خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآبادی کی دوڑ، شعور کا جنازہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

آبادی کی دوڑ، شعور کا جنازہ

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025 0 تبصرے 89 مناظر
90

ہر گزرتا دن ہمارے رویّوں، فیصلوں اور غفلت کی قیمت چکا رہا ہے۔ کبھی زرخیز کھیتوں کی کمر ٹوٹتی ہے، کبھی ہوا سانس لینے کے قابل نہیں رہتی، اور کبھی شہر اس قدر بھر جاتے ہیں کہ انسان کا انسان سے دم گھٹنے لگتا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ نہ سننے کو تیار ہیں، نہ ماننے کو۔ ہم نے آبادی کے مسئلے کو تقدیر کا حصہ سمجھ کر اس پر بات کرنا چھوڑ دیا ہے، گویا خود ساختہ تباہی کو ربّ کی رضا قرار دے دیا ہو۔ خاص طور پر گاؤں میں، جہاں ہر عمل ایک غیر لچکدار رسم بن چکا ہے، جہاں عقل گالی ہے اور تبدیلی جرم۔

بچے پیدا کرنا قدرتی عمل ہے، مگر ان کی پرورش، تعلیم، تربیت اور تحفظ انسان کی ذمہ داری ہے۔ ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جو صرف ”پیدا“ کرنا جانتی ہے، پالنے، سنوارنے اور آگے بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ایک عام دیہی گھر میں سات سے آٹھ بچے ہونا فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر جب وہی بچے بیمار ہوں، بھوکے ہوں، یا تعلیم سے محروم ہوں تو نظام کو کوسا جاتا ہے، قسمت کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ غربت نے گاؤں کے در و دیوار کو کمزور کیا ہے، مگر اس غربت کو نسل در نسل آگے بڑھانے میں خود وہاں کے رویّوں، ضد اور انکار کا بڑا کردار ہے۔

گاؤں کا نظام اس وقت بدبودار بن چکا ہے جو سانس لینا دشوار کر رہا ہے۔ رسم و رواج کو عقل پر فوقیت حاصل ہے۔ آج بھی بعض دیہی علاقوں میں یہ تصور ہے کہ اگر عورت بچے پیدا کرنے کے بجائے تعلیم کی بات کرے تو وہ بے راہ رو ہے۔ اگر کوئی لڑکا تعلیم کے بعد گاؤں کے دقیانوسی ماحول کو چھوڑنا چاہے، تو اُسے باغی سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہی گاؤں ہیں جہاں اسکول صرف کاغذوں میں موجود ہیں، جہاں اساتذہ کی تنخواہیں جاری ہوتی ہیں مگر وہ خود موجود نہیں ہوتے، اور جہاں والدین کی ساری امیدیں صرف اس بات پر مرکوز ہوتی ہیں کہ ان کا بیٹا کسی طرح شہر جا کر نوکری کرے اور پیسے بھیجے۔

دیہات کی صورتحال صرف پسماندگی نہیں، ایک سنگین المیہ ہے۔ وہاں نہ صحت کی سہولیات میسر ہیں، نہ آگاہی مہمات کی پہنچ۔ سب کچھ سنا ہے، مگر کچھ بدلا نہیں۔ عورت کو بچے پیدا کرنے کی مشین اور مرد کو ہر فیصلے کا مالک مانا گیا ہے۔ گھر کے ہر فرد کا حق مرد کے فیصلے سے مشروط ہے۔ اور یہی فیصلے ہیں جو نسلوں کی محرومی کا سبب بنتے ہیں۔ صحت، تعلیم، صاف پانی، شعور۔ ان تمام بنیادی انسانی حقوق کی غیر موجودگی کے باوجود وہاں کے نظام کو غلط کہنے کی جرات نہیں کی جا سکتی۔ یہ خاموشی صرف خوف نہیں، بلکہ غلامی کی بدترین شکل ہے۔

یہ تمام صورتحال صرف گاؤں کی حدود تک محدود نہیں رہی۔ آج ان ہی گاؤں سے آئے ہوئے لاکھوں خاندانوں نے شہروں کا رخ کیا ہے۔ شہر، جو پہلے ہی وسائل کی قلت کا شکار تھے، اب بے ہنگم بستیوں اور جھگیوں سے اَٹے پڑے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے پر بوجھ بڑھ چکا ہے۔ اسپتال، اسکول، سڑکیں، پانی، بجلی۔ ہر چیز گرتے ہوئے نظام کا نوحہ سنا رہی ہے۔ مگر گاؤں سے آنے والا ہجوم اپنے ساتھ وہی سوچ، وہی بے شعوری، وہی رسم پرستی لے کر آتا ہے، جس سے وہ خود بھاگا تھا۔ یوں شہر بھی ایک نیا گاؤں بننے لگتے ہیں، اور ترقی کا عمل ایک دائروں میں چکر کاٹنے لگتا ہے۔

جب تک ہم آبادی کو برکت کے بجائے ذمہ داری نہیں مانیں گے، یہ زمین ہم سے انتقام لیتی رہے گی۔ یہ زمین سب کچھ سہے گی، ہماری نا اہلی، ہماری غفلت، ہمارا تعصب، مگر یہ ہمیشہ خاموش نہیں رہے گی۔ قحط، بیماری، بے روزگاری، بدامنی۔ یہ سب اسی زمین کی چیخیں ہیں، جو ہمیں سُنائی نہیں دیتیں۔ اب بھی وقت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ آبادی پر قابو پانے کو محض ایک طبی مہم نہ سمجھیں، بلکہ ایک سماجی انقلاب کے طور پر دیکھیں۔ گاؤں کے فرسودہ نظام کو للکارنا ہو گا، عورت کو با اختیار بنانا ہو گا، تعلیم کو ترجیح دینی ہو گی، اور سب سے بڑھ کر، خود کو بدلنا ہو گا۔

ورنہ وہ وقت دور نہیں، جب ہم تعداد میں کروڑوں ہوں گے، مگر انسانیت میں صفر۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اُردو زبان پر اعتراضات
  • لال کی تلاش
  • یہ آئینہ جو صاف ہے وہ اور بات ہے
  • تائی ایسری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تعلیمی نظام کہاں جا رہا ہے؟
پچھلی پوسٹ
بنگلہ دیش طیارہ سانحہ

متعلقہ پوسٹس

پناہ چاہتے ہیں سیلاب سے

ستمبر 17, 2022

آنسوؤں پر پلی بڑھی ہوں میں

اپریل 23, 2022

سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں

جون 18, 2021

ثقافتی میل جول: روایت اور جدت کا سنگم

ستمبر 13, 2025

کٹھن سفر جو بن تیرے گزارا تھا

مارچ 1, 2020

خدا اور رسول ﷺ بننے کی کوشش نہ کرو

اپریل 26, 2025

مرا جنوں مری وحشت بدلتی رہتی ہے

مارچ 4, 2020

پنہاں سے درد سے

جون 27, 2025

کافر کوٹ کے کھنڈر

اکتوبر 9, 2022

دیکھتا ہے ہو کے حیراں آدمی

دسمبر 12, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

غزل گائیکی کی 110 سال کی...

نومبر 6, 2017

ہس ہس سکھ نَل وسدے لوکی

اکتوبر 12, 2025

دوسرا بوسہ

مئی 14, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں