خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامافتخار شاہد کی غزل کا فکری و فنی تجزیہ
آپ کا سلاماردو تحاریرافتخار شاہدتحقیق و تنقیدساحل سلہری

افتخار شاہد کی غزل کا فکری و فنی تجزیہ

از سائیٹ ایڈمن مارچ 12, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 12, 2026 0 تبصرے 72 مناظر
73

7مارچ 2026ء|سیالکوٹ
غزل اردو شاعری کی مقبول صنف ہے کسی بھی دور میں اس کی مقبولیت میں کمی نہ آئی۔ نظم کے متعددادوار گزرے ہیں۔ نظم تحریک کی صورت میں بھی تخلیق ہوئی۔ ترقی پسند شعرا نے نظم کو زیادہ فروغ دیا۔ حلقہ ارباب ذوق سے انسلاک رکھنے والے شعرا نے بھی زیادہ تر نظم ہی کو وسیلہء اظہار بنایا۔اس سے قبل دیکھیں تو اقبال کے زمانے میں بھی نظم کی روایت کو تقویت ملی۔ اقبال نظم کے بڑے شاعر تھے اس کے باوجود غزل کی مقبولیت کم نہ ہوئی۔ موجودہ دور میں آزاد نظم بلکہ نثری نظم کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ایسے وقت میں افتخار شاہد کا شعری مجموعہ” بامِ غزل” غزل گوئی کی صف میں ایک اہم اضافہ ہے۔ مجموعے کا عنوان دراصل ایک علامت ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اب غزل اپنے معیاراور اعتبار کے حوالے سے اتنی richہو چکی ہے کہ بام پر چاند کی صورت چڑھ آئی ہے۔ مطلب یہ کہ اردو غزل دلی دکنی سے لے کر میروسودا تک ،پھر غالب ومومن سے لے کرداغ وحسرت تک، اقبال وفیض ،ناصر وظفر اقبال سے ہوتی ہوئی عباس تابش تک اور اب افتخار شاہد تک زینہ زینہ چڑھ کر بام پر پہنچی ہے۔
افتخار شاہد کا شعری مجموعہ "بام غزل” منظر عام پر آنے کے بعد یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ افتخار شاہد موجودہ دور میں تخلیق پانے والی غزل کی روایت میں غزل پڑھنے ، غزل سنانے والا ایسا منفرد شاعر ہے جو غزل میں نئی گرہ لگاتا ہے۔ یہ غزل کہنے والا ،غزل تصنیف کرنے والا بے باک اور ہنر مند شاعر ہے۔ ان کے ہاں شعریت کا حسن ، غزل کا انداز ،غزلیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ افتخار شاہد انسان اور انسانیت سے محبت کرنے والا شاعر ہے۔ حیاتِ انسانی کے متعدد پہلو ان کی شاعری میں عیاں ہوتے ہیں۔ وہ معاصر حالات اور روزمرہ کی زندگی سے جڑا ہوالگتا ہے۔ اس نے معاشی اور معاشرتی ناہمواری کی بات کی ہے۔ عدل وانصاف ان کی شاعری کا محبوب موضوع ہے۔ انھوں نے سماجی مسائل کو حتی الامکان اجاگر کیا ہے۔ کہیں وہ علامتی انداز میں اربابِ اختیار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ وہ اپنے سماج میں جو کچھ دیکھتے ہیں من وعن بیان کر دیتے ہیں۔
افتخار شاہد کی غزلوں میں محبت اور حقیقت ہم آمیز دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے شعروں میں کہیں خوشی اور غم بغل گیر ہوتے نظر آتے ہیں کہیں زندگی اور موت کا فلسفہ ملتا ہے۔ ان کے ہاں وصال اور فراق کے معانی بدلے ہوئے ملتے ہیں۔ ان کی شاعری آفاقی نوعیت کی ہے اس میں ہر کسی کو اپنے احساسات کا عکس اور اپنی یادوں کی مہک محسوس ہوتی ہے ۔زندگی کی تلخیاں، محرومیاں ، مایوسیاں ، اداسیاں اور ناکامیاں بھی ملتی ہیں۔ نارسائی ان کی شاعری کا ایک اہم استعارہ ہے۔ فنی اعتبار سے افتخار شاہد بہت پختہ شاعر ہیں ان کے ہاں تراکیب ، تشبیہات اور استعاروں کا استعمال بہت خوبصورت ہے۔ وہ خواب کی سیڑھی بناتے ہیں، اشک کو آنکھ کی کھڑکی سے گراتے ہیں۔ شاخِ وصال کا پہلا بور جیسے استعارے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ہاں زبان وبیان کااستعمال مناسب اور محتاط ہے یہ شعر دیکھیے:
ہم کسی دشت میں کر لیں گے بسیرا لیکن
آپ لگتے ہیں سمجھدار کہاں جائیں گے

افتخا شاہد کی چھوٹی اور بڑی دونوں بحر کی غزلوں میں مکمل ہنر مندی نظر آتی ہے۔ وہ غزل کے وقار اور موضوع کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
بامِ غزل پہ خواب کی دلہن اتاریے
حرفِ سخن کو یار کے ہونٹوں سے واریے

ترا جمال کسی روز دن میں دیکھوں گا
ابھی تو رات ہے اور تو دیا بنا ہوا ہے

افتخار شاہد کی ہوئی بات کو اس طرح گرہ لگاتے ہیں کہ وہ ایک دم نئی لگنے لگتی ہے۔
لذتِ وصل سے انکار بھی ہوسکتا ہے
دل ترے ہجر سے سرشار بھی ہو سکتا ہے

افتخار شاہد تخریبی عمل اور تخریب کاری کی مذمت کرتے ہیں۔ وہ تعمیر وترقی اور معاشرے میں مثبت رویوں کوفروغ دینےکی بات کرتے ہیں۔ وہ ایک مہذب معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں امن ،سکون اور خوشحالی ہو۔ ہر شے اپنے اپنے دائرے میں بہہ رہی ہو۔ وہ زندگی میں ایک خاص ترتیب وتوازن چاہتے ہیں۔ وہ انسانی عزت واحترام کو مقدم جانتے ہیں۔
تخریب کے کالے ملبے سے
تعمیر اٹھا کچھ بات بنے

ان کے ہاں آنکھ کی کھڑکی ، خواب کی سیڑھی ، احتیاط کی ٹہنی ، آسماں کی ہتھیلی ، نصب کی تھالی، ریشمی جھولی ، یاد کی گٹھڑی اور شعر ڈالی جیسی خوبصورت علامتیں ملتی ہیں:
پھر یوں ہوا کہ جھیل نے آغوش کھول دی
اک چاند آسماں کی ہتھیلی سے گر پڑا

افتخار شاہد کی غزل میں شعریت کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:
رات بھر آنکھ میں خوابوں کا دھواں ہوتا ہے
پھر کہیں جا کے مرا اشک رواں ہوتا ہے

بات کرنے کے لیے لفظ ضروری تو نہیں
حال آنکھوں کی زبانی بھی بیاں ہوتا ہے

تری صورت سے بھی دلکش ہے تکلم تیرا
مجھ کو ہر لحظہ محبت کا گماں ہوتا ہے۔

افتخا ر شاہد خزاؤں میں ہرےمیں ہرے والے اور محبت کا گماں رکھنے والے شیریں زباں شاعر ہیں۔ آدمی کو مشکل حالات میں بھی آسانی سے جینا چاہیئے کیوں کہ زندگی خدا کی عطا کی ہے۔ اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا ممکن نہیں۔ نہ ہی اپنی اداسی، نارسائی، ناکامی اور محرومی پر کسی کو موردالزام ٹھہرائیں:
ایسی مشکل ہے کی گزارا بھی نہیں کر سکتے
زندگی تجھ سے کنارا بھی نہیں کر سکتے

لوگ تو پوچھتے رہتے ہیں اداسی کا سبب
ہم تری سمت اشارہ بھی نہیں کر سکتے

افتخارشاہد کی شاعری میں محبت ، انسان دوستی، احساسات اور جذبے کی مہک ملتی ہے۔ وہ عصری شعور اور زندگی کی متنوع جہتیں رکھنے والے شاعر ہیں۔ افتخار شاہد نئے زاویے سے غزل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ محبت اور حقیقت ان کی غزل کا بنیادی حوالہ ہیں۔ ان کی غزل قاری کو نئے دریچوں تک لے جاتی ہے۔ ان کی غزل میں متعدد جمالیاتی اور فکری پہلو دکھائی دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ساحل سلہری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟
  • آدھے چہرے
  • میری کہانی
  • آصف نے کہا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تقریب پزیرائی و مشاعرہ
پچھلی پوسٹ
قلم کی طاقت اور ذمہ داری

متعلقہ پوسٹس

بنام مولوی منشی حبیب اللہ خاں المتخلص بہ ذکاؔ

دسمبر 8, 2019

سنگم کا ٹینڈوا

نومبر 21, 2019

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

گلزارِ دل

مئی 27, 2025

حافظ نعیم صاحب کو سلام

جنوری 30, 2026

علمی احتیاط

جنوری 17, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

جسمانی طاقت کی بنیاد

اپریل 1, 2023

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 2)

نومبر 3, 2025

اس کھیل میں ایسا مرا کردار نہیں تھا

جون 21, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قوال پارٹی

نومبر 27, 2019

اسے کہنا

جنوری 12, 2026

نہ میں درویش ٹھہرا ہوں

اگست 17, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں