105
لرزاں ہیں ابھی دیکھ کے باہر کی اداسی
آنکھوں پہ عیاں کیسے ہو اندر کی اداسی
پیوست , مرے سینے سے نکلا تو زمیں پر
کچھ دیر ٹپکتی رہی , خنجر کی اداسی
اک صبح پرندوں نے پڑھا صبر کا نوحہ
اک شام کُھلی پیڑوں پہ منظر کی اداسی
کیوں کوئی خوشی راس نہیں آتی ہے مجھ کو
کیوں ڈھونڈ رہی مجھکو جہاں بھر کی اداسی
جو وحشتِ صحرا کی طرفداری میں گم ہے
لاؤ اسے دکھلاؤ مرے گھر کی اداسی
میں بھانپ گیا تیز ہواؤں کا ارادہ
عجلت میں چراغوں کے برابر کی اداسی
ارشاد سماعت پہ کسی بار کی صورت
خاموش مگر گہرے سمندر کی اداسی
ارشاد نیازی
