634
آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے
ظلمتوں میںکرن سوالی ہے
حادثے لوریوں کا حاصل ہیں
وقت کی آنکھ لگنے والی ہے
آئینے سے حضور ہی کی طرح
چشم کا واسطہ خیالی ہے
حسن پتھر کی ایک مورت ہے
عشق پھولوں کی ایک ڈالی ہے
موت اک انگبیں کا ساغر ہے
زندگی زہر کی پیالی ہے
ساغر صدیقی
