خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباغلطی بانجھ نہیں ہوتی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

غلطی بانجھ نہیں ہوتی

ڈاکٹر زاہد کی اردو تحریر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2019 0 تبصرے 444 مناظر
445

غلطی بانجھ نہیں ہوتی

زوجہ شاہ حاملہ تھی۔ سارے حمل کے دوران عجیب و غریب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بچہ شایدزیادہ صحت مند تھا۔ جب بھی حرکت کرتا ایک ٹیس سی اٹھ کرریڑھ کی ہڈی کے راستے سر تک چلی جاتی۔ وہ پریشان اورخوفزدہ بھی تھی۔ وہ کوئی کمزور عورت تھی اور نہ ہی یہ اس کا پہلا حمل تھا۔ اس کے بچے تو حمل سے کود کرآتے اوروہ اسی دن مملکت کے کاموں میں شامل ہو جاتی۔ اب بھی اس نے تین دن سے جاری وضع حمل کی تکالیف کا خاموش طاقت اورزبردست قوت برداشت سے مقابلہ کیا تھا۔ درد کی اذیت ا س کے چہرے کی مسکراہٹ کو گہنا سکی اور نہ ہی اس مشکل وقت میں دل کا خوف اس پر غالب آسکا۔

بہت پہلے کی بات ہے۔

رات کا پچھلا پہر ہے، سناٹا ہی سناٹا ہے۔ دریائے تھیمزکے کنارے بسنے والے شہر، نئے ٹرائے، ”ٹروجا نووا“ میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے آج چاند بھی نہیں نکلا۔ ہلکی ہلکی بونداباندی کی دوران زخمی زخمی ہوا بھاری قدموں کے ساتھ پھنکارتی ہوئی مکانوں کے دروازوں کوچھوتی گزرتی جا رہی ہے۔ اپریل کے آخری دن ہیں۔ برف کب کی پگھل گئی ہے۔ آتشدانوں کے شعلے سر دہوتے ہوئے راکھ بنتے جا رہے ہیں۔ چمنیوں سے بھجتے ہوئے دھوئیں کی باریک تھر تھراتی لہریں آسمان کی طرف ابھرتی جا رہی ہیں۔ کمروں میں رچی پر سکون تمازت میں شہر کے باسی گہری نیندسوئے ہوئے ہیں۔

پودوں کی ہری ہری باڑ کے اس پار دریائے تھیمز کی ہمکتی لہروں کے اندر سے روشن گول چھوٹے چھوٹے دیے رونما ہوتے ہیں اور قطار اندر قطارچلتے ہوئے شہر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ بغیر آہٹ اور سنسناہٹ کے وہ چلتے ہوئے پورے شہر میں پھیل جاتے ہیں۔ گلیوں، بازاروں، گھروں کے صحنوں، رسوئی خانوں اور دکانوں میں موجود کسی بھی کھانے والی چیز کو وہ روندتے چلے جاتے ہیں۔

صبح لوگ جب اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں توپورا شہر سائیں سائیں کر رہا ہوتا ہے۔ لگتا ہی نہیں کہ بہار کا آغاز ہو چکا ہے۔ تمام پھل دارپودے جو پھولوں سے لدے ہوئے تھے، ٹنڈ منڈ نظر آتے ہیں۔ عشق پپیچاں کی بیلیں، جو کی فصلیں اورریٹھے کے درختوں کی نچلی شاخیں بھی اجڑ چکی ہیں۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔

کچھ دنوں کے بعدایک اور ایسی ہی ویران، اندھیری گھاتک رات میں دوبارہ تیزی سے جگہ بدلتے چمکدارگول دیے دریا سے برآمد ہوتے ہیں۔ اور اس دن رہی سہی ہریالی بھی ملیا میٹ کر جاتے ہیں۔

بہت سے گھروں کے دروازے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس پر امن شہر میں ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ اب پہرہ داروں کو چوکنا کر دیا گیا۔

پھر حملہ ہوتا ہے۔ پہرے داروں نے دریا کی طرف سے ان کو آتے دیکھ لیا۔ سرخی مائل اونچے اونچے قدکے چو پائے شہر میں داخل ہوئے تو پہرہ داروں نے ان کو روکنے کی کوشش کی لیکن ان کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ یہ سوروں کا انتہائی منظم حملہ تھا۔ جو زخمی ہو جاتا وہ واپس بھاگ جاتا اور اس کی جگہ لینے دوسرے آجاتے۔ کچھ سپاہی بھی زخمی ہوئے۔ جب سارے شہر میں شور مچ گیا تو وہ سب دریا کی طرف واپس چلے گئے کچھ دور تک اس کی کنارے کنارے بھاگتے ہوئے دریا میں چھلانگ لگا دی اور غائب ہو گئے۔

پھر یہ اکثر ہوتا چلا گیا۔ شہر میں سور گھس آتے اگر مزاحمت زیادہ ہوتی تو اردگرد کی فصلوں میں تباہی مچا کر واپس لوٹ جاتے۔

اس وقت ملک میں گال قوم کے بادشاہ لِیل کی حکومت تھی۔ لِیل جو کہ کنگ ہوڈیبراز کا بیٹا تھا۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق یونا نی دیوی وینس اور ٹرائے کے شاہی خاندان سے تھا۔ ٹرائے کی تباہی کے بعد یہ تھیمزکے کنارے آبسے تھے۔

ھوڈیبراز کے دو بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا شہزادے بلادد شادی شدہ تھا اور اس کا ایک بیٹا بھی تھا۔ باپ نے بلادد کو فلسفہ اور لبرل آرٹس کی تعلیم حاصل کرنے ایتھنز بھیج دیا۔ وہ وہاں گیارہ سال تک رہا اور ادھر ہی اس نے دوسری شادی بھی کر لی۔

بلادد کی پہلی بیوی رینڈ اس کے بھائی لِیل کو پسند کرتی تھی۔ ایتھنزمیں بلادد کو کوڑھ کا مرض لاحق ہو گیا۔ اس نے اپنے مرض کو سب سے چھپا کر رکھا۔ جب وہ واپس آیا تو کنگ ہوڈیبراز نے اسے امور مملکت سونپنے کے لئے دربار لگایا۔ رینڈ کو پتا تھا کہ اگربلادد بادشاہ بن گیا تو وہ اپنی ملکہ اسے نہیں، یونانی بیوی کو بنائے گا۔

دربار میں امراء کی اکثریت بلادد کو بادشاہ بنانا چاہتی تھی۔ وہ کنگ ہوڈیبراز کو پسند تھا اور عوام بھی اسے ہی بادشاہ دیکھنا چاہتے تھے۔

یہ دیکھتے ہوئے رینڈ دربار میں کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی، ”بلا شبہ شہزادہ بلاد د ایک عظیم اور عزت دار شہزادہ ہے لیکن وہ شہنشاہ بننے کے قابل نہیں۔ ادھر آؤ میرے پیارے خاوند اور اگر ہمت ہے تو میری اس بات کی مخالفت کرو۔

کیا یہ قدیم زمانے سے قانون نہیں ہے؟ ”

اس نے تمام اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے تمسخرانہ لیجے میں چلانا شروع کیا۔

”کیا دیوتاؤں نے ہمارے بھلے کے لئے یہ حتمی اصول نہیں بتا یا کہ جو آدمی بیمار ہو وہ مملکت پر حکومت کرنے کا اہل نہیں ہوتا۔ “

اس کے رخسار غصے سے تمتما رہے تھے اور آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے۔

”تم دیوتاؤں کا قول بھول گئے ہو کہ اگر بادشاہ بیمار ہوگا تو مملکت بھی بیمار پڑ جائے گی۔ “

یہ کہہ کر اس نے اور لِیل نے بلادد کی پوشاک کو کھینچ کر پھاڑ دیا۔

”دیکھو! اس کا پورا جسم گلا سڑا، پیپ زدہ اور بدبو دارہے۔ “

اس نے فاتحانہ لہجے میں لِیل کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا، ”اگرمیں اس کے ساتھ ہوتے ہوئے اعلیٰ ملکہ نہیں بن سکتی تو میں اس کے بغیر اس عہدے پر براجماں ہو سکتی ہوں۔ “

وہ چلائی

”یہ کوڑھ زدہ ہے۔ “

لوگ خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔

لِیل کو بادشاہت دے دی گئی اوربلادد کو بن باس۔

رینڈ نفرت اور حقارت سے چلائی،

”بھاگ جاؤ، اپنی غیر ملکی داشتہ کے پاس۔ “

اس نے شاہی سور لئے اور جنگلوں کی طرف چلا گیا۔

اب شہر میں جو اکثر سوروں کا حملہ ہوتا تھا سب لوگوں کا خیال تھا کہ یہ بلادد کے ہی تھے۔

دربار بلایا گیا۔ اس انوکھے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی باتیں شروع ہو گئیں۔ ایک سوال سب سے اہم تھا کہ سور آتے کہاں سے ہیں اور غائب کہاں ہو جاتے ہیں؟ کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔

ملکہ رینڈ کا خیال تھا کہ ان کے پیچھے دریا میں چھلانگ لگا دی جائے۔ لیکن کیسے؟

دربار میں موجودشاہی جادوگر بولا، ”میں آدمی کو سور بنا سکتا ہوں۔ وہ سوروں کے درمیان انسان نہیں مکمل سور بن کر رہے گا۔ لیکن اس میں کچھ خطرات ہیں۔ سب بڑا خطرہ یہ ہے کہ شاید میں اسے واپس انسان نہ بنا سکوں۔ اور اس طرح وہ سور واپس ہمارے پاس آکر ہمیں کچھ بتا نہیں سکے گا۔ “

ملکہ اس مہم کی قیادت خود کرنا چاہتی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر سور واپس انسان نہ بن سکے تو اسے بلادد کے بارے میں کیسے پتا چلے گا۔ وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی۔ چاہے وہ خود تباہ ہو جائے۔ لِیل نے اسے سمجھایاکہ اگر جادوگر اسے واپس نہ لا سکا تو وہ ہمیشہ سور ہی رہے گی۔ انہیں اس غلطی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ امرا نے بھی منع کیا۔ ایک بولا، ”ملکہ عالیہ! بادشاہ جذباتی فیصلے نہیں کرتے۔ یہ مناسب نہیں ہوتا کہ کسی کی عداوت انہیں اندھا کر دے۔ ان کی ایک غلط چال پوری قوم کو تباہ کر سکتی ہے۔ حکمرانوں کی غلطی بانجھ نہیں ہوتی۔ وہ بچے جنتی ہے۔ “ لیکن ملکہ کی بلادد سے نفرت اسے مجبور کر رہی تھی۔ وہ کوڑھ زدہ بلادد کو سوروں کے درمیان دیکھ کر خوشی ہونا چاہتی تھی۔

پھر ایک رات جب سوروں نے شہر پر حملہ کیا تو وہ اپنے رضاکار سوروں کے ساتھ ان میں شامل ہو گئی۔

کچھ دنوں کے بعد اگلے حملے میں وہ ان کے ساتھ واپس ا ٓگئی۔

جادوگر کا جا دو کامیاب رہا اور تمام سور انسان کی جون میں واپس آگئے۔

وہ بہت دکھی تھی۔ اس نے دیکھا کہ بلادد ٹھیک ہوچکا تھا۔ بلادد نے گرم پانی کا ایک ایسا چشمہ دریافت کیا تھا جس میں اس کے کوڑھ زدہ سور جن کو بلادد سے یہ چھوت کی بیماری لگ گئی تھی، نہا کر آئے تو ٹھیک ہو گئے۔ بلادد بھی اسی پانی میں نہایا اور صحت مند ہو گیا۔ رینڈ نے بتایا، ”اس نے سوروں کی ایک فوج بنا لی ہے۔ بہت سے لوگ بھی اس کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔ وہ خبطی بہت بڑا جادوگر بن چکا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مردہ افراد کی روحیں اس کے زیر اثر کام کرتی ہیں۔ وہ ان ارواح کی مدد سے نرسل کا ڈھانچہ اور چمڑے کے پر اپنے جسم کے ساتھ جوڑ کر پہاڑیوں سے چھلانگ لگا کر اڑنے کی کوشش بھی کر چکا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سل دیوی نے اسے یہ طاقت دی ہے۔

ا ب وہ ٹروجا نووا پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ”

اس کے بعد کنگ لِیل اور ملکہ نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ کانسی کے دور کے پرانے ہتھیار وں کی جگہ نئی دریافت شدہ دھات، لوہے کے ہتھیار بنانا شروع کر دیے۔ شہر پناہوں کو اونچا اور مضبوط کیا گیا۔ حملہ آور سوروں کو شہر سے باہر ہی مار کر بھگا دیا جاتا۔

کئی مہینے گزر گئے۔ پھر ایک دن بلادد کی فوج نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ کئی ماہ تک جنگ جاری رہی۔ شروع شروع میں اکثر لڑائیوں کی قیادت بہادر ملکہ رینڈ نے خود کی۔ اس کی فوجوں کو شکست دینا بلادد کے بس کی بات نہیں تھی۔ وہ جب بھی سامنے آتی بلادد کی افواج کو زبردست نقصان پہنچتا۔ اب لِیل کی حکمت عملی یہ تھی کہ جنگ کو طول دیا جائے کیونکہ ملکہ حاملہ تھی اور بچے کی پیدائش کے دن قریب آچکے تھے۔

بہادر ملکہ کو وضع حمل کی درد نے بے حال کر دیا تھا۔ وہ پریشان اور خوفزدہ بھی بہت تھی۔ اس کا وہم دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔ تین دن کی تکلیف کے بعد بچہ پیدا ہوا۔ تو تمام دائیاں ایک ایک کر کے کمرے سے باہر چلی گئیں۔ پریشان کنگ لِیل اندر داخل ہو ا تو ملکہ نے اسے دیکھ کر منہ دوسری طرف کرلیا۔ گلابی رنگت کا چوپایہ اس کی چھاتی کو منہ میں دبائے دودھ پی رہا تھا۔

اگلے دن عوام نے بغاوت کردی اور بلادد کی فوج کے لئے شہر کے دروازے کھول دیے گئے۔

(اس افسانے میں کنگ ہوڈبراز کے دربار میں ہونے والا مکالمہ Moyra Caldecott کے ناول The Winged Man سے لیا گیا ہے۔ )

ڈاکٹر زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تمہارے ہجر کو کافی نہیں سمجھتا میں
  • صاحب دھیان دیجئے
  • جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی
  • ناراض جیالوں کا مقدمہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایف 7/2 کالج اسلام آباد فار وومن
پچھلی پوسٹ
موت، مشرف اور انصاف

متعلقہ پوسٹس

یہ جو ہو جانے کے احساس سے

نومبر 11, 2025

اسلام میں نوجوانوں کا کردار اور ذمہ داریاں

اکتوبر 31, 2025

اے مری قوم کو اک خواب دکھانے والے

اپریل 23, 2020

ظالم کو دوں دعائیں میں

اکتوبر 12, 2025

چوراہے کا ڈھولچی

دسمبر 31, 2021

جا کہہ جو دیا

ستمبر 27, 2025

ساحر لدھیانوی ۔ ایک نیا مطالعہ

جولائی 5, 2024

الوداع ماہ رمضاں

مارچ 30, 2025

میں ہوں نا

نومبر 7, 2021

ہم ایک دن نکل آئے تھے

مئی 28, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جو بھی ہوتا ہے تِرا حال...

نومبر 18, 2025

عبرت سرائے دہر میں وہ بھی...

جنوری 12, 2022

میں سو رہا تھا خواب کی...

فروری 24, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں