103
دیکھ لو پھر یہ ستارہ نہیں روشن ہونا
بجھ گیا میں تو دوبارہ نہیں روشن ہونا
کشتیوں والے مری رمز سمجھتے ہوں گے
ایسے ہی مجھ پہ کنارہ نہیں روشن ہونا
ہو بھی سکتا ہے یہ آئینہ کسی پر روشن
ہاں مگر سارے کا سارا نہیں روشن ہونا
مجھ میں اک آگ ہے جو آپ بھڑک اٹھے گی
اس طرح مجھ کو گوارا نہیں روشن ہونا
ہم جب آئے تو یہاں پہلے سے طے تھا سب کچھ
یعنی ایمان ہمارا نہیں روشن ہونا
کاش یہ اہلِ سخن بات کی تہہ تک پہنچیں
صرف لفظوں سے نظارہ نہیں روشن ہونا
لاکھ ترکیب کیے جاتے ہوں مٹی سے چراغ
کار گر مان یہ گارا نہیں روشن ہونا
اک یہی بات تو روشن ہے ازل سے آزر
عشق میں سود و خسارہ نہیں روشن ہونا
دلاور علی آزر
