350
یہ سچ ہے میں نے دریا کا بہاؤ روک رکھا ہے
مگر میں نے ہی بستی کا کٹاؤ روک رکھا ہے
خدا کا نام لیتے ہی بلا رستے سے ہٹ جائے
اذاں ہونے تلک میں نے پڑاؤ روک رکھا ہے
رہا ثابت قدم ہر معرکے میں، سب نے ہے دیکھا
وہ میں ہوں جس نے دشمن کا دباؤ روک رکھا ہے
مرے اجداد کی قدریں کبھی بھی مٹ نہیں سکتیں
ابھی تک شہر میں اُن کا سُبھاؤ روک رکھا ہے
تمھارے گھر کو جلنے سے بچایا ہے بھلا کس نے
وہ میں ہوں جس نے یہ خونی الاؤ روک رکھا ہے
کسی کے حد سے بڑھنے کی حمایت میں نہیں کرتا
محبت سے قبیلوں کا تناؤ روک رکھا ہے
اُسے احسان کا بدلہ ملے گا ایک دن صابرؔ
وہ جس نے میرے پاؤں کا جماؤ روک رکھا ہے
ایوب صابر
