102
اپنا ہونا بنا رہا ہوں میں
دل سے دنیا بنا رہا ہوں میں
ایک دھڑکا لگا ہے سینے کو
ایسا بھی کیا بنا رہا ہوں میں
دل کو بیلہ بنایا اب اس پر
ہیر رانجھا بنا رہا ہوں میں
رد میں کرتا ہوں سب رویوں کو
رستہ اپنا بنا رہا ہوں میں
پہلے کاغذ پہ پیاس لکھا تھا
اس پہ صحرا بنا رہا ہوں میں
طارق جاوید
