خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامصحافت اور بلیک میلنگ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

صحافت اور بلیک میلنگ

از سائیٹ ایڈمن مئی 22, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 22, 2026 0 تبصرے 68 مناظر
69

صحافت جو کبھی (شاید کبھی) ایک پاکیزہ جذبہ، مظلوم کی آواز اور معاشرے کا آئینہ ہوا کرتی تھی، آج کل بلیک میلنگ، دشنام طرازی اور گھٹیا ترین ذہنی پستی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماضی میں صحافی بننے کے لیے علم، مطالعے، زبان پر عبور اور ایک طویل فکری تربیت کی ضرورت ہوتی تھی، مگر آج کے اس ڈیجیٹل دور میں اہلیت کا معیار بالکل بدل چکا ہے۔ آج ہر وہ شخص جس کے پاس ایک سستا سا موبائل فون ہے، جس کا انٹرنیٹ پیکج فعال ہے اور جسے یوٹیوب پر چینل بنانا یا فیس بک پر لائیو آنا آتا ہے، وہ راتوں رات خود کو ارسطوِ وقت، سینیئر تجزیہ نگار اور چیف رپورٹر سمجھنے لگا ہے۔ ان نوآموز اور خود ساختہ دانشوروں کی نظر میں رائی کے برابر کوئی عام سا واقعہ بھی ایک ایسا پہاڑ بن جاتا ہے جسے اچھال کر وہ سستی شہرت اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔

ابھی کل ہی کا واقعہ ہے، ایک کالج میں بارہویں جماعت کے طالب علموں کو امتحانی رول نمبر سلپس جاری کی گئیں اور انہیں امتحانات کی تیاری کے لیے کالج سے باقاعدہ فارغ (Free) کر دیا گیا۔ برسوں کی سخت محنت اور امتحانی دباؤ سے عارضی نجات پاتے ہی بچے فرطِ جذبات میں جھوم اٹھے۔ انہوں نے کالج کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی اپنی پرانی اور استعمال شدہ کاپیوں کے چند ورق ہوا میں اچھال دیے۔ یہ ایک ایسا فطری، معصومانہ اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں دیکھا جانے والا روایتی ردعمل تھا جسے کسی بھی صورت کوئی بڑا جرم یا اخلاقی زوال نہیں گردانا جا سکتا۔ مگر بدقسمتی دیکھیے کہ اسی دوران وہاں سے چند "موبائل بردار صحافی” گزرے۔ انہوں نے فوراً کیمرے نکالے، زمین پر بکھرے کاغذوں اور نعرے لگاتے بچوں کی ویڈیو بنائی، اور چہرے پر مصنوعی سنجیدگی سجائے سیدھے پرنسپل کے دفتر میں جا دھمکے۔ وہاں بیٹھ کر وہ ایک طویل تعلیمی و انتظامی تجربہ رکھنے والے سربراہِ ادارہ کو اخلاقیات اور بچوں کی تربیت کا درس دینے لگے کہ "دیکھیے! آپ نے بچوں کو یہ تربیت دی ہے؟ ہم یہ ویڈیو ابھی سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں اور حکامِ بالا کو دکھا کر آپ کی جواب طلبی کروائیں گے”۔ اور پھر آخر میں… بات وہی آ کر رکی جہاں اس پورے دھندے کی اصل حقیقت چھپی ہوتی ہے، یعنی کوئی "لو لینی دے لینی” کی جائے، کوئی مک مکا ہو، ورنہ کیمرے کی توپ کا رخ ادھر ہی رہے گا۔

رائی کے ایسے مصنوعی پہاڑ روزانہ ہمارے آس پاس کھڑے کیے جاتے ہیں۔ کسی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں اگر کوئی ڈاکٹر کسی حادثے کے شدید زخمی مریض کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہو، اور اسی دوران کاؤنٹر پر بیٹھا کوئی کلرک کسی مریض کی پرچی کاٹنے میں دو منٹ کی تاخیر کر دے، تو یہ صحافی ڈاکٹر کی محنت کو پسِ پشت ڈال کر کلرک پر کیمرہ تان لیتے ہیں۔ "دیکھیے جی! غریبوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، ہسپتال تباہ ہو گئے، عملہ غائب ہے، وزیرِ اعلیٰ نوٹس لیں!”۔ ان کا مقصد نظام کی اصلاح نہیں، بلکہ انتظامیہ کو خوفزدہ کر کے اپنی مفت ادویات یا ذاتی اثر و رسوخ قائم کرنا ہوتا ہے۔

اسی طرح کسی سرکاری دفتر میں اگر کوئی بوڑھا کلرک شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے عالم میں پسینے سے شرابور، فائلوں کے ڈھیر میں گم، محض سستانے کے لیے دو منٹ کے لیے کرسی پر ٹیک لگا لے، تو یہ چھپ کر اس کی ویڈیو بنا لیتے ہیں۔ پھر سوشل میڈیا پر ٹائٹل چلتا ہے: "سرکاری ملازمین کے عیاشی کے مناظر، غریب عوام ذلیل و خوار، افسر شاہی سو رہی ہے”۔ وہ کلمہ گو یہ نہیں سوچتا کہ اس جھوٹی سنسنی خیزی سے ایک سفید پوش انسان کی نوکری اور عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔

حد تو یہ ہے کہ سڑک کنارے کوئی غریب ریڑھی بان، جو تپتی دھوپ میں دو وقت کی روٹی کے لیے پیاز بیچ رہا ہو، اگر وہ اپنے ترازو کو درست کرنے کے لیے دو سیکنڈ لیتا ہے، تو یہ مائیک اس کے منہ میں ٹھونس دیتے ہیں: "بولیے! آپ عوام کو لوٹ رہے ہیں؟ انتظامیہ کہاں سو رہی ہے؟”۔ اس غریب کی غربت کا تماشا بنا کر یہ اپنے چینل کے لیے ویوز بٹورتے ہیں، مگر دوسری طرف بڑے بڑے مافیاز اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے ان کے مائیک کی بیٹری اچانک ختم ہو جاتی ہے۔

پرائمری اسکولوں کا حال دیکھ لیجیے، جہاں کوئی معصوم استانی بچوں کو پڑھانے کے بعد تھکن سے چور ہو کر میز پر سر رکھ لے، یا کوئی استاد کلاس روم کا پنکھا خراب ہونے پر بچوں کو درخت کے سائے میں بٹھا کر پڑھانے لگے، تو یہ تعمیری پہلو دیکھنے کے بجائے چیخنا شروع کر دیتے ہیں: "اسکول مویشی خانہ بن گیا، بچوں کا مستقبل اندھیرے میں، ہیڈ ماسٹر معطل کیا جائے!”۔

یہ بلیک میلنگ، یہ سستی شہرت کی بھوک اور اخلاقی دیوالیہ پن اس جدید صحافت کا اصل چہرہ بن چکا ہے۔ کیمرے اور انٹرنیٹ کی طاقت نے ان کچے ذہنوں کو ایک ایسا ہتھیار دے دیا ہے جسے وہ معاشرے کے معززین، اساتذہ اور اداروں کے خلاف بلا خوف و خطر استعمال کر رہے ہیں۔ جب تک ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی نہیں کی جاتی، اور جب تک سنسنی خیزی کے اس کاروبار کا بائیکاٹ نہیں کیا جاتا، تب تک معاشرے کا کوئی بھی عزت دار شہری، استاد یا افسر ان ڈیجیٹل ڈاکوؤں کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غم کا فسانہ
  • کشتی رہی بھنور میں کنارا نہیں ملا
  • نفرت کیسے کی جائے؟
  • سید ضمیر جعفری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وقت کی قدر اور انسان کی غفلت
پچھلی پوسٹ
محسن خالد محسن کی شخصیت اور شاعری

متعلقہ پوسٹس

پسند کی شادی

جنوری 4, 2022

دیباچہ بانگِ درا

فروری 2, 2020

عیادت کرنامنع ہے

دسمبر 16, 2019

سونورل

مارچ 20, 2020

سایہ در غبارِ شام

فروری 8, 2025

پہلا قدم ہی پہلا انعام ہے

جولائی 5, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے

فروری 20, 2026

جستجوِ صبحِ نو

دسمبر 15, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ترجیحات

مئی 8, 2020

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا...

دسمبر 14, 2019

اُردو زبان پر اعتراضات

نومبر 6, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں