587
خوبرویوں سے یاریاں نہ گئیں
دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں
عقل صبر آزما سے کچھ نہ ہوا
شوق کی بے قراریاں نہ گئیں
دل کی صحرا نوردیاں نہ چھٹیں
شب کی اختر شماریاں نہ گئیں
ہوش یاں سدِّ راہِ علم رہا
عقل کی ہرزہ کاریاں نہ گئیں
تھے جو ہم رنگِ ناز ان کے ستم
دل کی امّید واریاں نہ گئیں
حسن جب تک رہا نظّارہ فروش
صبر کی شرمساریاں نہ گئیں
طرزِ مومن میں مرحبا حسرت
تیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں
حسرت موہانی
