357
اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں
دست دعا میں رکھا ہوا آئنہ ہوں میں
اب جا کے ہو سکے گی محبت وثوق سے
خود سے بچھڑتے وقت کسی سے ملا ہوں میں
آباد ہے خزانے کی افواہ سے وجود
متروک جنگلوں کا کوئی راستہ ہوں میں
دستار کاغذی ہے فضیلت ہے نام کی
چھوٹوں کی مہربانی سے گھر میں بڑا ہوں میں
رو کر نہ سویا جائے تو کیا نیند کا جواز
بستر کی ہر شکن میں پڑا جاگتا ہوں میں
ہوں اپنی روشنی کی اذیت میں مبتلا
جلتا ہوا چراغ ہوں الٹا پڑا ہوں میں
اظہر فراغ
