363
آئینے کے جب منظر افتاد میں ڈھلتے ہیں
تب جاکے کہیں پیکر ایجاد میں ڈھلتے ہیں
ہم چپ ہیں میاں لیکن تاریخ بتا تی ہے
کچھ لوگ یہاں مر کر بنیاد میں ڈھلتے ہیں ہیں
یادوں کی ان آنکھوں میں اک لاش ہے لاوارث
سو اشک مرے اکثر فریاد میں ڈھلتے ہیں
موجودہ روایت تو مصنوعی بناوٹ ہے
سو چھوڑ کے یہ محور بنیاد میں ڈھلتے ہیں
میں نے ہی تراشا ہے ہاتھوں سے جنہیں اپنے
اسعد وہ سبھی پتھر ہمزاد میں ڈھلتے ہیں
