خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرسفر نامہ بھارت – تیسری قسط
اردو تحاریراردو سفر نامے

سفر نامہ بھارت – تیسری قسط

ایک سفرنامہ از حسن عباسی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 2, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 2, 2019 0 تبصرے 424 مناظر
425

سفر نامہ بھارت

دنیا کا تیسرا بڑا شہر دہلی جدید ہندوستان کا بھی دارلحکومت ہے۔ یہ شہر در حقیقت دو شہروں کا مجموعہ ہے۔ پُرانی دہلی جو سترہویں صدی سے مسلمان حکمرانوں کا پایہ تخت ہے۔ شہر کا یہ حصہ آج بھی اس کی بہت سی یادگاروں کا نگہبان ہے۔ اس شہر کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس دوران کچھ عرصہ آگرہ مغلوں کا اوربعدازاں کلکتہ انگریزوں کا درالحکومت رہا لیکن اس شہر کی اہمیت بہرحال برقرار رہی۔ شہر کا دوسرا حصہ نئی دہلی کہلاتا ہے جو انگریزوں کا بسایا ہوا ہے۔ شہر کے قابل دید مقامات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ چاندنی چوک، لال قلعہ، مزارِ حضرت نظام الدین اولیائ، مزارِ امیر خسرو، مزارِ مرزا غالب، دیوانِ عام، دیوانِ خاص، شاہی حمام، موتی مسجد، رنگ محل، جامع مسجد، فیروز شاہ کوٹلہ اور راج گھاٹ ان میں سے چند ہیں۔ نئی دہلی کے اہم مقامات میں کناٹ پیلس، جنتر منتر، لکشمی نارائن مندر، راج پاٹھ، گیٹ آف انڈیا، راشٹرپتی بھون اور سنسد بھون وغیرہ شامل ہیں۔ شہر کے بہت سے عجائب گھر بھی قابلِ دید ہیں۔

اردو بولنے والوں کے لےے دلّی کی اہمیت علمی وادبی بھی ہے۔ دلی کی اہمیت کے لےے تو شاید ایک بات ہی کافی تھی کہ غالب کا شہر ہے۔ اُردو شعر و ادب نے اپنی بہت سی ارتقائی منازل اسی شہر میں طے کیں۔

اس شہر سے گزرنا گویا مسلمانانِ برصغیر کی تاریخ میں سفر کرنا ہے۔

——٭٭٭——

مومن خسرے کی زیارت

ہم بچپن سے ہی سنتے آرہے تھے۔

ہنوز دلی دور است

ہنوز دلی دور است

مگر ہماری ”نیند“ نے اس فارسی محاورے کی حقیقت بھی فاش کر دی امرتسر سے روانہ ہوئے تو ابھی ہماری آنکھ پوری طرح لگنے بھی نہ پائی تھی کہ ہم دلی پہنچ گئے۔

دلی تو دل سے بھی زیادہ نزدیک نکلی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیں ہندو بلوائیوں کے خوف سے رات بھر نیند نہ آتی اور ہم سارا راستہ کلمہ پڑھتے دلّی پہنچتے مگر صرف دلی ہی نہیں دلی کی طرف جانے والا راستہ بھی سپنوں بھرا تھا۔

یہ سفر تو بالکل ننندیاپور کے سفر جیسا تھا۔

ہم دلی کے لےے نا محرم تھے اس لےے اس نے ہمیں دیکھتے ہی اپنا آپ دھند میں چھپا لیا۔ ہم نے بھی لاکھ جتن کیے اس باپردہ شرمیلی دو شیزہ کا کوئی حصہ ہمیں کسی طرح نظر آئے تاکہ ہماری صبح خوشگوار ہو سکے اور منزل پہ پہنچنے کا احساس ہو مگر کامیابی نصیب نہ ہوئی۔

بڑی کمال کی دھند تھی۔

پتہ بھی نہ چلا اور لاجپت بھون پہنچ گئے۔

دھند ایسی کہ سامنے والا

جیسے دیوار سے نکل آیا

یہاں رجسٹر میں نام درج ہوئے اور کمروں کے دروازے کھل گئے ہر کوارٹر کے آگے ایک خوبصورت لان تھا۔ اسکول کی بہت بڑی عمارت، ڈسپنسری اور گراﺅنڈ کے باوجود لاجپت بھون کا ماحول گھر جیسا تھا۔ ہم بڑے مزے سے رہنے لگے۔

ہمارے لےے دو ہندو خدمتگار مقرر تھے ایک کھانا پکانے اوردوسرا باہر سے سودا لانے کے لےے دونوں ہی بہت ہنس مکھ فرمانبردار اور نیک نیت تھے۔ ایک کانام تورا موتھا دوسرے کا اب یاد نہیں آرہا۔ ستیہ جی بھی ایک کمرے میں رہائش پذیر تھے۔ ہم پہلی بار اُن سے ملنے گئے تو ہماری ذہن میں یہ تھا کہ ان کی رہائش کا کمرہ بہت اعلیٰ، جدید ترین سہولیات سے آراستہ اور مرعوب کرنے والا ہو گا۔

کمرے کا دروازہ اُنھوں نے کھولا تو خندہ پیشانی سے ملے جیسا کہ اُن کی عادت تھی اور اندر آنے کو کہا، ہمیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ضروریات زندگی کے علاوہ کوئی سامان فالتو نہ تھا وہی عام بستر جیساکہ سب مہمانوں کے کمروں میں میسر تھا وہی سہولیات جو مہمانوں کے لےے تھیں البتہ کتابیں کافی زیادہ تھیں ہمیں جون ایلیا کا شعر یاد آگیا

میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے اُسے

میرے کمرے میںکتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ان ڈھیروں کتابوں میں ہمیں اپنا مجموعہ کلام ”ہم نے بھی محبت کی ہے“ بھی نظر آیا جو ہم نے ڈھوڈیکے میں ان کو پیش کیا تھا۔ ہمارا خیال تھا وہاں اتنی مصروفیت اور پھر انتظامی ذمہ داریوں کے سبب وہ ہماری کتاب ڈھوڈیکے ہی چھوڑ آئیں گے اور کسی لڑکی کے ہاتھ لگ جائے گی یعنی صحیح ہاتھوں میں پہنچ جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا اور ستیہ جی اُسے باقی کتابوں کی طرح ساتھ لےکر آئے شاید اُنھیں کتابیں اُٹھانا ہی یاد رہا جب ہمیں پتہ چلا کہ ستیہ جی تو اُردو بھی پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں ویسی ہی مایوسی ہوئی جیسی اُن کو ہمارا مجموعہ کلام پڑھ کر ہوئی ہوگی کیونکہ وہ تو ٹھہرے انقلابی لیڈر اور ہم بقول سید امتیاز احمد:

”محبت کی نہیں بلکہ محبت میں شاعری کرنے والے شاعر“ پھر ہمیںیہ سوچ کر خوشی ہوئی کہ محبت سے بڑا انقلاب کوئی اور کیا ہو گا۔

دلّی پہنچ کر ہم آگرہ جانے کےلےے بیتاب تھے مگر ابھی کچھ مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی تھے ایک تو آگرہ کا ویزہ ہمارے پاس نہیں تھا دوسرا ہمارے ساتھ جانے کے لےے کوئی تیار بھی نہیں تھا۔

ایل کے ایڈوانی کاڈنر، امرتا پریتم سے ملاقات اور مشرف عالم ذوقی کے ہاں مشاعرہ باقی لوگوں کو آگرہ جانے سے روک رہا تھا تاج محل کے لےے ان کے دل میں وہ تڑپ نہیں تھی جو ہمارے دل میں تھی ان کی آنکھوں میں اس بے قراری کا شائبہ تک نہیں تھا جو ہماری آنکھوں میں دہک رہی تھی ہم نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا اگر ہمیں بغیر ویزہ کے بھی جانا پڑا تو ضرور جائیں گے چاہے اس کے کچھ بھی نتائج نکلیں۔ ہم سے نثار اے سنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دلی سے ہمیں آگرہ جانے کی اجازت لے دے گا کیونکہ وہ پہلے کئی بار آچکا تھا اور ”اُستاد“ آدمی تھا۔ جب ہم نے اس کو وعدہ یاد دلایا تو اس نے فوراً ایک اور وعدہ کر لیا اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں مشورہ دیا کہ اس عمل میں دو دن لگیں گے بادشاہ سلامت آپ اس دوران دلی فتح کر لیں بعد میں آگرہ کر لیجئے گا اس کا مشورہ ہمیں پسند آیا اس لےے ہم نے اس کی جان بخشی کا حکم صادر فرمایا۔

ہم میر صاحب کی باتوں میں آکر دلی تو پہنچ گئے مگر یہاں آکر پتہ چلا کہ نہ تو دلّی کے گلی کوچے اوراق مصور ہیں اور نہ ہی ہر شکل تصویر جیسی اس لےے ہم جتنے دن دلی میںرہے لَا حَولَ ولاَ قوة پڑھے بغیر بھی شیطان کو بھگانے میں کامیاب رہے بظاہر دلی کی طرح دل کے اُجڑنے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر تھا لہٰذا ہاتھ دل پر رکھنے کی نوبت کم کم آئی البتہ علی ارمان کا یہ شعر بار بار یاد آیا۔

دلی میں اور دل میں بڑا فرق ہے میاں

اک بار اُجڑ گیا تو بسایا نہ جائے گا

ہم چونکہ پبلشر تھے اس لےے دلّی میں ہم نے سب سے پہلے اُردو بازار کا رخ کیا تاکہ اپنی آمد کی اطلاع یہاں کے پبلشرز کو دے سکیں اور وہ ہماری آمد کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے بھر پور فائدہ اُٹھا سکیں اور ہمارے مشوروں سے مستفید بھی ہوں۔ ہماری اونٹنی جس مکتبہ پر رکی وہ اسلامی کتابوں کا مرکز دکھائی دیتا تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ اس لےے رحمت برس رہی تھی کاروباری لوگ گاہک کو رحمت خداوندی سمجھتے ہیں اس مکتبہ کے پبلشر اور سیلزمین حضرات ماشاءاللہ سب کے سب باریش تھے ہم نے جس شخصیت کو اپنے تعارف کے لےے منتخب کیا اُن کا چہرہ پرنور تھا۔

سلام کرنے کے بعد ہم نے اپنا تعارف بطور پبلشر بھرپور طریقے سے کرایا اور ساتھ ساتھ فخریہ انداز میںیہ بھی باور کرا دیا کہ ہم لاہور سے آئے ہیں اور آپ کے مہمان ہیں۔ ابھی ہم نے بات مکمل بھی نہیں کی تھی کہ وہ مولوی صاحب ایک خسرے کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس گستاخی پر ہم سے معذرت بھی نہیں کی لہٰذا ہم بھی شرمندگی مٹانے کے لےے خسرے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ پہلے ہمارا خیال تھا یہ خسرہ بھی پاکستانی خُسروں کی طرح ہوگا۔ پہلے کچھ دیر ناز و انداز دکھائے گا پھر ایک ٹھمکا لگا کر دعا دے گا، دو تین سیکسی باتیں کرے گا اور دس کا نوٹ لے کر چلتا بنے گا مگر یہاں تو گنگا الٹی بہہ رہی تھی اس خُسرے نے اپنے پرس سے بہت سے نوٹ نکالے اور مولوی صاحب کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے کہا کہ ان کے قرآن پاک مسجدوں میں رکھوا دینا اور گاڑی میں بیٹھ کر مکمل شان و شوکت سے روانہ ہو گیا۔ دلی کے خسروں کے متعلق سنا تو بہت تھا مگر دیکھا پہلی بار اور ساتھ ہی ساتھ خدا کا شکر بھی ادا کیا کہ ہمیں ”مومن خُسرے“ کی زیارت نصیب ہوئی تھی۔
ہم جب بھی اپنے تعارف کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے کوئی نہ کوئی مومن خُسرہ جلوہ افروز ہو جاتا اور ہمارے مخاطب مولوی صاحب ہمیں نظر انداز کر کے خُسرے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہم بھی اس کارِ خیر میں رُکاوٹ بننا نہیں چاہتے تھے اس لےے صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا بالآخر ہم اپنا تعارف کرانے میں کامیاب تو ہو گئے مگر یہ ہمارے لےے کوئی نیک شگون ثابت نہ ہوا۔

مولوی صاحب فرمانے لگے۔

”ہمارے لےے کیا لائے“؟

ان کے اس ذومعنی جملے اور خُسروں کی مسلسل آمد نے ہمیں ڈرا دیا۔ یہ تو شکر ہے اُنھوں نے خود وضاحت کر دی ”پاکستان سے کتابیں لائے کہ نہیں؟“ ان کا انداز اب غصے والا تھا۔

ہم نے نفی میں سر ہلایا تو وہ ایک اور خُسرے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اب ہماری مردانگی پر حرف آرہا تھا اس لےے ہم نے وہاں ایک منٹ بھی رکنا گوارا نہیں کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ جب بھی انڈیا آئیں گے کسی بک سیلر اور پبلشر جیسی مخلوق کو شرف ملاقات نہیں بخشیں گے مگر اگلے ہی لمحے اس خیال کے آتے ہی کہ ہمیں کچھ کتابیں از حد ضروری خرید کرنی ہیں یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ پانچوںانگلیاں برابر نہیں ہوتیں ہر شعبہ میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ہم ایک اور پبلشر کے پاس موجود تھے وہاں خُسروں کی عدم موجودگی کے باوجود ہم سے بادشاہوں جیسا سلوک ہوا جیسا کہ بادشاہ، بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں لہٰذا ہم نے بھی انتقاماً ان سے کوئی کتاب نہ خریدی جو کتابیں درکار تھیں کسی اور وسیلے سے منگوا لیں۔ اس کے علاوہ ہم کر بھی کیا سکتے تھے۔

حسن عباسی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک اہم بات جو کہنے جا رہا ہوں
  • میرا نام رادھا ہے
  • رومانوی خیالات کی دنیا
  • نومی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سفر نامہ بھارت – دوسری قسط
پچھلی پوسٹ
سفر نامہ بھارت – چوتھی قسط

متعلقہ پوسٹس

عزت صحت اور محبت

جنوری 25, 2026

سمینٹ میں دفن آدمی

مئی 27, 2023

چھپکلی بے دیوار

دسمبر 17, 2019

حکمرانی صرف اکثریت پر موقوف نہیں ہوتی!!!

اپریل 4, 2026

پاکستان میں خودکش دھماکے

مارچ 16, 2022

نابینا علمائے کرام

دسمبر 12, 2025

بچھو پھوپھی

دسمبر 12, 2019

ختم نبوتؐ پر کوئی سمجھوتہ ۔ نا ممکن

مئی 3, 2020

انت بھئے رت بسنت میرو

جنوری 7, 2020

پاکستان خالی ہو رہا ہے

اگست 15, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

علوم کی بدنصیبی

جنوری 16, 2026

کاغذی روپیہ

جنوری 25, 2020

اکیچ بات ہے

جنوری 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں