خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکاغذی روپیہ
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرپطرس بخاری

کاغذی روپیہ

پطرس بخاری کی ایک اردو مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020 0 تبصرے 513 مناظر
514

کاغذی روپیہ

خواجہ علی احمد شہر کے بڑے سوداگر تھے۔ لاکھوں کا کاروبار چلتا تھا۔ لوگوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ بچہ بچہ ان کی دیانت داری سے واقف تھا اور ہر شخص جانتا تھا کہ خواجہ علی احمد قول کے سچے اور بات کے پکے ہیں۔ ایک دن انہوں نے اپنے ایک آدمی کو جوتے والے کی دکان سے جوتا خریدنے بھیجا۔ جوتے کی قیمت بیس روپے تھی لیکن بجائے اس کے کہ خواجہ علی احمد اپنے نوکر کو بیس روپے دے کر بھیجتے، انہوں نے نوکر کے ہاتھ کریم خاں جوتے والے کے نام ایک رقعہ لکھا:

’’میاں کریم خاں! مہربانی کر کے ہمارے آدمی کو بیس روپے کا ایک جوتا دے دو، ہمارا یہ رقعہ اپنے پاس سنبھال کے رکھ چھوڑو۔ جب تمہارا دل چاہے۔ یہ رقعہ آ کے ہم کو یا ہمارے منشی کو دکھا دینا اور بیس روپے لے جانا۔ یہ رقعہ اگر تم کسی اور شخص کو دینا چاہو تو بےشک دے دو، جو ہمارے پاس لائے گا ہم اس کو بیس روپے دے دیں گے۔ راقم خواجہ علی احمد‘‘۔

دکان دار نے جب رقعے کے نیچے خواجہ علی احمد کا دستخط دیکھا تو اسے اطمینان ہوا۔ جانتا تھا کہ خواجہ صاحب مکرنے والے آدمی نہیں اور پھر لاکھوں کے آدمی ہیں۔ روپے نہیں بھیجے تو نہ سہی۔ یہ رقعہ کیا روپوں سے کم ہے؟ جب چاہوں گا، رقعہ جا کر دے دوں گا اور روپیہ لے لوں گا، چنانچہ اس نے بغیر تامل کے جوتا بھیج دیا۔

تھوڑی دیر بعد کریم خاں دوکان دار کے پاس عبد اللہ حلوائی آیا اور کہنے لگا۔ ’’میاں کریم خاں! میرے تمہارے طرف پچیس روپے نکلتے ہیں۔ ادا کر دو تو تمہاری مہربانی ہو گی۔ کریم خاں نے کہا۔ ’’ابھی لو۔ یہ پانچ تو نقد لے لو۔ باقی بیس روپے مجھے خواجہ علی احمد سے لینے ہیں یہ دیکھو، ان کا رقعہ ذرا ٹھہر جاؤ، تو میں جا کے ان سے بیس روپے لے آؤں۔

عبد اللہ بھی خواجہ علی احمد کو اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ شہر بھر میں خواجہ صاحب کی ساکھ قائم تھی کہنے لگے۔ تم یہ رقعہ مجھے ہی کیوں نہ دے دو میں ان سے بیس روپے لے آؤں گا کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ جو شخص یہ رقعہ لائے گا اس کو بیس روپے دے دیئے جائیں گے‘‘۔ کریم خان نے کہا۔ ’’یونہی سہی‘‘۔ چنانچہ عبد اللہ حلوائی نے بیس روپے کے بدلے وہ رقعہ قبول کر لیا۔

کئی دنوں تک یہ رقعہ یونہی ایک دوسرے کے ہاتھ میں پہنچ کر شہر بھر میں گھومتا رہا۔ خواجہ علی احمد پر لوگوں کو اس قدر اعتبار تھا کہ ہر ایک اسی رقعے کو بیس روپے کے بجائے لینا قبول کر لیتا کیونکہ ہر شخص جانتا تھا کہ جب چاہوں گا اسے خواجہ صاحب کے منشی کے پاس لے جاؤں گا اور وہاں سے بیس روپے وصول کر لوں گا۔ ہوتے ہوتے یہ رقعہ ایک ایسے شخص کے پاس پہنچ گیا جس کا بھائی کسی دوسرے شہر میں رہتا تھا۔ یہ شخص اپنے بھائی کو منی آرڈر کے ذریعے بیس روپے بھیجنا چاہتا تھا۔ ڈاک خانے والوں نے اس رقعہ کے بیس روپے کے عوض میں لینا قبول نہ کیا۔ چنانچہ وہ شخص سیدھا خواجہ احمد علی کی کوٹھی پر پہنچا۔ رقعہ منشی کو دیا۔ منشی نے بیس روپے کھن کھن گن دیئے۔ اس نے روپے جا کر ڈاک خانے والوں کو دیئے اور انہوں نے آگے اس کے بھائی کو بھیج دیئے۔

اس مثال سے یہ ظاہر ہوا کہ محض ایک کاغذ کا پرزہ کتنی مدت تک روپے کا کام دیتا رہا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کاغذ کے نیچے ایک ایسے شخص کے دستخط تھے جس کی دیانت داری پر سب کو بھروسہ تھا۔ اور جس کی دولت کا سب کو علم تھا۔ سب جانتے تھے کہ یہ شخص جب چاہے بیس روپے ادا کر سکتا ہے۔ اور قول کا اتنا پکا کہ کبھی ادا کرنے سے انکار نہ کرے گا۔

اگر ایسے ہی ایک رقعے کے نیچے ہم یا تم دستخط کر دیتے تو کوئی بھی اسے روپے کے بدلے میں قبول نہ کرتا۔ اول تو ہمیں جانتا ہی کون ہے اور جو جانتا بھی ہے وہ کہے گا کہ ان کا کیا پتہ۔ آدمی نیک اور شریف اور دیانت دار سہی، لیکن خدا جانے ان کے پاس بیس روپے ہیں بھی یا نہیں؟ کیا معلوم یہ مانگنے جائیں اور وہاں کوڑی بھی نہ ہو۔

خواجہ احمد کا رقعہ گویا ایک قسم کا نوٹ تھا۔ سرکاری نوٹ بھی بالکل یہی چیز ہوتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ان کے نیچے سرکار کی طرف سے سرکاری خزانے کے ایک افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔ اگر تم دس روپے کے نوٹ کو لے کر دیکھو تو اس پر اوپر حکومت پاکستان اور اس کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ ’’میں اقرار کرتا ہوں کہ عند المطالبہ حامل ہذا کو دس روپیہ سرکاری خزانہ کراچی سے ادا کروں گا‘‘۔ اس عبارت کے نیچے سرکاری افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔

خواجہ احمد علی کو تو صرف ایک شہر کے لوگ جانتے تھے۔ حکومت پاکستان کو ملک کا ہر آدمی جانتا ہے۔ بلکہ اور ملکوں میں بھی اس کی ساکھ قائم ہے اس لئے سرکاری نوٹ کو ہر شخص بلا تامل قبول کر لیتا ہے۔ اور کوئی قبول کیوں نہ کرے۔ لوگ جانتے ہیں کہ جب چاہیں خزانے میں جا کر اس کے روپے بھنا سکتے ہیں۔

خواجہ علی احمد کے رقعے اور سرکاری نوٹ میں ایک فرق اور بھی ہے۔ خواجہ علی حسن کا رقعہ تو ڈاک خانہ والوں نے قبول نہ کیا تھا لیکن سرکاری نوٹ انہیں ضرور ہی قبول کرنا پڑتا۔ سرکاری نوٹوں کو قانونی طور پر ملک کا سکہ قرار دیا گیا ہے اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کو روپے کے بدلے لینے سے انکار کرے۔ اگر تمہیں کسی شخص نے دس چاندی کے روپے قرض دیئے تھے اور اب اس کو یہ قرضہ اتارنے کے لئے دس روپے کا نوٹ دیتے ہو تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو چاندی کے روپے ہی لوں گا۔ اسے دس کا نوٹ ضرور لینا پڑے گا۔

روپیہ ایسا ہونا چاہیئے کہ آسانی سے پاس رکھا جا سکے۔ چاندی کے سکوں میں یہ خوبی ایک حد تک پائی جاتی ہے۔ تاہم چاندی کے سکے وزنی ہوتے ہیں۔ اسی روپے کا وزن سیر بھر ہو جاتا ہے تو جہاں پانچ چھ سو روپے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا ہوں، وہاں اچھی خاصی دقت پیش آتی ہے۔ نوٹوں سے یہ دقت رفع ہو جاتی ہے۔ ہزاروں روپے کے نوٹ ایک جیب میں آسانی سے ڈالے جا سکتے ہیں۔ نوٹوں کے جاری کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

باوجود ان سب باتوں کے جس شخص کے پاس بہت سا روپیہ ہو۔ اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ بہت سے نوٹ، کچھ روپے چونیاں، دونیاں یہ سب کچھ اپنے پاس سنبھال رکھئے۔ ایک تو سنبھالنے کی تکلیف، دوسرے چوری کا خطرہ، اس لئے بہتر یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنا سب روپیہ بنک میں رکھوا دے۔

بنک میں روپیہ امانت کے طور پر رہتا ہے۔ روپے کا مالک جب چاہے اس کو نکلوا سکتا ہے یا جس کو چاہے اپنے حصے کا روپیہ دلوا سکتا ہے کسی اور کو اپنے حصے کا روپیہ دلوانے کی ترکیب یہ ہے کہ اس کو چک لکھ کر دے دیا جائے۔

ہم یہاں چک کے معنوں کو واضح طور پر بیان کرنا چاہتے ہیں۔ فرض کرو، عبداللہ نے بنک میں بہت سا روپیہ جمع کر رکھا ہے۔ کریم خاں اس سے دس روپے مانگنے آتا ہے۔ عبد اللہ بجائے اس کے کہ کریم خاں کو دس روپے نقد دے، وہ اسے دس روپے کا چک لکھ دیتا ہے۔ چک گویا ایک قسم کا رقعہ ہے۔ جو عبد اللہ کریم خان کی معرفت اپنے بنک کو بھیج رہا ہے۔ چک پر مفصلہ ذیل الفاظ لکھے ہوتے ہیں:

بنام فلاں بنک

کریم خاں کو دس روپے دے دو۔

راقم عبد اللہ

کریم خاں کی بجائے عبد اللہ اگر کسی اور کا نام لکھ دے تو جس کا نام لکھے گا اسی کو روپے ملیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کریم خاں دس روپوں کی بجائے یہ دس روپے کا چک کیوں قبول کر لیتا ہے؟ اس لئے کہ اسے عبد اللہ پر اعتبار ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بنک میں ضرور عبد اللہ کا روپیہ جمع ہو گا۔ میں جب یہ چک لے جاؤں گا مجھے روپیہ مل جائے گا۔

اب فرض کرو کہ کریم خاں وہ چک لے کر عبد اللہ کے بنک میں گیا۔ اور کہا کہ مجھے اس چیک کا روپیہ ادا کر دو۔ بنک والوں نے عبد اللہ کا حساب دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہاں تو کل تین روپے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ چک ادا نہیں کر سکتے۔ چنانچہ وہ انکار کر دیں گے اور کریم خاں کا عبد اللہ پر اعتبار باقی نہ رہے گا۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بنک والے عبد اللہ کو جانتے ہیں۔ مدت سے اس کا حساب کھلا ہوا ہے وہ کہتے ہیں بنک میں تو عبد اللہ کے تین روپے ہیں، مگر چلو فی الحال ہم باقی کے ساتھ روپے اپنے پاس سے دے دیتے ہیں اور عبد اللہ کی لاج رکھ لیتے ہیں ہم یہ سات روپے پھر اس سے لے لیں گے لیکن عام طور پر ایسا کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ لوگوں کا جتنا روپیہ بنک میں ہوتا ہے اس کے اندر اندر ہی چک دیتے ہیں اور کم ہی ایسا موقعہ پیش آتا ہے کہ بنک چک ادا کرنے سے انکار کر دے۔

اگر کریم خاں نے خود بھی کسی بنک میں حساب کھول رکھا ہے تو یہ ضروری نہیں کہ عبد اللہ کا چک لے کر خود عبد اللہ کے بنک میں جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس طرح وہ اپنا روپیہ بنک میں جمع ہونے کے لئے بھجوا دیتا ہے۔ اسی طرح یہ چک بھی بھجوا دے۔ اس کے بنک والے خود ہی عبد اللہ کے بنک سے اس چک کا روپیہ وصول کر لیں گے۔ یہ دس روپے کی رقم کریم خاں کے حساب میں جمع کر دی جائے گی۔ اور عبد الہچ کے حساب میں خرچ کی آمد میں چڑھا دی جائے گی۔

اسی طرح سے یہ سہولت ہوئی کہ عبد اللہ اور کریم خاں دونوں کا روپیہ اپنے اپنے بنک میں محفوظ پڑا ہے۔ نہ تو عبد اللہ کو روپیہ ادا کرتے وقت نہ کریم خاں کو وصول کرتے وقت بنک جانا پڑا۔ اور روپیہ ایک کے حساب میں سے نکل کر دوسرے کے حساب میں جمع بھی ہو گیا۔ یہ سب کچھ ایک چک کی بدولت ظہور میں آیا۔

یہاں ہم نے صرف ’’کاغذی روپے‘‘ کی دو قسموں کا ذکر کیا ہے، ایک سرکاری نوٹ اور دوسرے چک، ان کے علاوہ اور بھی کاغذات ایسے ہیں جن کے ذریعے سے بڑی بڑی رقمیں یہاں سے دور دراز ملکوں تک پہنچ جاتی ہیں۔

پطرس بخاری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شہری سہولیات پر حملے
  • پاکستان سے محبت
  • کامیاب خارجہ پالیسی
  • یوم نسواں، تبدیلی کا تخم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہیبت ناک افسانے
پچھلی پوسٹ
سر محمد اقبال

متعلقہ پوسٹس

رب تعالیٰ سے تجارت

مارچ 28, 2026

عشق باز ٹڈہ

دسمبر 15, 2019

عمران خان کے حواس پر سوار موت کا خوف

اپریل 16, 2023

سجدہ

فروری 4, 2020

روداد

اکتوبر 14, 2025

موبائل کیمرہ اور بےحسی

جون 5, 2020

پاکستان کا مطلب کیا

جولائی 20, 2021

موازنہ انیس و دبیر

اپریل 13, 2025

قسط وار ناول بہرام: پہلی قسط

جولائی 31, 2022

خدا اور رسول ﷺ بننے کی کوشش نہ کرو

اپریل 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مریم نواز کا جاپان دورہ

اگست 21, 2025

شجرہ نصب

اکتوبر 22, 2025

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ...

اپریل 14, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں