خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکب کوئی فرق پڑرہا ہے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کب کوئی فرق پڑرہا ہے!

از شیخ خالد زاہد جون 7, 2024
از شیخ خالد زاہد جون 7, 2024 0 تبصرے 54 مناظر
55

دنیا اپنے پیشہ ورانہ طرز پر چل رہی ہے،جو دنیا کی آسائشوں سے آراستہ ہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا، سماجی ابلاغ پر افسوس اور اداسی بھی اتنی ہی دیکھائی دے رہی ہے جتنی کے خوشحالی ہے۔ درپردہ یہ خوشحالی بہت تیزی سے بدحالی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے، لوگ اپنے اپنے طرز پراپنے اطراف میں حفاظتی حصار بنا رہے ہیں۔ معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات معاشرے کے افراد پر کسی نا کسی طرح سے اثر انداز ہورہے ہیں کچھ لوگ ایسے عوامل کو وقتی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان سے بھی تعلق بنتا ہے۔انسان جزوقتی معاملات پر زیادہ دھیان دیتا ہے، دوراندیشی ہر کسی کو میسر نہیں ہوتی ایسی ہی خصوصیات انسان کو دوسرے انسانوں میں نمایاں مقام دلاتی ہیں۔ یہ بھی قدرت کے فیصلے ہوتے ہیں کہ وہ کس کو کیا دیتی ہے اور کس کو کیا۔عمومی تاثر ہمارے مضمون کے عنوان سا ہے۔ اپنے کام پر اس حد تک توجہ ہوتی ہے کہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے کسی کو کوئی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے کو ئی کسی طرح سے متاثر ہوسکتا ہے۔ایٹم بم بنانے والے نے اپنے دفاع کا سوچا تھا جبکہ اس سے ہونے والے نقصانات اس کے دفاع کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر وہی ہوتا ہے کہ وقت احساس دلاتا ہے کہ وہ غلط کام کیا تھا جس کی وجہ سے کتنے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔شائد ہماری اکثریت بغیر سوچے سمجھے کارگردگی دکھانے نکل پڑتی ہے جس کی وجہ سے اکثریت کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے یا پھر واپس وہیں کھڑا ہونا پڑتا ہے جہاں سے چلے تھے، منظم حکمت عملی نا ہونے کی وجہ سے فیصلے بدلنے پڑجاتے ہیں جبکہ ترقی منظم حکمت عملی پر منحصر ہوتی ہے۔بااختیار لوگ اپنی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کچھ بھی ایسا کر گزرنے کی چاہ رکھتے ہیں جو ان کی اہمیت کو نمایاں کرے، وہ صرف اس بات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں کہ اس سے انہیں ذاتی کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے چاہے وہ عمل اکثریت کیلئے نقصان دہ ہواور وقت کے ساتھ ساتھ انکے اپنے نقصان کا بھی سبب بن سکتا ہو۔ ہم اس کلیئے کو معاشروں کے استحکام کی جانچ کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ منظم سوچ منظم حکمت عملی ترقی کی راہ تلاش کر لیتی ہے۔

کیا کبھی کسی نے باقاعدہ طور پر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اسرئیل فلسطین تنازع کیا ہے، یہ اسرائیلی فوج آخر نہتے فلسطینیوں کو کیوں اس بے دردی اور بے رحمی سے شہید کر رہے ہیں کیوں یہ عمارتوں کو مسمار کر رہے ہیں، اگر کوئی جانتا ہے تو وہ اس بات کو واضح کیوں نہیں کررہا، اسرائیل اپنے مذہب کی ترویج اور اسے منظم طریقے سے واضح کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز نہیں کر رہے اور ہم ہیں کہ دنیا پر یہ واضح ہی نہیں کر پارہے کہ دراصل اس بربریت کی اصل وجہ کیا ہے۔ہمارے دین اسلام نے مذہب اور دنیا کا ایک اچھوتا نظام زندگی واضح کیا ہے لیکن جیسا کے دنیا کا ماننا ہے کہ مذہب آپ کانجی مسلۂ ہے لیکن دنیا یعنی معاشرہ سب کا مشترکہ مسلۂ ہے۔اسلام کا نظام حیات یہ ہے کہ دنیا میں ہی مذہب ہے اور مذہب میں ہی معاشرت ہے (مکمل ضابطہ حیات) اسی لئے اسلام کو دین کہا گیا ہے، چونکہ ہم نے اپنا دین جزدان میں لپیٹ کر گھر کی کسی اونچی جگہ رکھا ہوا ہے اور کسی کے مرجانے پر اسے دفنانے تک کیلئے استعمال کرتے ہیں پھر اسی طرح سے انچی جگہ پر رکھ دیا کرتے ہیں۔ ہم نے اپنا معاشرہ مختلف مذاہب کی آمزش سے زندگی گزارنے کیلئے ترتیب دیا ہوا ہے۔ دلائل سے نا صحیح لیکن ہمارے اعمال سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ ہم نے اپنی اہمیت کسی ممنوعہ جگہ پر رکھ چھوڑی ہے اور اب اس تک رسائی کے اسباب پوشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔جسے ہم عمومی طور پر نسلی فاصلہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

ساری دنیا میں اسرائیل اور اس کے حواریوں کے خلاف ایک شور مچا ہوا ہے یہاں تک کے مغربی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی ادارے بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انہیں اپنے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ حق اور باطل کی اس جنگ میں بغیر مذہب رنگ و نسل کی تفریق کے سب حق کیلئے کم از کم اپنے تہیں آواز تو اٹھا رہے ہیں اور کسی حد تک صعوبتیں بھی جھیل رہے ہیں لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلم دنیا تقریباً خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اپنے ملکوں میں ایسے کام سرانجام دینے میں لگے ہوئے ہیں جو انکے دنیا وی اقتدار کو دوام دینے میں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ سماجی ابلاغ پر بھی غیر مسلموں کی جانب سے ہی مذمتیں اور آگاہی کی مہم چلائی جا رہی ہیں۔ درحقیقت مسلم معاشرے مختلف طریقوں سے قید و بند کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ہم نے خالق کائنات سے منہ موڑ رکھا ہے اور اس مخلوق کی طرف سے آنے والے اشاروں پر ناچتے ہیں جہاں شائد دنیا کے خزانے ہیں یا پھر کچھ اور۔ ابھی یہ مضمون مکمل نہیں ہوا تھا کہ پاکستان، امریکہ کی کرکٹ ٹیم سے عالمی کپ کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہوگیا ہے۔ جس پر ہم صرف اتنا لکھنے کی جرات کر رہے ہیں کہ بھلا اور کس طرح سے ہم اپنے وفا شعار ہونے کا یقین دلائیں۔ یقینا اس شکست کا تعلق قطعی کسی سیاسی مفاد کیلئے ہوگا لیکن ساری دنیا میں ہونے والی جگ ہنسائی کا سبب تو بن ہی چکا ہوگا۔

روزانہ کٹے پھٹے معصوم بچوں کے جسم ہماری نظروں کو فقط آبدیدہ کر رہے ہیں، کتنی ہی مائیں اپنے ان نونہالوں کو ادھر ادھر ڈھونڈتی بھاگتی پھر رہی ہیں اور ایسے ہی معصوم بچے اپنے والدین سے محروم آس پاس سے گزرتے چہروں میں انکے چہرے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم اس قرب کو محسوس کرنے سے قاصر ہیں جو ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بزرگ فلسطین میں لمحہ لمحہ سہہ رہے ہیں اور اپنی زندگیوں کی قربانیاں دئیے جا رہے ہیں۔ عید الاضحی قریب پہنچ چکی ہے اور اللہ کی خوشنودی کیلئے قربانیوں کے جانور آنا شروع ہوچکے ہیں سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کا فریضہ سرانجام دینے کیلئے تیار ہیں۔ ایک سوال بہت تنگ کر رہا ہے وہ یہ کہ جو قربانی اہل فلسطین اپنے رب کی رضا کیلئے دے رہے ہیں وہ موجودہ وقت میں کسی بھی قربانی سے افضل ہوسکتی ہے، اس کا جواب امت کے جید علمائے کرام ہی دے سکتے ہیں لیکن یہ تو طے ہے کہ معمولاتِ زندگی بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔خاکم بدہن دعاؤں سے زیادہ وہ آہیں اور بددعائیں آسمانوں کا سینہ چیرتی ہوئی سنوائی کیلئے پیش ہورہی ہیں، تب ہی تو جیسے زمین سے سکون نامی شے اٹھا لی گئی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ کب کوئی فرق پڑ رہا ہے۔

شیخ خالد زاہد 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رضائی
  • پریشے کا مقدر
  • یوم کشمیر اور ہمارا کردار
  • یاد کی دسترس میں رہتی ھوں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
دیسی لائف ان کینیڈا
پچھلی پوسٹ
ایسا تو یہاں کچھ بھی نہیں

متعلقہ پوسٹس

اس خاک کے پیکر کو انسان کا رتبہ دو

مئی 30, 2021

دل پہ دستک عجب گزرتی ہے

اپریل 8, 2020

سیاست کو چھوڑو ریاست کو بچالو

اگست 28, 2022

جھوٹی بات پھیلانے کی سزا

اکتوبر 24, 2024

لاڈلی کا کارنامہ

اگست 7, 2022

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

عیدکادن

جنوری 14, 2021

بے اختیار، بے بس،مجبور

مئی 4, 2020

گلاب ظالم

مئی 21, 2020

تم بھی آؤ نا درختوں کی گھنی چھاؤں میں

فروری 6, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شاخوں میں کوئی اُس کی پرنده...

مئی 20, 2020

اب۔۔۔۔

نومبر 7, 2020

دل میں تیری طلب فزوں ہو...

مارچ 6, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں