102
دیپ خود ہی بجھانا پڑتا ہے
رنج یوں بھی اٹھانا پڑتا ہے
منزلیں کب نشاں بتاتی ہیں
راستہ خود بنانا پڑتا ہے
زندگی راگ ہے خوشی کا مگر
جوگ میں گنگنانا پڑتا ہے
ورنہ یہ لوگ برا مانتے ہیں
قرب میں مسکرانا پڑتا ہے
منہ پہ کہتا ہوں اس لئے شائد
آپ کو تازیانہ پڑتا ہے
طارق جاوید
