خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا ماں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر الیاس عاجز

 ماں

ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن مئی 9, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 9, 2020 0 تبصرے 571 مناظر
572

 ماں 

اللہ رب العزت کاکروڑہا شکرہے کہ اُس نے ہمیں بطورِ انسان پیدافرمایا اور پھر ایک اور حسانِ عظیم یہ بھی کیا کہ ہمیں نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کی اُمت میں پیدا فرمایا جس کے بارے خود اللہ تعالٰی اپنی آخری اور داٸمی کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتا ہے کہ تم بہترین امت ہو جواچھاٸی کا حکم دیتے ہو اور براٸی سے منع کرتے ہو۔یعنی اوامر و نواہی پی عمل پیرا ہو۔۔۔۔۔۔۔
قارٸینِ محتشم! اُسی کتاب میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو۔
اگربڑھاپے کی حالت میں تمھیں دونوں یا ان میں سے ایک بھی ملے تو انھیں اُف تک نہ کہو۔
اُن کے لیے دعا کیا کرو کہ اے میرے رب ! میرے والدین پرشفقت فرما جس طرح انھوں نے مجھے بچپن میں شفقت سے پالا تھا ۔
حضراتِ گرامٸ قدر! دنیا میں آکر ہم کٸی قسم کے رشتوں ناتوں سے دوچار ہوتے ہیں ۔کہیں یاری دوستی کارشتہ، کہیں بہن بھاٸیوں کارشتہ،کہیں چچاٶں پھپھیوں کارشتہ،کہیں خالاٶں ماموٶں کا رشتہ،کہیں بھابھی دیور اور کہیں سالی بہنوٸی کا رشتہ ۔
الغرض ہم جتنے بھی رشتوں میں بندھتے ہیں میری تحقیق ومشاہدے کے مطابق اُن میں صرف ماں اور باپ کا رشتہ ایساجو بے غرض،بےلوث اورہرقسم کےلالچ سے مبرا ہے باقی دنیا کےسب رشتے آہستہ آہستہ یا وقت آنے پر تحلیل ہوجاتے ہیں مگروالدین کارشتہ پیداٸش سےلےکر مرنے کے بعد بلکہ قیامت تک قاٸم رہنے والا ہے۔
میں نے جب اس دنیا فانی میں آنکھ کھولی تومیری ماں اپنی زندگی کی چالیس بہاریں دیکھ چکی تھیں اور بالوں میں کہیں کہیں چاندی اُتررہی تھی۔ماں کسی سکول،مدرسہ،کالج یایونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نہ تھی ۔میرے خیال سے میری ماں اُسی درسگاہ سے فارغ التحصیل تھی جسکےبارے ہادٸ برحقﷺ نے فرمایا کہ ماں کی گود سے گورتک علم حاصل کرو۔یہی وجہ تھی کہ ماں کے ہرکام میں ایک سلیقہ،ترتیب اورحسنِ اہتمام پایا جاتا تھا۔عموماً ہماری آنکھ مدھانی کی آواز کےساتھ کُھلتی جومیری ماں نمازو درود سے فارغ ہوکر دہی کو بلونے کی خاطرچاٹی میں ڈال چکی ہوتی ۔ہم سارے بھاٸی فوراً ہاتھ منھہ دھو مسجد کارُخ کرتے ۔نماز سیپارے سے فارغ ہوکرگھر لوٹتے تو لسی کا ایک ایک گلاس اور مکھن کاچمچہ ہمارا انتظار کررہا ہوتا جو ہماری ماں زبردستی ہمارے منھ میں ڈال دیتیں۔ پھرناشتہ ۔ پھر سکول کی تیاری۔ہرکام میں ایک ترتیب۔ہمیں کبھی محسوس ہی نہ ہوا کہ پریشانی نامی چیز بھی زندگی میں ہوتی ہے۔میری زندگی میں کٸی اکتیس مارچ آٸے جب مجھے سکول بھیج کر میری ماں اپنی بہن یعنی میری خالہ کے ساتھ سکول سے ہمارے گاٶں کےدرآمدی رستے پرگلی میں چارپاٸی بچھاکرمیرے پاس ہونےکا انتظار کرتیں اور میں شرارتًا ہی آدھا کلومیٹرپیچھے رونے والا منھ بناکر ماں کے سامنے آجاتا۔ماں مجھے دبکا کرپوچھتی کہ کیا بنا تمھارا؟میں دو تین آہیں بھر کر اعلان کرتا کہ آپ کا بیٹا پاس ہے تو بےاختیار ماں کی آنکھوں سے خوشی اور تشکر کے آنسوگالوں پر رینگ جاتے۔میری خالہ جن کی شادی ہمارے ہی گاٶں میں ہوٸی تھی حسد اور رشک کے ملےجلے جذبات سے مغلوب ہوکرکہتی ۔بہن! میں نہ کہتی تھی کہ تیرا بیٹا فیل ہوہی نہیں سکتا۔ماں دوپٹے کے پلو سے دس بیس روپے کھول کر مجھے دیتی کہ فوراً ٹافیاں لا کر بانٹو اور خالہ کو سب سے پہلے دینا۔
میں تعلیمی زندگی سے آہستہ آہستہ عملی زندگی کرطرف منتقل ہوتا گیا اور باپ کے ساتھ ساتھ میری ماں بھی میرےلیے مضبوط سہارا بنتی گٸی۔مجھے نہیں یاد کہ میں نے اپنی زندگی میں آنے والی کسی پریشانی کابرملا اظہار اپنی ماں سے کیا ہو مگر میری ماں سب جانتی ہوتی۔میری پیشانی پراُبھرنے والی آڑھی ترچھی لکیروں سے ،میری خاموشی سے اور کھانے میں عدم دلچسپی سے ماں کوفوراً پتہ چل جاتا کہ میں پریشان ہوں حالانکہ ماں نے کہیں سے بھی علمِ نجوم یا علمِ قیافہ نہیں سیکھا تھا ۔ماں کو پتہ چل جاتا تو میری پریشانی کافور۔پھرپریشانی جانے اور ماں جانے۔اور ہاں اُس پریشانی کے خلاف واحد ہتھیار میری ماں کےپاس صرف جاٸے نماز تھااوراللہ رب العزت کے حضور کی گٸی اشکوں سے بھرپور دُعا۔
اپنے خاوندکی سب سے زیادہ وفادار اور خدمتگار میں نے اپنی ماں کو پایا ہے۔بڑھاپے تک میری ماں نے میرے والد کی اطاعت وفرمانبراری کی۔ہم سےکوٸی غلطی ہوجانےپرمیری ماں نے کبھی ہمیں باپ سے ڈرایا نہیں بلکہ احساس دلایا۔والدِ محترم چونکہ عمارتوں کی تعمیر کاکام کرتے تھےاس لیے جیسے ہی شام کو تھکے ہارے گھرلوٹتے موسم کے مطابق ٹھنڈا یا گرم مشروب اُن کا انتظار کررہاہوتا اور ہمارے ہاتھ تاکہ اُن کی ٹانگیں اور سر دبا سکیں۔
ماں نے کبھی پسند نا پسند کااحساس نہ ہونے دیاجوملتا وہ خوشی خوشی کھا لیتیں تاہم ہمارے والد کی خواہش کوہمیشہ مقدم رکھا اور کام پہ جانے سے پہلے رات کے سالن بارے ان سے پوچھنا نہ بھولتیں۔ایک چیز جو میں نے ماں کو تواتر سے کھاتے دیکھا وہ رات کی باسی تنوری روٹی اورشکرملا دہی وہ قریبًا ہرروز کھاتی تھیں کٸی دفعہ میں نے بھی خواہش کی مگر دولقموں کے بعد ہی ہاتھ کھینچ لیا۔گانے، موسیقی اور ٹیلیوژن سے میری ماں کو رتّی برابر دلچسپی نہ تھی تاہم کبھی کام میں بہت زیادہ منہمک ہونے کی وجہ سے وہ بہت ہی مدھم آواز میں پرانی لوریاں گنگناتی رہتیں۔جب کبھی استفسار کیا تو ایک آدھ شعر ہم کو بھی سنادیا جس میں ماٸیں نی ماٸیں اور میرے بابلا جیسے الفاظ کی کثرت ہوتی۔چھبیس مارچ دوہزار تیرہ کادن میرےلیے بڑاحُزن وملال کادن تھا جب صبح سات بج کر تیس منٹ پر میری ماں پچاسی برس اس وادٸ پُرخار میں گزار کرراہی ملکِ عدم ہوٸیں۔ماں کیا گٸی گویا زندگی ایک گھنےاور سایہ داردخت سے محروم ہوگٸی۔زندگی بے آب و گیاہ صحرا لگنے لگی جس میں دور دور تک نہ پانی نہ سبزہ نہ کوٸی خودرو پودا جوتھکے ہارے مسافر کوکچھ دیر تک سراب کی کوفت سے بچا سکے۔ آج جب میں اپنی ماں کا موازنہ دور حاضر کی جدید ماٶں سے کرتا ہوں تویقین کریں دل مسوس کررہ جاتا ہوں۔آج کی ماں دورِ حاضر کے علومِ جدید سے بہرہ ور ہے۔کمپیوٹر چلاناجانتی ہے۔بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہے مگر اس کی ممتا شیلڈ کے فیڈر،ماسٹر کے پیمپرز اورنیسلے کےدودھ میں دفن ہوچکی ہےیہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کے دلوں سے ماں سے محبت ،اطاعت وفرمانبرداری جیسے جذبات دم توڑتے جارہےہیں۔

ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شروعات
  • فرحت پروین
  • آب گم سے
  • پرانی حویلی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
توازن اردو ادب پروگرام نمبر٥٣
پچھلی پوسٹ
طےشُدہ عشق سرِ دار نبھانا ہو گا

متعلقہ پوسٹس

پسماندگان

جنوری 15, 2020

میرے دامن پہ عجب داغ لگا کر سائیاں

مئی 31, 2020

صرف آواز کا فاصلہ تھا

دسمبر 2, 2019

مزدوری

جنوری 28, 2020

بنام سید بدر الدین احمد المعروف بہ فقیر صاحب

دسمبر 6, 2019

جوان رات کی مستی میں ناچنے والا

نومبر 30, 2021

میرے مولا صدا سن لے

اگست 6, 2020

یہ آئینہ جو صاف ہے وہ اور بات ہے

اپریل 4, 2020

کافی تھا یہ کہنا ہی

مئی 20, 2020

آپا

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

الجھن کا حل نہیں مل رہا

ستمبر 18, 2025

شہرِ جاں میں قیام ہے دل...

جون 13, 2020

تدبرِ قرآن

دسمبر 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں