387
طے شدہ موسم
مسافر ہوئے پھر اک اندھے سفر کے
پتہ طے شدہ موسموں کا
کہیں کھو گیا ہے
بڑے شہر کے اک کلب میں
دیوالی مناتے ہوئے
کل کسی نے کہا تھا
سنما کے پردے
کئی تیج تیوہار میلے سمیٹے ہوئے ہیں
تمہیں فکر کیسی
یہ کیوں رنگ چہرے کا پھیکا پڑا ہے
تمہیں سست قدموں پہ نادم ہوئے تھے
تمہیں کو ہوس تھی
کہ رفتار قابو میں کر لیں خلائیں کھنگالیں
گئے موسموں کا جنازہ اٹھائے
کہاں جا رہے ہو
کوئی ابن مریم نہ ہاتھ آ سکے گا
چلو اس کو مٹی کے نیچے دبا دیں
یہی آنے والوں کے حق میں
مناسب رہے گا
آشفتہ چنگیزی
