508
اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہیئے
تازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہیئے
اے مرے چارہ گر ترے بس میں نہیں معاملہ
صورت حال کے لیے واقف حال چاہیئے
اہل خرد کو آج بھی اپنے یقین کے لیے
جس کی مثال ہی نہیں اس کی مثال چاہیئے
اس کی رفاقتوں کا ہجر جھیلئے کب تلک سلیمؔ
اپنی طرح سے اب مجھے وہ بھی نڈھال چاہیئے
سلیم کوثر
