خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستانی عدالتوں کا نظامِ استحصال
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

پاکستانی عدالتوں کا نظامِ استحصال

از سائیٹ ایڈمن مئی 8, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 8, 2026 0 تبصرے 67 مناظر
68

پاکستان میں عدالت کو انصاف کا آخری دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ دروازہ عام آدمی کے لیے اذیت گاہ بن چکا ہے۔ ایک مظلوم سائل جب عدالت کے دروازے پر پہنچتا ہے تو وہ انصاف کی اُمید لے کر آتا ہے لیکن برسوں کی پیشیاں اس کی اُمیدوں کو چاٹ جاتی ہیں۔ عدالتوں کی راہداریوں میں سفید رِیش بوڑھے انصاف کے انتظار میں مر جاتے ہیں۔ عورتیں بچوں کو اُٹھائے تاریخ پر تاریخ بھگتتی رہتی ہیں۔ مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتا ہے۔ کسان زمین کے مقدمے میں نسلوں تک الجھا رہتا ہے۔ دوسری طرف طاقتور طبقہ وکیلوں کی فوج اور وسائل کے توسط سے نظام کو اپنے حق میں موڑ لیتا ہے۔
پاکستان کے عدالتی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف کم اور استحصالی طریقہ کار زیادہ طاقتور ہے۔ عدالت میں آنے والا شخص سب سے پہلے خوف کا شکار ہوتا ہے۔ پولیس کی دھمکیاں الگ، وکیلوں کی فیس الگ اور عدالتی عملے کا رویہ الگ۔ کیس فائنل ہونے کے بعد تاریخوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ انسان نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ سائلین عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے قرض میں ڈوب جاتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مقدمے کی لاگت اصل تنازعے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔
مشہور مقولہ ہے:
"انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے”۔
یہ قول برطانوی سیاست دان ولیم گلیڈ اسٹون سے منسوب کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں یہ جملہ روزانہ حقیقت بنتا دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کے عدالتی نظام میں لاکھوں مقدمات برسوں سے زیرِ التوا ہیں۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق دیوانی و سِول عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بعض مقدمات سپریم کورٹ تک پہنچتے پہنچتے پچیس سال تک کھنچ جاتے ہیں۔
ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے دُنیا کی نچلے درجوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس انڈیکس میں انصاف تک رسائی، انصاف کی رفتار، عدالتی شفافیت اور کرپشن جیسے عوامل شامل کیے جاتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کا المیہ ہے۔ ایک شخص اگر جائیداد کے تنازعے میں عدالت جائے تو ممکن ہے اس کا فیصلہ اس کی اگلی نسل کو ملے۔ خاندانی مقدمات میں عورتیں برسوں خلع، نان نفقہ اور بچوں کی حوالگی کے لیے دربدر رہتی ہیں۔ فوجداری مقدمات میں ملزم سالہا سال جیل میں رہتا ہے جبکہ جُرم ثابت ہی نہیں ہو پاتا۔ کئی لوگ بے گناہی ثابت ہونے سے پہلے اپنی جوانی کھو دیتے ہیں۔
سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا تھا:
"ریاست کی بقا انصاف سے اٹیچ ہوتی ہے”۔
یہ جملہ پاکستان کے موجودہ حالات میں ایک تلخ سوال بن چکا ہے۔یعنی اگر انصاف کمزور ہو جائے تو ریاست کا اعتماد کیسے باقی رہ سکتا ہے۔
عدالتی نظام کی خرابیوں میں سب سے بڑا مسئلہ مقدمات کا غیر ضروری اِلتوا ہے۔ وکیل تاریخ لے لیتے ہیں، گواہ پیش نہیں ہوتے، پولیس تفتیش مکمل نہیں کرتی، جج صاحبان کا تبادلہ ہو جاتا ہے، کبھی ہڑتال ہو جاتی ہے اور کبھی فائل غائب ہو جاتی ہے۔ستم یہ کہ سائل ہر بار اُمید لے کر آتا ہے مگر اگلی تاریخ لے کر واپس چلا جاتا ہے۔
تحقیقی مطالعات کے مطابق پاکستان میں عدالتی تاخیر کی بڑی وجوہات میں ججز کی کمی، ناقص تفتیش، پرانا عدالتی نظام، کرپشن اور کمزور انتظامی ڈھانچہ شامل ہیں۔
عدالتوں میں عام آدمی کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سائلین بیان کرتے ہیں:” عدالتی عملہ ان سے ایسے پیش آتا ہے جیسے وہ مُجرم ہوں”۔ سِول عدالتوں میں بعض اوقات طاقتور افراد کے لیے الگ ماحول اور غریب کے لیے الگ رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سفارش اور تعلقات رکھنے والے افراد کے مقدمات تیزی سے آگے بڑھتے ہیں جبکہ غریب آدمی فائلوں کے انبار میں دب جاتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں جج صاحبان اور اعلیٰ عدالتی افسران کو وسیع سرکاری مراعات حاصل ہیں۔ سرکاری گاڑیاں، پروٹوکول، رہائش گاہیں اور دیگر سہولیات ان کے پاس موجود ہوتی ہیں جبکہ دوسری طرف سائلین عدالت کے باہر دُھوپ میں کھڑے رہتے ہیں۔ کئی دیہاتی دور دراز علاقوں سے کرایہ خرچ کرکے آتے ہیں اور اگلی تاریخ لے کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ یہ تضاد عوام میں احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے۔
امریکی مفکر مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا:
"کہیں بھی ناانصافی ہر جگہ انصاف کے لیے خطرہ ہے”۔
پاکستان میں عدالتی ناانصافی اب ایک سماجی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ جب لوگوں کو یقین نہ رہے کہ عدالت سے انصاف ملے گا تو وہ ذاتی انتقام جِرگوں یا طاقت کے استعمال کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں قانون کی بالادستی کمزور ہوتی ہے۔
پاکستان میں سیاسی مقدمات نے بھی عدالتی نظام کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اکثر یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ طاقتور سیاسی شخصیات کے مقدمات اور عام شہریوں کے مقدمات میں فرق برتا جاتا ہے۔ مختلف عوامی ردِعمل اور مباحثوں میں عدالتی تاخیر اور مقدمات کے التوا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
عدالتی اصلاحات کے نام پر کئی منصوبے بنائے گئے مگر خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آسکے۔ ماڈل کورٹس، ای کورٹ سسٹم اور نیشنل جوڈیشل پالیسی جیسے اقدامات کیے گئے مگر مقدمات کا بوجھ مسلسل بڑھتا رہا ہے۔
پاکستان کو اگر واقعی انصاف پر مبنی ریاست بنانا ہے تو عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
سب سے پہلے ججوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے ججوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ایک جج کے پاس ہزاروں مقدمات ہوں گے تو فوری انصاف ممکن نہیں رہے گا۔
دوسرا اہم قدم عدالتی نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے۔ مقدمات کی فائلیں آن لائن ہوں۔ تاریخوں کی معلومات موبائل پر دستیاب ہوں۔ ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کا نظام مضبوط کیا جائے۔ اس سے وقت اور اخراجات دونوں کم ہوں گے۔
تیسری اہم اصلاح پولیس اور تفتیشی نظام میں بہتری ہے۔ ناقص تفتیش مقدمات کو کمزور کرتی ہے اور انصاف میں تاخیر پیدا کرتی ہے۔ جدید فرانزک نظام اور غیر سیاسی پولیس عدالتی اصلاحات کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔
چوتھا قدم وکیلوں کی غیر ضروری ہڑتالوں اور تاخیری حِربوں پر پابندی ہے۔ بار کونسلوں کو اس حوالے سے سخت ضابطے بنانے چاہییں تاکہ سائلین کا وقت اور پیسہ ضائع نہ ہو۔
پانچواں اہم پہلو عدالتی احتساب ہے۔ اگر کسی جج یا عدالتی افسر کی غفلت یا کرپشن ثابت ہو تو اس کے خلاف شفاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انصاف کا نظام خود احتسابی کے بغیر قابلِ اعتماد نہیں بن سکتا۔
تعلیمی اداروں اور میڈیا کو بھی انصاف کے شعور کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام کو اپنے قانونی حقوق کا علم ہونا چاہیے تاکہ وہ استحصال کا شکار نہ ہوں۔
دنیا کے کئی ممالک نے عدالتی اصلاحات کے ذریعے انصاف کی رفتار بہتر بناکر جدید ٹیکنالوجی اور متبادل تنازعاتی حل کے نظام سے مقدمات کم کیے گئے۔ پاکستان میں بھی ثالثی اور مصالحتی نظام کو فروغ دیا جا سکتا ہے تاکہ ہر چھوٹا مسئلہ عدالت تک نہ پہنچے۔
پاکستان کا عدالتی نظام اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اصلاح نہ ہوئی تو عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ انصاف صرف فیصلے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان کی عزت، وقت اور حقوق محفوظ رہیں۔ اگر عدالتیں عوام کے لیے خوف کی علامت بن جائیں تو یہ کسی بھی ریاست کے لیے خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتیں طاقت کی علامت نہیں بلکہ اُمید کی علامت بنیں۔ سائل کو ذلیل کرنے کی بجائے اس کی داد رسی کی جائے۔ تاریخوں کے انبار کی بجائے بروقت فیصلے کیے جائیں۔ جج اور وکیل دونوں یہ یاد رکھیں کہ ان کے سامنے کھڑا شخص صرف ایک فائل نہیں بلکہ ایک زندہ انسان ہے جس کی پوری زندگی انصاف کے ایک فیصلے سے وابستہ ہوتی ہے۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کبھی تو دیکھیں وصال آنکھیں
  • یہ ہے شریعت
  • وہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا
  • ایقان کے ہم راہ کچھ اوہام پڑے تھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط
پچھلی پوسٹ
تہذیب کا جنازہ اور ڈیجیٹل بدتہذیبی

متعلقہ پوسٹس

وہ شوخ پا عجب شوق میں مبتلا ہے

جنوری 22, 2026

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

اپریل 12, 2026

غلطی کا اعتراف

اپریل 1, 2023

دوست کی شادی – خوشیوں کا سفر

مارچ 19, 2026

سویرا ہو رہا ہے

اکتوبر 10, 2026

عالمِ برزخ سے

جنوری 9, 2020

کانفیڈینس

مارچ 27, 2020

جڑیں

دسمبر 10, 2019

ایک جسم، ایک سایہ، ایک چیخ

جون 13, 2025

بزرگوں کے سرہانے بیٹھ جائیں

جنوری 1, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے رہنما...

مئی 21, 2024

فوٹو گرافر

جنوری 13, 2020

ہو گیا کیسا حادثہ مرے ساتھ

فروری 21, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں