120
ہماری سب ریاضت بس ریاضی ہے
ریاضی
ہم ریاضی دان ہیں
اپنا بنایا فارمولا ہیں
ہماری زندگی کے دس کا پورا آٹھواں حصہ تو ہر دم
موت کے ایمن کی ٹھمری گا رہا ہے
یہ اسی بیس کا کلیہ ہے
اسی بیس کا کلیہ
یہ ہم کیا کر رہے ہیں
اک ذرا خود کو ٹٹولو
واقعی جیتے ہیں ہم یا مر رہے ہیں
بہت کم لوگ ہیں
جو مسکرا کر جام صحت
اپنی زندہ ذات کو تجویز کرتے ہیں
پھر اس کو سانس کے شیشے سے ٹکراتے ہیں
پیتے ہیں
بہت کم لوگ ہیں جو زندگی کو زندگی کہتے ہیں
جیتے ہیں
پرندوں کی طرح
چھتنار زندوں کی طرح
ورنہ تو سارے
سانس کے تابوت میں
سہمے ہوئے کلبوت میں
بس زندگی کی فوت جیتے ہیں
یہ عالم
اور ان کے اندھے پیروکار
ہرگز زندگی جیتے نہیں ہیں
موت جیتے ہیں
وحید احمد
پچیس نومبر 2025
