102
دل خراب کے احکام ٹھیک لگنے لگے
لئے جو فیصلے ناکام ٹھیک لگنے لگے
مرا شمار انہی سرپھروں میں ہوتا ہے
جنہیں اداسی سر شام ٹھیک لگنے لگے
سماعتوں کو خموشی کی وہ اذیت دو
کہ اردگرد کا کہرام ٹھیک لگنے لگے
ہماری خاک پہ کوزہ گروں نے محنت کی
تو تب یہ فرق پڑا دام ٹھیک لگنے لگے
چلوں تو دل کہے رک جائے گھومتی دنیا
رکوں تو گردش ایام ٹھیک لگنے لگے
ہماری ٹوٹنے کے بعد ایسی حالت ہے
کہ گھر کے خستہ در و بام ٹھیک لگنے لگے
کبھی لگے نہیں مجھ سے برا سلوک ہوا
کبھی کہانی کا انجام ٹھیک لگنے لگے
غلط کو اتنے تسلسل سے ٹھیک کہتے رہو
کہ جو غلط ہو وہی کام ٹھیک لگنے لگے
کومل جوئیہ
