101
من موجی ہے ایک ڈگر میں رہتا ہے
دل کا دریا روز سفر میں رہتا ہے
ایک پتنگ اُڑتی ہے، میری سوچ میں
ڈورلیے، وہ پس منظر میں رہتا ہے
کون لکیریں کھینچ رہا ہے، آنگن میں
کون ہے جو اس خالی گھر میں رہتا ہے
روز میں ان گلیوں کی خیر مناتی ہوں
روز اک شعلہ خیز خبر میں رہتا ہے
کب تک میں گھر کے دروازے بند کروں
خوف یہ کیسا بام و در میں رہتا ہے
چنتے تھے شہتوت کبھی ان رستوں میں
اب پیپل کا پیڑ نظر میں رہتا ہے
فرحت زاہد
