغوش
  • غزہ کے بچوں کے نام
  • اولاد کی پیدائش اور کہنی کی چوٹ
  • برہمچاری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
مجید احمد

اگلی پوسٹ
یومِ محبت
پچھلی پوسٹ
کتے کی دعا

متعلقہ پوسٹس

دو سیاح

جنوری 11, 2020

ہیں سردیاں پلٹنے کو اب تم بھی پلٹنے کا سوچو

دسمبر 23, 2021

کباڑی غنچے

مارچ 24, 2026

کچھ پیلے کچھ کالے بچھو

اکتوبر 10, 2025

جو کتابِ زیست کا باب تھا

جنوری 28, 2020

دنیا کی آخری رات

فروری 7, 2020

بے چارہ دکھ

اکتوبر 12, 2025

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

وہ آکاس سے تارے چرا لایا

مارچ 26, 2023

دو چار دن ہے رونقِ بازار میرے دوست

جنوری 8, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خود لذتی

مئی 3, 2020

وعدہ پورا ہوا

مئی 24, 2024

آب گم سے

دسمبر 16, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں