103
رستے میں ہاتھ چھوڑ کے دنیا سے ڈر گیا
اک شخص میرے واسطے زندہ ہی مر گیا
جن شدتوں سے وہ مرے سر پر سوار تھا ۔۔
وہ جلدباز دل سے بھی جلدی اتر گیا
اشکوں کو پونجھتا تھا جو پلکوں سے چوم کر
مرهم نما وہ شخص بھی جانے کدھر گیا
ہم سوچتے ہی رہ گئے اچھا بھی آئے گا
لگتا ہے وقت پھر سے کوئی ہاتھ کر گیا
لمبی رفاقتوں میں یہی تو عذاب ہے
آنکھیں تھکی تھکی سی تو دل ہے کہ بھر گیا
فوزیہ شیخ
