108
تاروں کے سائے سائے بہت دور جائیں گے
شاید کہ آسماں کے مضافات آئیں گے
الفاظ پر طلسمِ خیالات پھونکیے
اشعار اپنے آپ ہی جادو جگائیں گے
جاگو تو ہاتھ آتی ہیں خوابوں کی کترنیں
ہم خواب جوڑ جوڑ کے رلی بنائیں گے
اٌلٹے قدم چلیں گے زمانے کی راہ پر
گزرے ہوؤں کا نام و نشاں ڈھونڈ لائیں گے
بنتے بگڑتے رہتے ہیں آواز کے نقوش
لہروں کے اِرتعاش سے یہ جھلملائیں گے
فرشِ توہمات میں کھودیں گے اک سرنگ
اس راستے سے کوئے اساطیر جائیں گے
دنیا میں زندگی کا ہے سرکس لگا ہوا
ہم سب تماشبین ہیں کرتب دکھائیں گے
رقصاں رہیں گی سامنے تاعمر خواہشیں
اِن اپسراؤں کو کبھی ہم چھو نہ پائیں گے
ایسی غزل ہوئی ہے کہ چکرا گئے خیال
سلمان بن پیے بھی ذرا ڈگمگائیں گے
سلمان ثروت
