495
ظلم مٹتا نہیں معافی سے
چین آتا ہے بس تلافی سے
جب سے لازم ہوا ہے وہ مجھ پر
لوگ لگنے لگے اضافی سے
اس کو بھاتی ہیں جھیل سی آنکھیں
میرے دو نین ہیں غلافی سے
یوں تو کرتا ہے جاں فِدا مجھ پر
کام لیتا ہے ___انحرافی سے
کیسے کہہ دوں خفا نہیں ہو تم
سن کے الفاظ اختلافی سے
میرے زخموں پہ رکھ دیا مرہم
وہ جو لایا تھا ربِّ شافی سے
اس پہ چنداں اثر نہیں ہوتا
سر ہلاؤں بھی گر منافی سے
منزّہ سیّد
