خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرہیبت ناک افسانے
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرپطرس بخاری

ہیبت ناک افسانے

پطرس بخاری کی ایک اردو مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020 0 تبصرے 309 مناظر
310

ہیبت ناک افسانے

’’ہیبت ناک افسانے‘‘ کا پیکٹ جب یہاں پہنچا۔ میں گھر پر موجود نہ تھا۔ میری عدم موجودگی میں چند انگریز احباب نے جو کتابوں اور اشیائے خوردنی کے معاملے میں ہر قسم کی بے تکلفی کو جائز سمجھتے ہیں، پیکٹ کھول لیا۔ یہ دوست اردو بالکل نہیں جانتے۔ بجز چند ایسے کلموں کے جو غصے یا رنج کی حالت میں وقتاً فوقتاً میری زبان سے نکل جاتے ہیں اور جو بار بار سننے کی وجہ سے انہیں یاد ہو گئے ہیں۔ اردو تقریر میں ان کی قابلیت یہیں تک محدود ہے۔ تحریر میں اخبار ’’انقلاب‘‘ کا نام پہچان لیتے ہیں وہ بھی اگر خط طغریٰ میں لکھا گیا ہو چنانچہ جب واپس پہنچا تو ہر ایک نے محض کتاب کی وضع قطع دیکھ کر اپنی اپنی رائے قائم کر رکھی تھی۔ سرورق پر جو کھوپڑی کی تصویر بنی ہوئی ہے اس ے ایک صاحب نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ کتاب:

میں بھی کبھی کسی کا سر پر غرور تھا

سے متعلق ہے۔ ایشیا کے ادیب (عمر خیام، گوتم بدھ وغیرہ) اکثر اس قسم کے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے صاحب سمجھے کہ فن جراحی کے متعلق کوئی تصنیف ہے۔ ایک بولے جادو کی کتاب معلوم ہوتی ہے (ہندوستان کے مداریوں کا یہاں بڑا شہرہ ہے) ایک خاتون نے کتاب کی سرخ رنگت دیکھ کر بالشویکی شبہات قائم کر لئے۔

میں نے کتاب کو شروع سے آخر تک پڑھا۔ گو یہ سب کی سب کہانیاں میں پہلے انگریزی میں پڑھ چکا ہوں۔ اور ان میں سے اکثر تراجم کتابی صورت میں شائع ہونے سے پہلے خود امتیاز سے سن چکا ہوں۔ وہ مختلف قسم کی دلفریبیاں جو مجھے کبھی کسی تصنیف کو مسلسل پڑھنے پر مجبور کر سکتی ہیں سب کی سب یہاں یکجا تھیں۔ کتابت ایسی شگفتہ کہ نظر کو ذرا الجھن نہ ہو تحریر میں وہ سلاست اور روانی کہ طبیعت پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔ اور پھر امتیاز کے نام میں وہ جادو جس سے ہندوستان یا انگلستان میں کبھی بھی مَفر نہ ہو۔ یہ کتاب تیرہ ہیبت ناک افسانوں کا مجموعہ ہے۔ جن کے مصنف کا مدعا یہ تھا کہ پڑھنے والوں کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور ہر افسانے میں درد و کرب خوف و دہشت یا پھر مرگ و ابتلاء کی ایسی خونیں تصویر کھینچی جائے کہ بدن پر ایک سنسنی سی طاری ہو جائے۔ ایڈگر ایلن پو کے پڑھنے والے ایسے افسانوں سے بخوبی آشنا ہوں گے۔ حق تو یہ ہے کہ پو اس فن کا استاد تھا۔ اور یہ جو آج کل اس صنف ادب کی کثرت فرانس میں نظر آتی ہے عجب نہیں کہ اس کا بیشتر حصہ تو اسی کی بدولت ہو۔ کیونکہ فرانس کی ادییات پر پو کا اثر مسلم ہے اور ادب کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو۔ جہاں کسی نہ کسی صورت میں اس نے اپنا رنگ نہ پھیر رکھا ہو۔ پیرس میں ایک خاص تھیٹر اسی بات کے لئے وقف ہے کہ اس میں دہشت انگیز کھیل دکھائے جائیں۔ اس کمپنی نے اس قسم کے ڈراموں کا اچھا خاصا مجموعہ مہیا کر رکھا ہے۔ تھیٹر کی ڈیوڑھی میں چیدہ چیدہ ڈراموں کے مشہور مناظر کی تصاویر آویزاں ہیں۔ کہیں کوئی بدنصیب موت کی آخری انگڑائیاں لے رہا ہے۔ چہرہ تنا ہوا ہے اور آنکھیں باہر پھوٹی پڑتی ہیں۔ کہیں کوئی سفاک کسی حسینہ کی آنکھیں نکال رہا ہے۔ بائیں ہاتھ سے گردن دبوچے ہوئے ہے۔ دائیں ہاتھ میں خون آلود چھری ہے اور لڑکی کی آنکھوں سے لہو کی دھاریں بہہ رہی ہیں۔ کھیل کو ہیبت ناک بنانے کے لئے جو جو تدابیر بھی ذہن میں آ سکتی ہیں ان سب پر عمل کیا جاتا ہے۔ ایکٹر اپنی شکل شباہت اپنی آواز اور اپنی حرکات کے ذریعے ایک خوف سے کانپتی ہوئی فضا پیدا کر لیتے ہیں۔ پردہ اُٹھنے سے پہلے ہی گھنٹی نہیں بجائی جاتی بلکہ چراغ گل کر کے لکڑی کے تختے پر دستک دی جاتی ہے۔ اس سے ہیبت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس بات میں بحث کی گنجائش نہیں کہ درد و کرب یا خوف و دہشت کے مناظر یا افسانوں سے ایک خاص قسم کی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ یہ فقرہ بظاہر خود اپنی تردید کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے جس کو درد کہا جاتا ہے۔ اس سے خوشی کیسے حاصل ہو گی۔ لیکن یہ ہمارے متداول الفاظ کی کم مائیگی کا نتیجہ ہے۔ اصل خیال کو جو اس فقرے سے ظاہر کیا گیا ہے الفاظ کے اس گورکھ دھندے سے باہر نکالنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

اسی وجہ سے بعض ماہرین نفسیات دکھ، درد، کرب وغیرہ اس قسم کے الفاظ استعمال سے مجتنب رہتے ہیں کیونکہ وہ کب کے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ بہت سی ایسی کیفیات جن کو ہم عام زبان میں دکھ درد وغیرہ سے موسوم کرتے ہیں۔ بسا اوقات اس قدر تسکین بخش ہوتی ہیں کہ لوگ ان کے وصول کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ اور ان میں اپنی مسر ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یقیناً آپ کے پڑوس میں کئی ایسی عورتیں ہوں گی جو اس تلاش میں رہتی ہیں کہ کسی نہ کسی کی موت کی خبر سن پائیں اور بین اور واویلا میں شامل ہو کر آنسو بہا بہا کر اپنی تمنا پوری کر لیں۔ جرائم اور اموات کی گھناؤنی سے گھناؤنی تفصیلات کی اشاعت یورپ اور امریکہ کے کئی اخباروں کی مقبولیت کا باعث ہے۔ لوگوں کو ان کے پڑھنے میں ایک خاص لطف آتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ یا میں بعض دہشت ناک افسانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو ہمیں اس کا اعتراف کرتے ہوئے محض اس وجہ سے متامل نہ ہونا چاہیئے کہ کہیں لوگ اس کو ہماری طینت کے کسی نقص پر محمول نہ کریں۔ مجھے یقین ہے کہ قدیم زمانے میں رومن قوم کے ہجوم اپنے اکھاڑوں میں پہلوانوں کی لڑائیاں اسی جذبے کے ماتحت دیکھنے آتے تھے۔ ہر کشتی ایک نہ ایک حریف کی موت پر جا کر ختم ہوتی تھی۔ اور کشت و خون کا یہ نظارہ ہزاروں لوگوں کو خوشی کے مارے دیوانہ بنا دیا کرتا تھا۔ ہماری تہذیب اس تجاوز کی متحمل نہیں۔ لیکن افسانوں اور ڈراموں سے لطف اندوز ہونا اب بھی ہمارے بس میں ہے۔ اور اگر ہم اس جذبے کو فن کی کیمیا سے کشید کر کے لمحے بھر کو اپنے اعصاب میں ایک کیف انگیز تھرتھراہٹ پیدا کر لیتے ہیں تو کم از کم میں تو کسی طرح بھی نادم نہیں۔ آپ اپنے دل کو ٹٹول لیجئے۔ اعصاب میں ایک تھرتھراہٹ! بس یہی ان افسانوں کا مقصد ہے اور جس کامیابی، جس خوبی اور جس فن کے ساتھ اس کتاب کے مصنف نے اس مقصد کی تکمیل چاہی ہے اس کی تعریف اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ امتیاز جیسے ذی مطالعہ اہل قلم کو اس کے ترجمے کی خواہش ہو۔ ان لوگوں کے سامنے جو اردو ادب کے مشاہیر سے واقف ہیں اس سے زیادہ قابل وقعت ضمانت نہیں پیش کی جا سکتی۔ مصنف کی سب سے بڑی خوبی خود مترجم نے کتاب کے دیباچے میں واضح کر دی ہے۔ ’’موسیو لیول بے انتہا، سلیس عبارت استعمال کرتے ہیں۔ جس کی پختگی اور روانی پڑھنے میں نظم کا سا لطف دیتی ہے۔ ایک فقرہ یا لفظ بھی ضرورت سے زیادہ یا کم نہیں ہوتا۔ مختلف چیزوں کے بیان میں تناسب کی سمجھ بےحد تیز ہے۔ چنانچہ ان کی ہر مکمل کہانی ایک نفیس اور صاف ستھرے ترشے ترشائے ہیرے کی طرح دل کش معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘ یہ اختصار دہشت انگیز افسانوں کی ایک ضروری صفت معلوم ہوتی ہے۔ اس کے بغیر ان میں وہ تندی وہ تیزی نہیں رہتی جس سے سنسنی پیدا کی جا سکے۔ اور پھر یہ اختصار ہر رنگ میں شامل حال رہتا ہے ورنہ افسانے یا ڈرامے کی کامیابی میں نمایاں طور پر فرق پڑ جاتا ہے اس کی وجہ میں کبھی ٹھیک طور پر سمجھ نہیں سکا لیکن اس کی حقیقت کے متعلق میرے دل میں کوئی شبہ نہیں۔ پیرس کے جس تھیٹر کا میں نے ذکر کیا ہے وہاں اکثر کھیل صرف ایک ایکٹ کے ہوتے ہیں اور خود تھیٹر بھی بہت چھوٹا سا ہے۔ چند دن ہوئے میں نے لندن میں ایک ایسی قسم کا کھیل دیکھا جو ہیو والیول کے ایک ناول سے مرتب کیا گیا ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس کھیل کے لئے بھی لندن کا ایک بہت چھوٹا سا تھیٹر منتخب کیا گیا اس تھیٹر کا نام لٹل تھیٹر یا چھوٹا تھیٹر ہے۔ باقی رہا امتیاز کا ترجمہ، میں حیران ہوں کہ اس مختصر سے تبصرے میں اس موضوع کے متعلق کیا کہوں اور کیا کسی اور وقت پر اُٹھا رکھوں۔ آج کل اردو میں تراجم کثرت سے شائع ہو رہے ہیں اور ضرورت ہے کہ کوئی صاحب فہم ان کے متعلق ایک بسیط تنقیدی مضمون سپرد قلم کر دیں تاکہ ’’چترا‘‘ اور ’’تائیس‘‘ اور ’’مذہب اور سائنس‘‘ اور ’’عذرا‘‘ اور ’’لیلیٰ‘‘ ایسی تصانیف کی ادبی حیثیت کو جانچنے کے لئے ایک معیار مقرر ہو جائے۔ میں ایسی بحث سے گریز کرتا ہوں خصوصاً اس وقت جبکہ میرے زیر نظر صرف ’’ہیبت ناک افسانے‘‘ ہے اور میرا قلم صرف اس کی خدمت میں مصروف ہے۔ یہ کہنا کہ امتیاز صاحب انگریزی جانتے ہیں، اس وقت تک بے معنی فقرہ ہے جب تک کہ میں اس کی مزید تشریح نہ کر دوں آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہ ں کہ ’’گدھا‘‘ کس کو کہتے ہیں۔

کسی انگریزی کے لئے اس لفظ کے معنی سیکھ لینا کچھ مشکل نہیں۔ جانور کی تصویر دکھا دیجئے اور نام بتا دیجئے۔ قصہ ختم ہو گیا۔ لیکن اس لفظ کے ساتھ ’’ابے گدھے‘‘ سے لے کر ’’خرِ عیسیٰ‘‘ تک جو شعر و ادب، فلسفہ و مذہب رسم و عادت، محاورہ اور روز مرہ کی ایک تاریخ وابستہ ہے، اس کو منتقل کرنے کے لئے ایک عمر چاہیئے اور پھر اس کے لئے بصیرت، ذہانت مذاق اور مطالعہ کی ضرورت ہے۔ امتیاز کو خدا نے یہ سب خوبیاں عطا کی ہیں اور یہ ہندوستان کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے اپنی ان قوتوں کو مطالعۂ السنہ اور علم و ادب کی تحصیل کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ ہاں وہ انگریزی جانتے ہیں اسی لئے جب کبھی ان کا کوئی دلدادہ اپنی عقیدت کی وجہ سے ان کے نام کے ساتھ بی اے لکھ دیتا ہے تو مجھے غصہ آتا ہے۔ ان کی اردو پرکھنے کے لئے ہندوستان میں مجھ سے بدرجہا بہتر نقاد موجود ہیں۔ اس کے علاوہ میں امتیاز کے نیاز مندوں میں سے ہوں۔ مجھے سنبھل کر قلم اٹھانا چاہیئے۔ مبادا قارئین میرے جذبات کی تو تعریف کریں لیکن میری تنقید کو محض اظہار نیاز مندی سمجھ کر پس پشت ڈال دیں۔ اس لئے بہتر یہی ہو گا کہ اس کتاب کے ایک دو صفحے آپ اور میں مل کر پڑھیں۔ ’’شام پڑ رہی تھی۔ فقیر سڑک کے کنارے خندق کے پاس کھڑا ہو گیا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا کہ کوئی کونا کھدرا نظر آئے تو وہاں پڑ کر رات بسر کرے۔ اور کوٹ سمجھ لو یا جو کچھ سمجھ لو ایک بورا سا اس کے پاس تھا۔ اسی میں گھس گیا۔ لاٹھی کے سرے پر ایک گٹھڑی سی باندھ کر کندھے پر اُٹھا رکھی تھی، تکیے کی جگہ اسے سر کے نیچے رکھ لیا۔ تھکن سے چور چور ہو رہا تھا بھوکا تھا، پڑ رہا اور نیلے آسمان پر تاروں کو ایک ایک کر کے اُبھرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ سڑک کے دونوں طرف جنگل بیابان پڑا تھا۔ پیڑوں پر چڑیاں نیند میں چپ چاپ تھیں۔ دور بہت فاصلے پر گاؤں ایک بہت بڑا سیاہ دھبہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں سکون اور سناٹے میں لیٹے لیٹے غریب بڈھے کا دل بھر آیا۔ اسے کچھ معلوم نہ تھا میرے ماں باپ کون تھے۔ لا وارث کو ثواب کمانے کے لئے کسی زمیندار نے لے لیا تھا۔ اسی کے ہاں پروان چڑھا تھا۔ بچہ ہی سا تھا تو وہاں سے نکل بھاگا۔ ادھر اُدھر اس فکر میں پھرنے لگا کہ کہیں کچھ کام مل جائے جس سے روٹیوں کا سہارا ہو سکے۔ بڑی کٹھن زندگی گزر رہی تھی۔ دکھوں کے سوا جینے کا کوئی مزا نہ دیکھا تھا۔ جاڑوں کی لمبی لمبی راتیں چکیوں کی دیواروں تلے پڑ کر کاٹ دی تھیں۔ سوال کے لئے ہاتھ پھیلانے کی ذلت اُٹھائی تھی۔ چاہا تھا کہ مر جائے۔ ایسی نیند سوئے کہ پھر کبھی آنکھ نہ کھل سکے۔ جتنے لوگوں سے اب تک واسطہ پڑا تھا۔ بےدرد تھے، شکی تھے۔ سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ معلوم ہوتا تھا ہر ایک اس سے ڈرتا ہے بچے دیکھ پاتے تو بھاگ جاتے۔ کتے اس کو چیتھڑوں میں دیکھ کر بھونکنے لگتے۔ پھر بھی کبھی کسی کا برا نہ چاہا تھا۔ سیدھی سادی اور نیک طبیعت پائی تھی۔ جسے مصیبتوں نے مردہ بنا دیا تھا۔ ‘‘ یہ وہ زبان ہے جو قلعے میں پیدا ہوئی اور جو برسوں تک ’’اہل زبان‘‘ کے لئے باعث فخر و ناز رہی۔ شمالی ہندوستان کے تعلیم یافتہ طبقے کو یہ زبان رتن ناتھ سرشار، داغ اور امیر، نذیر احمد، اور محمد حسین آزاد سے ورثہ میں ملی۔ اور اسی خزانے کے سکوں سے جنہیں خود ’’اہل زبان، محض ممسکوں کی طرح اپنے ہاتھوں ہی میں مل مل کر خوش ہولیتے ہیں۔ اب لاہور کا ادیب فرانس اور انگلستان کا متاع ادب خرید خرید کر ہندوستان میں منتقل کر رہا ہے۔ اس قدیم دولت سے ادب جدید کے بازار میں اپنی ساکھ قائم رکھنا صرف امتیاز ہی کا کام تھا۔ اب ایک اور صفحے کو پڑھئے۔ جو دہلی اور لکھنؤ دونوں سے بے نیاز ہے بلکہ جو اکثر پرانی وضع کے بزرگوں کو اپنی جدت سے برہم کر دے گا۔ ’’اس روز میں بہت دیر تک کام کرتا رہا تھا۔ اتنی دیر تک کہ آخر کار جب میں نے میز پر سے نظریں اٹھائیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ شفق شام سے میرا مطالعہ کا کمرہ لالہ زار بن رہا ہے۔ ذرا دیر تک میں بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔ دماغ پر کسل کی وہ کیفیت طاری تھی جو کسی بڑی ذہنی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بے تعلق نظروں سے ادھر اُدھر تکتا رہا۔ مدھم روشنی میں ہر چیز دھندلی اور بے وضع نظر آ رہی تھی۔

اگر کچھ روشنی تھی تو ان جگہوں پر جہاں غروب ہوتے ہوئے سورج کی آخری شعاعیں میز، آئینے اور تصویر سے منعکس ہو کر روشنی کے دھبے ڈال رہی تھی۔ کتابوں کی الماری پر ایک انسانی کھوپڑی رکھی تھی۔ اس میں شعاعیں ضرور خاص قوت سے منعکس ہو کر پڑ رہی ہوں گی۔ کیونکہ میں نے نظریں اٹھائیں تو وہ مجھے ایسے روشن طور پر نظر آئی کہ گال کی ہڈی سے لے کر جبڑے کے زبردست زاوئے تک ہر حصہ بخوبی واضح تھا۔ شام کا دھندلکا بڑی سرعت سے گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ اور ہر چیز کو جیسے نگلنے جا رہا تھا۔ اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ رفتہ رفتہ مگر قطعی طور پر اس سر میں زندگی کی چنگاری چمک اُٹھی ہے۔ وہ گوشت پوست سے منڈھا گیا ہے۔ دانتوں پر ہونٹ سرک آئے۔ حلقوں میں آنکھیں جڑی گئی ہیں۔ بہت جلد کسی انوکھے سحر سے مجھے ایسا نظر آنے لگا کہ میرے سامنے تاریکی میں گویا ایک سر معلق ہے اور میری طرف تک رہا ہے۔ وہ سر جمی ہوئی نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔ اور اس کے چہرے پر استہزا کا ایک تبسم تھا۔ یہ کوئی اس قسم کا گریز پا تصور نہ تھا جو انسان کا تخیل پیدا کر لیا کرتا ہے۔ یہ چہرہ ایسی حقیقی چیز معلوم ہوتا تھا کہ ایک مرتبہ تو میں بےقرار ہو گیا کہ ہاتھ بڑھا کر اسے چھولوں لیکن یکلخت رخسار جیسے تحلیل ہو کر رہ گئے۔ حلقے خالی ہو گئے۔ ایک ہلکی سی گہر نے اسے ملفوف کر لیا۔ ۔ ۔ اور پھر مجھے عام کھوپڑیوں کی طرح ایک کھوپڑی نظر آنے لگی‘‘۔ یہ اردو نہ بازار میں پیدا ہوئی نہ گھر میں۔ اس نے نہ لشکر میں پرورش پائی نہ قلعے میں۔ بلکہ یہ صرف ملک کے بہترین دماغوں کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ نئی تہذیب کی ضروریات نے اسے ایجاد کیا اور مطالعے اور خوش مذاقی نے اسے یہ دلفریب صورت بخشی۔ اس بارے میں ہمارا ادب سجاد حیدر، ظفر علی خاں، ڈاکٹر اقبال اور ابوالکلام آزاد جیسی شخصیتوں کا ممنون ہے۔ جنہوں نے بعض ایسے دروازے کھول دیئے کہ ترقی کے کئی راستے آنکھوں کے سامنے پھیلتے ہوئے نظر آنے لگے۔ یہ دو مختلف نمونے میں نے امتیاز کی قادر الکلامی کو ثابت کرنے کے لئے پیش کئے ہیں۔ ان پر یہ اعتراض بجا نہ ہو گا کہ ایک ہی تصنیف میں اتنے متبائن ڈھنگ یک رنگی کے منافی ہیں۔ اس کے جواب میں، میں یہ کہوں گا کہ جب آپ کسی ایک ایسی کتاب کو جو ایک غیرملکی تصنیف میں ڈوبی ہوئی ہو،محض اردو جاننے والے ہندوستانیوں کی ضیافت طبع کے لئے کسی دیسی زبان میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ تو یہ یقین مانیے انشاء پردازی کا کوئی ایسا فن نہ ہو گا جس سے آپ بے نیازی برت سکیں۔ اس کے لئے قلم نہیں بلکہ دسوں انگلیاں دس چراغ ہونی چاہئیں۔

پطرس۔ از کیمبرج
(مخزن مئی ۱۹۲۸ء)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سزائے موت یا عام معافی
  • معاشرتی اقدار، قربانیاں اور آزادی کی نعمت!
  • عبد العلیم صدیقی اور تیسری بساط
  • غیر منظم منصوبہ بندیاں!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غمِ دوراں سےفرصت کا کوئی لمحہ چرالینا
پچھلی پوسٹ
کاغذی روپیہ

متعلقہ پوسٹس

زیور کا ڈبہ

فروری 10, 2018

جنتری نئے سال کی

دسمبر 14, 2019

حرفِ تسلی

جنوری 24, 2020

نئے سال کا پہلا کالم محبت کے نام

جنوری 1, 2019

قرآن مجید میں تقویٰ

فروری 25, 2026

نیکی و امانت

اگست 12, 2025

افغانستان میں دہشت گردی کا نیا خطرہ

دسمبر 13, 2025

چڑیل

جولائی 2, 2018

احسان علی

جنوری 17, 2020

سرسراتی ہوا

دسمبر 11, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خمینی کے ایران میں نئے عہد...

جنوری 1, 2026

کارنس

دسمبر 23, 2021

ماں قوم کی استاد ہوتی ہے

جولائی 26, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں