خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکِنّی کا راجکمار
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

کِنّی کا راجکمار

از سائیٹ ایڈمن جنوری 30, 2023
از سائیٹ ایڈمن جنوری 30, 2023 0 تبصرے 45 مناظر
46

ہاں تو صاحبان… قدردان… مہربان
جگر تھام کر بیٹھ جائیے۔ جی چاہے تو اٹھ جائیے
اپنے مایوس چہروں پر ہنسی لائیے۔ دنیا سے تھوڑی غشی لائیے
بہت رو چکے۔ بے حسی لائیے
صاحبان… قدردان… میں کون ہوں۔ کیا ہوں۔ کیوں ہوں
یہ سب آپ جانتے ہیں
مجھے دل سے مانتے ہیں
یہ آپ کی بستی ہے
جہاں جان سستی ہے
روز کوئی مرتا ہے
اور مرنے سے ڈرتا ہے
موت تو برحق ہے
اوپر بھی دوزخ ہے
میرے پاس جنت ہے۔ میرے پاس سپنے ہیں۔ آپ سبھی اپنے ہیں۔
یہ کون سی بستی ہے
جو ہمیشہ سسکتی ہے
چیخ ہے پکار ہے
غصہ ہے انگار ہے۔ کچھ ہونے کا انتظار ہے
یہاں سپنوں کا شاسن ہے
اور ہوا میں آسن ہے
جہاں سورج بیکار ہے
اندھیروں کا بیوپار ہے
میرے پاس تیج کا بھنڈا رہے
تو حاضرین! آپ کے سامنے سپنوں کا راجکمار ہے
میں جانتا ہوں۔ کنّی بھی بھوکی ہے۔ مہرالنساء بھی دکھی ہے
کنّی کو روٹی کا انتظار ہے۔ مہرالنساء شادی کے لئے بے قرار ہے۔ تو صاحبان۔ قدردان۔ آج میں مہر النساء کو لڑکا دوں گا اور کنّی کو روٹی۔ یہ رہی میرے سپنوں کی جھولی۔ دھیرے دھیرے سبھوں کو خوشی دوں گا۔ چلو کنّی چلو۔ میرے ساتھ چلو میری دنیا میں چلو۔ ارے گھبراؤ نہیں۔ کچھ پل کے لئے تو زندہ رہنے کی کوشش کرو۔ کنّی اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو مجھے دے دو۔ اپنی بڑی بہن مہرالنساء کو بھی سمجھاؤ کہ ابا اس کی شادی کر ہی نہیں سکتے۔ اب وہ چھتیس کی ہو گئی ہے۔ آنکھوں کے نیچے کالے دھبے آ گئے ہیں۔ ہڈیاں ہر طرف سے ابھرنے لگی ہیں۔ کنّی سمجھاؤ اسے کہ ابا نہیں لاسکتے اب دو وقت کی بھی روٹی۔ بھلا مہرالنساء کی شادی کہاں سے کریں گے۔ کنّی تم بھی پندرہ سال کی ہو گئی ہو اور اب تک روتی ہو روٹی کے لئے! تمہیں تو اور بھی رونا ہو گا۔ دیکھ لو مہرالنساء کی آنکھوں کے نیچے ابھرتے ہوئے کالے دھبے کو۔ تم نہیں ڈرتیں اس دھبے سے؟ تم نہیں ڈرتیں جگہ جگہ سے نکلنے والی ہڈیوں سے؟ کنّی…! میری اچھی کنّی۔ تم ابھی کام کی ہو۔ ہونٹوں کے لئے جام سی ہو۔روٹی کے لئے رونا چھوڑ دو۔ اپنے جیون کی نیاّ موڑ دو۔ اوہ! اب تم کیا سوچنے لگی۔ تم ایسی گمبھیرتا سے مت جیو۔ اس سے پہلے کہ کنّی سے قمرالنساء بن جاؤ۔ آؤ میرے ساتھ آؤ۔ میں لال پری بنا دوں گا۔ دیکھو میری جھولی میں رکھے ہیں، رنگ برنگ کے پریوں کے پر۔ تمہیں اپنے لئے جو اچھا لگے چن لو۔ ہاں ہاں آؤ میرے ساتھ آؤ۔ اب مت دیکھو مہرالنساء کی طرف۔ بڑھو۔ آگے بڑھو کنّی۔ مت منانے کی کوشش کرو مہرالنساء کو۔ وہ جانتی ہے اپنی حقیقت۔ وہ آنکھوں کے نیچے جمے کالے دھبے کو لے کر کہاں جائے گی؟ تھوڑا سفر اور طے کرنا ہے اسے۔ پھر راہ میں ہی مر جائے گی۔ کنّی! اگر تم نے سب کچھ پا لیا تو بدل جائیں گے حالات بھی۔ مہرالنساء کے دس سال کم کر دینے، اسے گوشت پوست میں تبدیل کرنے، صرف ایسا ہی نہیں، موت کے انتظار میں، جینے والے تمہارے ابا کو جینے کی چاہت دلانے کی بھی گارنٹی۔ کنّی کیا سوچ رہی ہو۔ تم خوبصورت ہو۔ زندہ ہو۔ پھر کاہے کا غم…! اچھا ایسا کرو آج کی رات سوچ لو۔ کل کا دن بھی تمہارا۔ چلو نیند آنے تک دوسری شب کی آدھی رات بھی تمہاری۔ میں پھر آؤں گا پچھلے پہر۔ اگر کھلی آنکھوں کا سپنا ہو تو میرے ساتھ چلنا۔ سونے دینا مہرالنساء اور ابا کو۔ا نہیں اب جگانے کی بھی ضرورت نہیں ہے لیکن تم جو اور آنے والی راتوں میں ان کے ساتھ سوئیں تو میں تمہاری بستی سے چلا جاؤں گا۔ کنّی تم میرے ساتھ نہیں آئیں تو کوئی خواب پورا نہیں ہو گا مہرالنساء اور تمہارے اباکا۔ میں رات کے پچھلے پہر آؤں گا۔ تم سوچ لینا۔ خوب سوچ لینا۔
سپنے لے کر آنے والا نوجوان اپنی چھڑی ہلاتا ہوا چلا جاتا ہے۔ چونکہ ایک امید دے کر وہ رخصت ہوا تھا اس لئے کنّی نے روکا نہیں۔ اس کے جانے کے بعد مہرالنساء نے کنّی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ بوسیدہ کمرے میں لوٹ آئی۔
آج پہلی رات تھی۔
مہرالنساء کا یوں بھی برسوں سے نیند سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ اپنی آنکھیں بند کیے سوچتی رہی۔ آج کنّی بھی اس کی بیداری میں شامل تھی۔ مہر النساء نے محسوس کیا کہ وہ بے چین ہے۔
’کیا ہوا کنّی… سو کیوں نہیں جاتی؟‘
’ہاں سو جاؤں گی…‘
’کنّی کیا سوچا ہے تم نے…‘
’کچھ بھی نہیں۔‘
’تو پھر کیوں جاگ رہی ہو؟‘
’اب تو حد ہو گئی۔ دو دنوں سے پیٹ میں کچھ بھی نہیں، تو پھر نیند کہاں سے آئے گی۔‘
’کنّی…! میں تیری بڑی بہن ہوں۔ برا تو نہیں چاہ سکتی۔ تو مجھ جیسا کیوں بننا چاہتی ہے۔ ابا کسی لائق نہیں رہے۔ اماں تھیں تو کس طرح گھر میں رونق تھی، کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ کیا گئیں۔ سب کچھ؟ ابا شرافت کے پردے میں رہ کو خود بھی ایک روز گزر جائیں گے۔ تو بھی مجھ جیسی ہو کر مت رہنا کنّی۔ ہم پردے کے باہر نہیں جا سکتے۔ صرف مل سکتے ہیں سپنوں کے راجکمار سے۔ میرا راجکمار تو بوڑھا ہو گیا ہے۔ وہ برسوں سے میرے پاس نہیں آتا۔ تیرا راجکمار ڈھیر ساری امنگوں کے ساتھ تیرے پاس آیا ہے۔ تو چلی جا اس کے ساتھ۔‘
’لیکن باجی …تم…!‘
’کنّی…! میں ؟ میں ہوں کہاں ؟ تجھے لگتا ہے کہ میں کہیں ہوں ؟ تو نے نہیں دیکھا راجکمار تجھے بلانے آیا تھا۔ تیرے لئے اس نے روپ بھی بدل لیا تھا۔ مجھے تو اس نے ایک پُل سمجھ رکھا تھا۔ مجھے چونکانے کے لئے پرانے زخم کرید رہا تھا۔‘
مہرالنساء بولتی رہی۔ بہت دیر تک بولتی رہی۔ پھر وہ بہک جاتی ہے۔ اندھیروں میں جا کر کچھ تلاش کرنے لگتی ہے۔ اپنی چکٹ سی پوٹلی سے نکالتی ہے بندیا۔ ٹوٹا ہوا آئینہ۔ اور چاہ کر بھی کوئی روشنی نہیں ملتی کہ وہ اپنے ماتھے پر اسے چمکتے ہوئے اس آئینے میں دیکھ سکے۔ تب وہ دیر تک رات کو سرکتے ہوئے دیکھتی رہتی ہے۔ دیکھتی ہی جاتی ہے۔ وہ اپنے روایتی مگر بوڑھے راجکمار کے بارے میں پھر سے سوچنے لگتی ہے۔
گھریلو تعلیم مکمل کرنے کے بعد پورے خاندان میں صوم و صلوٰۃ کے پابند ہونے کی خوبیوں نے اس میں زبردست اعتماد بھر دیا تھا۔ اس قدر پُرخلوص کہ ہر کوئی پنے گھر کی بہو بنانے کے لئے بے چین۔ ڈگری یافتہ نہ ہونے کے باوجود اخباروں اور رسائل پر گہری نظر رکھتی تھی۔ آئی۔اے۔ ایس کی تیاری کرنے والے اپنے خالہ زاد بھائی میاں شبو سے وہ اکثر بحث کرتی تھی۔ چونکہ دونوں بچپن سے ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے اس لئے گھر والوں کے سامنے نفسیاتی سطح پر غیر محرم ہونے کا مسئلہ بھی نہیں اٹھ پایا تھا۔
جنرل نالج کے معاملے میں اکثر مہرالنساء شبو بھائی پر حاوی ہو جاتی تھی۔ شبو بھائی کہتے کہ یہ تیاری تمہیں کرنی چاہئے تھی تومہرالنساء کہہ دیتی کہ یہاں نالج سے زیادہ ڈگری کی اہمیت ہے۔ کیونکہ ہمارا ایجوکیشنل سسٹم ہی کچھ ایسا ہے کہ چاہے صلاحیتیں ہوں کہ نہ ہوں، لیکن ڈگریوں کا بوجھ بہت ضروری ہے۔ میرے ابا کی تو انگریزی اتنی اچھی ہے کہ ان کے ڈرافٹ پر نام نہاد ڈگری یافتہ چاہ کر بھی غلطی نہیں نکال سکے۔ لیکن…؟
شبو بھائی مہرالنساء کی ذہانت سے بخوبی واقف تھے۔ اسے بہت پسند بھی کرتے تھے۔ یہاں تک کہ صوم و صلوٰۃ کی پابند لڑکی کو جسم و جان کی اہمیت سے واقف کروایا۔ اسے عشق مجازی کی تمام تر لذتوں سے گزارنے کی کامیاب کوشش کرتے ہوئے زندگی بھر ساتھ رہنے کا اعتماد بھی دے ڈالا۔ مہر النساء خواب دیکھنے لگی۔ وہ دلہن کے روپ میں سجی سنوری۔ ڈھولک کی تھاپ، میراثن کی بے سُری آواز۔
بنّو تیرا مکھڑا لاکھ کا رے
بنّو تیرا بیسر لاکھ کا رے
بنّو تیری نتھیا ہے ہزاری
بنّو تیری انکھیاں سرمے دانی
پھر ایک گھر،ایک خوبصورت خاوند، بچے، دفتر، انتظار، نوک جھونک، راز کی باتیں، تفریح۔
لیکن شبو بھائی آئی۔ اے۔ ایس آفیسر نہیں ہو سکے۔ سخت ذہنی الجھنوں میں گرفتار ہوئے۔ سارے خاندان میں، مورد الزام مہرالنساء کو ٹھہرایا گیا اور پھر بدنامیاں گھر سے گلی اور گلی سے بازار پہنچیں۔ شبو بھائی دو تین عشقیہ تجربوں کے بعد ایک تجربہ کار عورت نما لڑکی کی گرفت میں آ گئے۔ اور پھر بمشکل کلرک ہوئے اور چار بچیوں کے باپ بننے کے بعد داڑھی بڑھا لی۔ سخت مذہبی ہو گئے۔ مہرالنساء کے بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھنے لگے۔ لیکن بیچاری مہرالنساء کر بھی کیا سکتی تھی۔ اس نے جو نہیں کیا ان گناہوں کی سزا جھیل رہی تھی۔ اب تو زندہ رہنے کے لئے شبو بھائی کو راجکمار کے روپ میں دیکھنا اس کی مجبوری تھی۔ اور ایسے میں جب دور سے آتی ہے فجر کی اذان کی آواز تو وہ ابا کے لئے وضو کا پانی رکھ دیتی ہے اور خود مصلّیٰ بچھا کر بیٹھ جاتی ہے کہ اب اکثر اسے وضو کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتی، صرف جھک کر کچھ سوچتی رہتی ہے۔ چاہتی ہے آنکھوں میں آنسو آئے لیکن یہ دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔
اس روز کنّی کو اپنے ہاتھوں سے خوب سجایا سنوارا۔ اپنی بندیا اس کے ماتھے پر لگا دی۔ سورج کی کرنوں میں اس کا روپ اور بھی دمکنے لگا۔ ایسا لگا جیسے گھر کی کھوئی ہوئی رونق لوٹ آئی ہو۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کنّی اتنی خوبصورت بھی ہے۔ سپنوں کے راجکمار کی نگاہ پر مہرالنساء کو رشک ہونے لگا تھا۔ اس روز کنّی کو بھوک بھی نہیں لگی۔ وہ امیدوں کے ساگر میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی اور جب جب وہاں سے ابھرتی ہتھیلیاں موتیوں سے بھری ہوتیں۔ وہ کنارے پر کھڑی مہرالنساء کی طرف سب کچھ اچھالتی جاتی۔ مہرالنساء ساحل پر ہی مچلتی رہتی۔
شام سے ہی سپنوں کے راجکمار کا انتظار تھا۔ کنّی بار بار دریچے کی طرف دیکھتی اور پھر بے چینی کے عالم میں بوسیدہ کمرے میں ٹہلنے لگتی۔ مہرالنساء اس کی بے بسی میں جینے کی آرزوؤں کو محسوس کرتے ہوئے بہت خوش تھی۔ وہ جانتی تھی کہ راجکمار وعدے کے مطابق رات کے پچھلے پہر آئے گا لیکن انتظار فیصلے کو مستحکم بنانے کے لئے ضروری تھا۔ اس نے کنّی کو نہیں سمجھایا کہ راجکمار رات کے پچھلے پہر آئے گا۔ اسے خوف تھا کہ کہیں کنّی سو نہ جائے کیونکہ وہ کھلی آنکھوں کی راجکماری کے لئے آنے والا تھا۔ نیند میں ڈوبی ہوئی کنّی کے لئے نہیں۔ کچھ اور رات گزرتی ہے۔ مہرالنساء جان بوجھ کر بستر پر جا کر آنکھیں بند کر لیتی ہے اور وہ کنّی کی بے چینی کو محسوس کرتی رہتی ہے۔ کنّی اس دوران ابا کے کمرے میں بھی جاتی ہے۔ انہیں بھی روز کی طرح مضمحل پاتی ہے۔ سوچتی ہے کہ کیسے انہیں زندہ کیا جائے۔ وہ تو اب زور سے کھانس بھی نہیں سکتے۔ نہ جانے ایک ٹک کیا دیکھتے رہتے ہیں۔ کسی کو ٹھیک سے پہچانتے بھی نہیں۔ آہٹوں پر چونکنے کا سلسلہ بھی بند ہو چکا ہے۔ کنّی کی آنکھوں میں تو آنسو ہیں۔ وہ اپنے تمام آنسوؤں کو آج اس گھر کی نذر کر دینا چاہتی ہے۔ باجی اسے نہیں دیکھ پا رہی ہیں۔ ابا بھی اس قابل نہیں کہ اسے پہچان سکیں۔ وہ ماتم تو کر ہی سکتی ہے۔ راجکمار کے آنے سے پہلے وہ گھر کی دہلیز کی مفلسی کو آنسوؤں سے دھو دینا چاہتی ہے۔ مہر النساء اسے رونے دیتی ہے۔ اس کے من کے بھاری پن کو دور ہونے دیتی ہے۔ اور پھر ایسے میں رات کا پچھلا پہر شروع ہونے لگتا ہے۔
راجکمار کی آمد کے لئے وہ چہرے کو مسکان سے بھر دیتی ہے۔ آنکھیں ایک دم کھلی رکھتی ہے۔ نیند سے کوئی رشتہ رکھنا نہیں چاہتی آج کی رات۔
اور ایسے میں آتا ہے راجکمار۔ وہ دھیرے دھیرے گھر کا دروازہ کھولتی ہے۔ راجکمار کے بڑھے ہوئے ہاتھوں میں خود کو سونپ دیتی ہے۔ اور پھر چاروں طرف اندھکار بکھیر کر وہاں سے غائب ہو جاتی ہے۔ مہرالنساء بند آنکھوں سے ہر منظر کو سرکتے ہوئے محسوس کرتی ہے اور پھر دروازہ بند کرنے کے بعد مصلیٰ پر بیٹھ جاتی ہے۔ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتی ہے۔
راجکمار کنّی کو پریوں کے لباس میں شہر کی رونقوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ کنّی مختلف ہاتھوں سے گزرتے ہوئے لال پری بن جاتی ہے۔ کنّی سب کچھ جانتی تھی۔ اس نے کھلی آنکھوں سے فیصلہ کیا تھا۔ ایسانہیں کہ وہ خوش نہیں ہے کیونکہ راجکمار نے اپنا وعدہ پور اکر دیا ہے۔ مہرالنساء کی عمر دس سال کم ہو گئی ہے۔ اسے اب اپنا بوڑھا راجکمار بھی یاد نہیں آتا۔ ابا گھر میں رنگین ٹیلی ویژن پر فلمیں دیکھتے رہتے ہیں اور انہیں انتظار ہوتا ہے ڈاکیے کا، جو کنّی کے بھیجے ہوئے روپے لے کر آتا ہے۔
ہاں تو صاحبان… قدردان…
یہ کھلی آنکھوں کے سپنوں کو پورا کرنے والا راجکمار کون ہے۔ وہ اپنے وعدے بھی حقیقتوں کے رنگ میں ڈھالنا جانتا ہے۔ بس ضروری ہوتا ہے یہاں بیٹی کا جنم۔ آپ کی بوسیدہ بستیوں میں بیٹیاں ہوں تو چہرے پر ہنسی لائیے۔ بہت رو چکے۔ بے حسی لائیے۔
صاحبان… قدردان…!

 

قاسم خورشید

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟
  • گرد اپنی اتارتا ہوں ذرا
  • نقوشِ وجود
  • بازار ختم ہو چکا , گاہک نہیں رہا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پھانس
پچھلی پوسٹ
کینوس پر چہرے اور میں

متعلقہ پوسٹس

عِشق حقیقی

جنوری 21, 2020

در آئی مِرے بھاگوں میں رسوائی وغیرہ

جولائی 31, 2022

وارسا کی شرارتی دیویاں – دوسری قسط

جنوری 20, 2025

شریفن

اکتوبر 20, 2019

شباہت فردوس

جون 20, 2024

فطرت کا گمشدہ راز

دسمبر 25, 2024

نالہِ ہجر نہیں وصل بھی درکار نہیں

اکتوبر 25, 2025

بڑھتی ہوئی قیمتوں کا المیہ

مارچ 8, 2026

خود سے جب بے زاری ہو

اپریل 6, 2020

شاخوں میں کوئی اُس کی پرنده نہیں رہتا

مئی 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاکستان ایک نازک موڑ پر

فروری 13, 2026

رشید حسرتؔ

نومبر 18, 2025

راجندر بیدی کے اسلوب

دسمبر 18, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں