614
سب خواب میں ہیں کون سنے گا نوائش
گویا ہے ماورائے سماعت صدائے شب
اک چاند میرے ساتھ چلا پھر پلٹ گیا
کس ہمسفر نے ساتھ دیا ماسوائے شب
حیرت سے سوچتا ہوں کہ جشنِ طلوعِ مہر
اک ابتدائے صبح ہے یا انتہائے شب
کرنوں نے بڑھ کے روک دیا سیل تیرگی
سورج نے آ کے ختم کیا ارتقائے شب
فردا کے ایک وعدۂ روشن کے باوجود
کچھ اور ظلمتیں ہیں ابھی ماورائے شب
سعود عثمانی
