790
تم اب جو لکھنا
تم اب جو لکھنا
تو موسموں کی اداس آنکھوں میں خواب لکھنا
کہیں کسی کے اجاڑ رستوں پہ روشنی کے گلاب لکھنا
سیاہ راتوں سے خوف کھا کر دبک نہ جانا
نئی صبح کی نزاکتوں پر طہارتوں کا نصاب لکھنا
تم اب جو لکھنا
تو مسکرا کے تمام شکووں کی سرزمیں کے گلے مٹانا
وہ پھول اصلی یا کاغذی ہوں گلے لگانا
تم اپنی چاہت کی خوشبوؤں سے انھیں منانا
میں چاہتی ہوں تم اب جو لکھنا
تو مجھ کو اپنا رفیق لکھنا
گزشتہ صدیوں کی ضد بھلانا
نئے سرے سے محبتوں کے دیئے جلا نا
تم میری پوروں سے زندگی کی نوید لینا
رفاقتوں کی حسین لے پر محبتوں کی کتاب لکھنا
تم اب جو لکھنا
سلمیٰ سیّد
