خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےجسم اور رُوح
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

جسم اور رُوح

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 31, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 31, 2020 0 تبصرے 466 مناظر
467

جسم اور رُوح

مجیب نے اچانک مجھ سے سوال کیا

’’کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو؟‘‘

گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ دنیا میں ایسے کئی اشخاص موجود ہیں جو ایک منٹ کے اندر اندر لاکھوں اور کروڑوں کو ضرب دے سکتے ہیں، ان کی تقسیم کرسکتے ہیں۔ آنے پائی کا حساب چشم زدن میں آپ کو بتا سکتے ہیں۔ اس گفتگو کے دوران میں مغنی یہ کہہ رہا تھا

’’انگلستان میں ایک آدمی ہے جو ایک نظر دیکھ لینے کے بعد فوراً بتا دیتا ہے کہ اس قطعہ زمین کا طول و عرض کیا ہے۔ رقبہ کتنا ہے۔ اس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنی اس خداداد صلاحیت سے تنگ آ گیا ہے۔ وہ جب بھی کہیں باہر ٗ کھلے کھیتوں میں نکلتا ہے تو ان کی ہریالی اور ان کا حسن اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور وہ اس قطعہ زمین کی پیمائش اپنی آنکھوں کے ذریعے شروع کر دیتا ہے۔ ایک منٹ کے اندر وہ اندازہ کر لیتا ہے کہ زمین کا یہ ٹکڑا کتنا رقبہ رکھتا ہے ٗ اس کی لمبائی کتنی ہے چوڑائی کتنی ہے ٗ پھر اسے مجبوراً اپنے اندازے کا امتحان لینا پڑتا ہے۔ فیٹر سٹیپ کے ذریعے سے اس خطہ ءِ زمین کو ماپتا اور وہ اس کے اندازے کے عین مطابق نکلتا۔ اگر اس کا اندازہ غلط ہوتا تو اسے بہت تسکین ہوتی۔ بعض اوقات فاتح اپنی شکست سے بھی ایسی لذت محسوس کرتا ہے جو اسے فتح سے نہیں ملتی۔ اصل میں شکست دوسری شاندار فتح کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ میں نے مغنی سے کہا

’’تم درست کہتے ہو۔ دنیا میں ہر قسم کے عجائبات موجود ہیں۔ ‘‘

میں کچھ اور کہنا چاہتا تھا کہ مجیب نے جو اس گفتگو کے دوران کافی پی رہا تھا، اچانک مجھ سے سوال کیا

’’کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو؟‘‘

میں سوچنے لگا کہ مجیب کس آدمی کے متعلق مجھ سے پوچھ رہا ہے ٗ حامد۔ نہیں ٗ وہ آدمی نہیں میرا دوست ہے۔ عباس ٗ اس کے متعلق کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوسکتی تھی۔ شبیر ٗ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ آخر یہ کس آدمی کا حوالہ دیا گیا تھا۔ میں نے مجیب سے کہا

’’تم کس آدمی کا حوالہ دے رہے ہو؟‘‘

مجیب مسکرایا

’’تمہارا حافظہ بہت کمزور ہے۔ ‘‘

’’بھئی ٗ میرا حافظہ تو بچپن سے ہی کمزور رہا ہے۔ تم پہیلیوں میں باتیں نہ کرو۔ بتاؤ وہ کون آدمی ہے جس سے تم میرا تعارف کرانا چاہتے ہو۔ ‘‘

مجیب کی مسکراہٹ میں اب ایک طرح کا اسرار تھا۔

’’بوجھ لو‘‘

’’میں کیا بوجھوں گا جبکہ وہ آدمی تمہارے پیٹ میں ہے۔ ‘‘

عارف ٗ اصغر اور مسعود بے اختیار ہنس پڑے۔ عارف نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا

’’وہ آدمی اگر مجیب کے پیٹ میں ہے تو آپ کو اس کی پیدائش کا انتظار کرنا پڑے گا۔ ‘‘

میں نے مجیب کی طرف ایک نظر دیکھا اور عارف سے مخاطب ہوا: میں اپنی ساری عمر اس مہدی کی ولادت کا انتظار نہیں کرسکتا ہوں۔ ‘‘

مسعود نے اپنے سگریٹ کو ایش ٹرے کے قبرستان میں دفن کرتے ہوئے کہا

’’دیکھیے صاحبان! ہمیں اپنے دوست مسٹرمجیب کی بات کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے‘‘

یہ کہہ کر وہ مجیب سے مخاطب ہوا

’’مجیب صاحب فرمائیے آپ کو کیا کہنا ہے۔ ہم سب بڑے غور سے سنیں گے۔ ‘‘

مجیب تھوڑی دیر خاموش رہا۔ اس کے بعد اپنا بُجھا ہوا چرٹ سُلگا کر بولا:

’’معذرت چاہتا ہوں کہ میں نے اس آدمی کے متعلق آپ سے پوچھا جسے آپ جانتے نہیں۔ ‘‘

میں نے کہا

’’مجیب تم کیسی باتیں کرتے ہو ٗ بہر حال ٗ تم اس آدمی کو جانتے ہو۔ ‘‘

مجیب نے بڑے وثوق کے ساتھ کہا!

’’بہت اچھی طرح۔ جب ہم دونوں برما میں تھے تو دن رات اکٹھے رہتے تھے۔ عجیب و غریب آدمی تھا۔ ‘‘

مسعود نے پوچھا !

’’کس لحاظ سے؟‘‘

مجیب نے جواب دیا

’’ہر لحاظ سے۔ اس جیسا آدمی آپ نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ ‘‘

میں نے کہا:

’’بھئی مجیب اب بتا بھی دو وہ کون حضرت تھے۔ ‘‘

’’بس حضرت ہی تھے۔ ‘‘

عارف مسکرایا: چلو ٗ قصہ ختم ہوا۔ وہ حضرت تھے ٗ اور بس۔ ‘‘

مسعود یہ جاننے کیلیے بیتاب تھا کہ وہ حضرت کون تھا۔

’’بھئی مجیب ٗ تمہاری ہر بات نرالی ہوتی ہے۔ تم بتاتے کیوں نہیں ہو کہ وہ کون آدمی تھا جس کا ذکر تم نے اچانک چھیڑ دیا‘‘

مجیب طبعاً خاموشی پسند تھا۔ اس کے دوست احباب ہمیشہ اس کی طبیعت سے نالاں رہتے۔ لیکن اس کی باتیں جچی تلی ہوتی تھیں۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا:

’’معذرت خواہ ہوں کہ میں نے خواہ مخواہ آپ کو اس مخمصے میں گرفتار کر دیا۔ بات در اصل یہ ہے کہ جب یہ گفتگو شروع ہوئی تو میں کھو گیا۔ مجھے وہ زمانہ یاد آگیا جس کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ‘‘

میں نے پوچھا

’’وہ ایسا زمانہ کونسا تھا؟‘‘

مجیب نے ایک لمبی کہانی بیان کرنا شروع کر دی:

’’اگر آپ سمجھتے ہوں کہ اس زمانے سے میری زندگی کے کسی رومان کا تعلق ہے تو میں آپ سے کہوں گا کہ آپ کم فہم ہیں۔ ‘‘

میں نے مجیب سے کہا

’’ہم تو آپ کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کم فہم ہیں تو ٹھیک ہے۔ لیکن وہ آدمی۔ ‘‘

مجیب مسکرایا

’’وہ آدمی آدمی تھا۔ لیکن اس میں خدا نے بہت سی قوتیں بخشی تھیں۔ ‘‘

مسعود نے پوچھا:

’’مثال کے طور پر۔ ‘‘

’’مثال کے طور پر یہ کہ وہ ایک نظر دیکھنے کے بعد بتا سکتا تھا کہ آپ نے کس رنگ کا سوٹ پہنا تھا ٗ ٹائی کیسی تھی۔ آپ کی ناک ٹیڑھی تھی یا سیدھی۔ آپ کے کس گال پرکہاں اور کس جگہ تل تھا۔ آپ کے ناخن کیسے ہیں۔ آپ کی داہنی آنکھ کے نیچے زخم کا نشان ہے۔ آپ کی بھنویں منڈی ہوئی ہیں۔ موزے فلاں ساخت کے پہنے ہوئے تھے ٗ قمیص پوپلین کی تھی مگر گھر میں دُھلی ہوئی۔ ‘‘

یہ سن کر میں نے واقعتا محسوس کیا کہ جس شخص کا ذکر مجیب کر رہا ہے عجیب و غریب ہستی کا مالک ہے۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا :

’’بڑا معرکہ خیز آدمی تھا۔ ‘‘

’’جی ہاں ٗ بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔ اس کو اس بات کا زعم تھا کہ اگر وہ کوئی منظر کوئی مرد ٗ کوئی عورت صرف ایک نظر دیکھ لے تو اسے من و عن اپنے الفاظ میں بیان کر سکتا ہے جو کبھی غلط نہیں ہوں گے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا اندازہ ہمیشہ درست ثابت ہوتا تھا۔ ‘‘

میں نے پوچھا کیا یہ واقعی درست تھا۔

’’سو فیصد۔ ‘‘

ایک مرتبہ میں نے اس سے بازار میں پوچھا یہ لڑکی جو ابھی ابھی ہمارے پاس سے گزری ہے ٗ کیا تم اس کے متعلق بھی تفصیلات بیان کرسکتے ہو؟‘‘

میں اس لڑکی سے ایک گھنٹہ پہلے مل چکا تھا۔ وہ ہمارے ہمسائے مسٹر لوجوائے کی بیٹی تھی۔ اور میری بیوی سے سلائی کے مستعار لینے آئی تھی۔ میں نے اسے غور سے دیکھا اس لیے بغرض امتحان میں نے مجیب سے یہ سوال کیا تھا۔ مجیب مسکرایا :۔

’’تم میرا امتحان لینا چاہتے ہو۔ ‘‘

’’نہیں۔ نہیں۔ یہ بات نہیں۔ میں۔ میں۔ ‘‘

’’نہیں تم میرا امتحان لینا چاہتے ہو۔ خیرٗ سنو ! وہ لڑکی جو ابھی ابھی ہمارے پاس سے گزری ہے اور جسے میں اچھی طرح نہیں دیکھ سکا، مگر لباس کے متعلق کچھ کہنا فضول ہے اس لیے کہ ہروہ شخص جس کی آنکھیں سلامت ہوں اور ہوش و حواس درست ہوں کہہ سکتا ہے کہ وہ کس قسم کا تھا۔ ویسے ایک چیز جو مجھے اس میں خاص طور پر دکھائی دی ٗ وہ اس کے داہنے ہاتھ کی چھنگلیا تھی۔ اس میں کسی قدر خم ہے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن مضروب تھا۔ اس کے لپ اسٹک لگے ہونٹوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آرائش کے فن سے محض کوری ہے۔ ‘‘

مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس نے ایک معمولی سی نظر میں یہ سب چیزیں کیسے بھانپ لیں۔ میں ابھی اس حیرت میں غرق تھا کہ مجیب نے اپنا سلسلہ ءِ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا

’’اس میں جو خاص چیز مجھے نظر آئی وہ اس کے داہنے گال کا داغ تھا۔ غالباً کسی پھوڑے کا ہے۔ ‘‘

مجیب کا کہنا درست تھا۔ میں نے اس سے پوچھا۔

’’یہ سب باتیں جو تم اتنے وثوق سے کہتے ہو ٗ تمہیں کیونکر معلوم ہو جاتی ہیں؟‘‘

مجیب مسکرایا

’’میں اس کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اس لیے کہ میں سمجھتا ہوں ہر آدمی کو صاحبِ نظر ہونا چاہیے۔ صاحبِ نظر سے میری مردا ہر اس شخص سے ہے جو ایک ہی نظر میں دوسرے آدمی کے تمام خدو خال دیکھ لے۔ ‘‘

میں نے اس سے پوچھا

’’خدوخال دیکھنے سے کیا ہوتا ہے؟‘‘

’’بہت کچھ ہوتا ہے۔ خدو خال ہی تو انسان کا صحیح کردار بیان کرتے ہیں‘‘

’’کرتے ہوں گے۔ میں تمہارے اس نظریے سے متفق نہیں ہوں۔ ‘‘

’’نہ ہو۔ مگر میرا نظریہ اپنی جگہ قائم رہے گا۔ ‘‘

’’رہے۔ مجھے اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ بہر حال ٗ میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انسان غلطی کا پُتلا ہے۔ ہو سکتا ہے تم غلطی پر ہو۔ ‘‘

’’یار ٗ غلطیاں درستیوں سے زیادہ دلچسپ ہوتی ہیں‘‘

’’یہ تمہارا عجیب فلسفہ ہے۔ ‘‘

’’فلسفہ گائے کا گوبر ہے۔ ‘‘

’’اور گوبر؟‘‘

مجیب مسکرایا

’’وہ۔ وہ۔ اُپلا کہہ لیجیے ٗ جو ایندھن کے کام آتا ہے۔ ‘‘

ہمیں معلوم ہوا کہ مجیب ایک لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو گیا ہے پہلی ہی نگاہ میں اس نے اس کے جسم کے ہر خدوخال کا صحیح جائزہ لے لیا تھا۔ وہ لڑکی بہت متاثر ہوئی جب اسے معلوم ہوا کہ دنیا میں ایسے آدمی بھی موجود ہیں جو صرف ایک نظر میں سب چیزیں دیکھ جاتے ہیں تو وہ مجیب سے شادی کرنے کیلیے رضا مند ہو گئی۔ ان کی شادی ہو گئی۔ دلہن نے کیسے کپڑے پہنے تھے ٗ اس کی دائیں کلائی میں کس ڈیزائن کی دست لچھی تھی۔ اس میں کتنے نگینے تھے۔ یہ سب تفصیلات اس نے ہمیں بتائیں۔ ان تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ ان دونوں میں طلاق ہو گئی۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رَہروِ تفتہ
  • رقصِ شرر
  • بے کاری
  • رفوگر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہر جذبۂ غم کی تلخی میں
پچھلی پوسٹ
جنٹلمینوں کا بُرش

متعلقہ پوسٹس

الاؤ

مئی 23, 2023

پاکستانی افسانہ

مئی 23, 2026

یوگا – جسم اور ذہن کے سکون کا سفر

اگست 29, 2025

اچھرہ واقعہ کے قابل غور پہلو

مئی 10, 2024

زندگی اک کھلی کتاب ھے

دسمبر 26, 2025

اشعار کی صحت کے متعلق تیسرا کالم

جولائی 15, 2020

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

چچا چھکّن نے جھگڑا چکایا

اگست 22, 2022

پرانے برچ کے درخت کے نیچے

جنوری 28, 2025

کرنسی نوٹوں کی تبدیلی

ستمبر 1, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لذتِ وصال کا راز

جنوری 8, 2025

زندگی کی بقاء کیلئے!

اکتوبر 31, 2021

بابرکت مہینہ رمضان المبارک

مارچ 29, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں