623
زندگی سفر میں ہے
زندگی سفر میں ہے اور اس کے پاؤں میں
آبلے پڑے ہیں جو ان سے رس رہا پانی
دشتِ نارسائی کو دے رہا ہے سیلا پن
قہقہوں میں سسکی ہے اور جینا رسکی ہے
پھر بھی لب ہنسیں گے اورآنکھ کے کناروں سے
دل کی راہ گزاروں تک بڑھ گیا ہے گیلا پن
تشنگی میں زندہ تھا تھر کا وہ پرندہ تھا
قید سے نکل کر بھی پھڑ پھڑا کے گرتا ہے
شام ہونے والی ہے گھل رہا ہے نیلا پن
قتل عام جاری ہے جگنوؤں کا جنگل میں
اور ہوائیں پیاسی ہیں خون چوس لینے سے
اس گلابی تتلی میں ڈھل رہا ہے پیلا پن!
سلمیٰ سیّد
