100
دیکھتے ہیں کیا ہو گا فیصلہ عدالت میں
وقت لے تو آیا ہے آئینہ عدالت میں
کاش کوئی شہزادہ سچ بتانے آ جائے
شہر والے سنتے ہیں شور سا عدالت میں
نیند سے نکل آئے خوف سے نہیں نکلے
بے نیام کرنا ہے حوصلہ عدالت میں
صبر چھوٹتا ہے اب , ضبط ٹوٹتا ہے اب
جو کبھی نہ سوچا تھا وہ ہوا عدالت میں
دردسن رہی ہوں میں کرب چن رہی ہوں میں
زندگی کا لکھنا ہے مرثیہ عدالت میں
فرحت زاہد
