خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکب کوئی فرق پڑرہا ہے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کب کوئی فرق پڑرہا ہے!

از شیخ خالد زاہد جون 7, 2024
از شیخ خالد زاہد جون 7, 2024 0 تبصرے 89 مناظر
90

دنیا اپنے پیشہ ورانہ طرز پر چل رہی ہے،جو دنیا کی آسائشوں سے آراستہ ہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا، سماجی ابلاغ پر افسوس اور اداسی بھی اتنی ہی دیکھائی دے رہی ہے جتنی کے خوشحالی ہے۔ درپردہ یہ خوشحالی بہت تیزی سے بدحالی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے، لوگ اپنے اپنے طرز پراپنے اطراف میں حفاظتی حصار بنا رہے ہیں۔ معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات معاشرے کے افراد پر کسی نا کسی طرح سے اثر انداز ہورہے ہیں کچھ لوگ ایسے عوامل کو وقتی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان سے بھی تعلق بنتا ہے۔انسان جزوقتی معاملات پر زیادہ دھیان دیتا ہے، دوراندیشی ہر کسی کو میسر نہیں ہوتی ایسی ہی خصوصیات انسان کو دوسرے انسانوں میں نمایاں مقام دلاتی ہیں۔ یہ بھی قدرت کے فیصلے ہوتے ہیں کہ وہ کس کو کیا دیتی ہے اور کس کو کیا۔عمومی تاثر ہمارے مضمون کے عنوان سا ہے۔ اپنے کام پر اس حد تک توجہ ہوتی ہے کہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے کسی کو کوئی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے کو ئی کسی طرح سے متاثر ہوسکتا ہے۔ایٹم بم بنانے والے نے اپنے دفاع کا سوچا تھا جبکہ اس سے ہونے والے نقصانات اس کے دفاع کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر وہی ہوتا ہے کہ وقت احساس دلاتا ہے کہ وہ غلط کام کیا تھا جس کی وجہ سے کتنے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔شائد ہماری اکثریت بغیر سوچے سمجھے کارگردگی دکھانے نکل پڑتی ہے جس کی وجہ سے اکثریت کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے یا پھر واپس وہیں کھڑا ہونا پڑتا ہے جہاں سے چلے تھے، منظم حکمت عملی نا ہونے کی وجہ سے فیصلے بدلنے پڑجاتے ہیں جبکہ ترقی منظم حکمت عملی پر منحصر ہوتی ہے۔بااختیار لوگ اپنی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کچھ بھی ایسا کر گزرنے کی چاہ رکھتے ہیں جو ان کی اہمیت کو نمایاں کرے، وہ صرف اس بات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں کہ اس سے انہیں ذاتی کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے چاہے وہ عمل اکثریت کیلئے نقصان دہ ہواور وقت کے ساتھ ساتھ انکے اپنے نقصان کا بھی سبب بن سکتا ہو۔ ہم اس کلیئے کو معاشروں کے استحکام کی جانچ کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ منظم سوچ منظم حکمت عملی ترقی کی راہ تلاش کر لیتی ہے۔

کیا کبھی کسی نے باقاعدہ طور پر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اسرئیل فلسطین تنازع کیا ہے، یہ اسرائیلی فوج آخر نہتے فلسطینیوں کو کیوں اس بے دردی اور بے رحمی سے شہید کر رہے ہیں کیوں یہ عمارتوں کو مسمار کر رہے ہیں، اگر کوئی جانتا ہے تو وہ اس بات کو واضح کیوں نہیں کررہا، اسرائیل اپنے مذہب کی ترویج اور اسے منظم طریقے سے واضح کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز نہیں کر رہے اور ہم ہیں کہ دنیا پر یہ واضح ہی نہیں کر پارہے کہ دراصل اس بربریت کی اصل وجہ کیا ہے۔ہمارے دین اسلام نے مذہب اور دنیا کا ایک اچھوتا نظام زندگی واضح کیا ہے لیکن جیسا کے دنیا کا ماننا ہے کہ مذہب آپ کانجی مسلۂ ہے لیکن دنیا یعنی معاشرہ سب کا مشترکہ مسلۂ ہے۔اسلام کا نظام حیات یہ ہے کہ دنیا میں ہی مذہب ہے اور مذہب میں ہی معاشرت ہے (مکمل ضابطہ حیات) اسی لئے اسلام کو دین کہا گیا ہے، چونکہ ہم نے اپنا دین جزدان میں لپیٹ کر گھر کی کسی اونچی جگہ رکھا ہوا ہے اور کسی کے مرجانے پر اسے دفنانے تک کیلئے استعمال کرتے ہیں پھر اسی طرح سے انچی جگہ پر رکھ دیا کرتے ہیں۔ ہم نے اپنا معاشرہ مختلف مذاہب کی آمزش سے زندگی گزارنے کیلئے ترتیب دیا ہوا ہے۔ دلائل سے نا صحیح لیکن ہمارے اعمال سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ ہم نے اپنی اہمیت کسی ممنوعہ جگہ پر رکھ چھوڑی ہے اور اب اس تک رسائی کے اسباب پوشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔جسے ہم عمومی طور پر نسلی فاصلہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

ساری دنیا میں اسرائیل اور اس کے حواریوں کے خلاف ایک شور مچا ہوا ہے یہاں تک کے مغربی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی ادارے بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انہیں اپنے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ حق اور باطل کی اس جنگ میں بغیر مذہب رنگ و نسل کی تفریق کے سب حق کیلئے کم از کم اپنے تہیں آواز تو اٹھا رہے ہیں اور کسی حد تک صعوبتیں بھی جھیل رہے ہیں لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلم دنیا تقریباً خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اپنے ملکوں میں ایسے کام سرانجام دینے میں لگے ہوئے ہیں جو انکے دنیا وی اقتدار کو دوام دینے میں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ سماجی ابلاغ پر بھی غیر مسلموں کی جانب سے ہی مذمتیں اور آگاہی کی مہم چلائی جا رہی ہیں۔ درحقیقت مسلم معاشرے مختلف طریقوں سے قید و بند کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ہم نے خالق کائنات سے منہ موڑ رکھا ہے اور اس مخلوق کی طرف سے آنے والے اشاروں پر ناچتے ہیں جہاں شائد دنیا کے خزانے ہیں یا پھر کچھ اور۔ ابھی یہ مضمون مکمل نہیں ہوا تھا کہ پاکستان، امریکہ کی کرکٹ ٹیم سے عالمی کپ کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہوگیا ہے۔ جس پر ہم صرف اتنا لکھنے کی جرات کر رہے ہیں کہ بھلا اور کس طرح سے ہم اپنے وفا شعار ہونے کا یقین دلائیں۔ یقینا اس شکست کا تعلق قطعی کسی سیاسی مفاد کیلئے ہوگا لیکن ساری دنیا میں ہونے والی جگ ہنسائی کا سبب تو بن ہی چکا ہوگا۔

روزانہ کٹے پھٹے معصوم بچوں کے جسم ہماری نظروں کو فقط آبدیدہ کر رہے ہیں، کتنی ہی مائیں اپنے ان نونہالوں کو ادھر ادھر ڈھونڈتی بھاگتی پھر رہی ہیں اور ایسے ہی معصوم بچے اپنے والدین سے محروم آس پاس سے گزرتے چہروں میں انکے چہرے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم اس قرب کو محسوس کرنے سے قاصر ہیں جو ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بزرگ فلسطین میں لمحہ لمحہ سہہ رہے ہیں اور اپنی زندگیوں کی قربانیاں دئیے جا رہے ہیں۔ عید الاضحی قریب پہنچ چکی ہے اور اللہ کی خوشنودی کیلئے قربانیوں کے جانور آنا شروع ہوچکے ہیں سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کا فریضہ سرانجام دینے کیلئے تیار ہیں۔ ایک سوال بہت تنگ کر رہا ہے وہ یہ کہ جو قربانی اہل فلسطین اپنے رب کی رضا کیلئے دے رہے ہیں وہ موجودہ وقت میں کسی بھی قربانی سے افضل ہوسکتی ہے، اس کا جواب امت کے جید علمائے کرام ہی دے سکتے ہیں لیکن یہ تو طے ہے کہ معمولاتِ زندگی بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔خاکم بدہن دعاؤں سے زیادہ وہ آہیں اور بددعائیں آسمانوں کا سینہ چیرتی ہوئی سنوائی کیلئے پیش ہورہی ہیں، تب ہی تو جیسے زمین سے سکون نامی شے اٹھا لی گئی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ کب کوئی فرق پڑ رہا ہے۔

شیخ خالد زاہد 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قومی ذمہ داریوں کے تقاضے اور ہم آہنگی
  • آنکھیں
  • بے وزنی روح کی کہانی
  • پہلا پتھر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
دیسی لائف ان کینیڈا
پچھلی پوسٹ
ایسا تو یہاں کچھ بھی نہیں

متعلقہ پوسٹس

مصنوعی ذہانت: انقلابِ ثانی یا پیغام ِ تباہی؟

ستمبر 15, 2023

ایران کے حالات

جنوری 14, 2026

کچھ اس طرح سے مرا ضبط آزماتا رہا

دسمبر 14, 2019

ذکر میرا تو خیالات سے پہلے بھی تھا

جولائی 28, 2020

اُردو غزل کی فنی و فکر ی معراج!

اگست 22, 2022

تجھے لگتا ہے فقط کرکے

مئی 14, 2024

گلی کوچوں میں سنّاٹا ہے یا رب خیر کرنا

مارچ 24, 2020

بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟

جولائی 13, 2022

کشمیر میں بھارتی استعماریت

فروری 6, 2020

ساری کڑیاں مِلا کے بیٹھے ہیں

مارچ 5, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایسے بنیاد ہلاتے ہیں مرے شہر...

جنوری 28, 2020

تختِ دل اس نے چنا پھر

نومبر 16, 2025

قرآن اور انسانی نفسیات

نومبر 5, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں