100
میرے دن سے ملیے
کتنا چمکیلا ہے اتوار میں لپٹا ہوا دن
میں اسے ہاتھ لگا سکتا ہوں
مشرقی در سے چلا آتا ہے
میں اسے آتے ہوئے دیکھتا ہوں۔
اس کے اک پہلو میں
نیلا نیلا
سنبلیں جھونکوں بھرا تکیہ ہے
دھوپ میں اونگھتا سستاتا ہے
چائے کی چسکی مہک ذائقہ بن جاتی ہے
اور مسکاتا ہے اخبار میں لپٹا ہوا دن
وحید احمد
