403
ناؤ اس کی ہے جہاں چاہے اتارے مجھ کو
چھوڑ جائے کسی تنکے کے سہارے مجھ کو
منتظر میں تو ہوں خورشید کا اے ظلمت ِ شب
کس لیے کرتا ہے مہتاب اشارے مجھ کو
میں کہ گرداب میں غرقاب ہوا جاتا ہے
پھر اٹھا لائی ہے اک لہر کنارے مجھ کو
میری چاہت پہ ہوس کا جو گماں ہےاس کو
آزمائش سے کسی روز گزارے مجھ کو
میری منزل تری سوچوں سے بہت آگے ہے
راہ دکھلائیں گے کیا ترے ستارےمجھ کو
جانبِ قریہ ء معلوم سفر ہے میرا
کوئی بستی نہ کوئی دشت پکارے مجھ کو
پھر سرابوں پہ سمندر کا گماں ہے صائب
پھر ستاتے ہیں یہ فطرت کے نظارے مجھ کو
صدیق صائب
