600
سب سے پہلے انہیں رعنائی ودیعت کی ہے
اور پھر دہر کو زیبائی ودیعت کی ہے
جس پہ قربان چمن آرائی بھی ہونا چاہے
ان کو خالق نے وہ تنہائی ودیعت کی ہے
آپ نے سب کو اذیت سے نکالا اک دن
آپ نے آئنہ پیمائی ودیعت کی ہے
ان سے اوجھل نہیں رفتارِ زمانہ سے کچھ
ان کو مالک نے وہ بینائی ودیعت کی ہے
مجھ کو در کار ہے اس کا کوئی ذرہ اسعد
آپ کو رب نے جو گہرائی ودیعت کی ہے
بلال اسعد
