خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابدنام جو ہوں گے تو
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر نعمان رفیع

بدنام جو ہوں گے تو

از سائیٹ ایڈمن فروری 3, 2021
از سائیٹ ایڈمن فروری 3, 2021 0 تبصرے 43 مناظر
44

محبت دنیا کا سب سے بڑا جذبہ ہے مگر اس جذبے کی مکمل اور جامع تعریف آج تک کوئی نہیں کر سکا۔ زمانہ قدیم سے شعراء حضرات اس پر لکھ رہے ہیں۔ بڑے بڑے مفکرین نے اس پر بے شمار شہرہ آفاق کتابیں بھی لکھیں ، بڑے بڑے ناول نگاروں کے ایسے ایسے اقوال ہیں جنہیں اگر ایک دفعہ پڑھ لیا جائے تو معاملہ سلجھنے کی بجائے اور الجھ جاتا ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے محبت پا لینے کا نام نہیں ۔
کچھ کا کہنا ہے محبت کا تعلق روح سے ہوتا ہے۔ بانو قدسیہ صاحبہ کے ناول امر بیل کا ایک بہت ہی خوبصورت جملہ ہے کہ محبت کوئی سرکاری نوکری نہیں جس میں عمر کی حد ہو۔ موجودہ زمانے میں محبتوں کے معیار کچھ اس طرح بدلے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ محبت صرف افسانوں ،ناولوں اور شاعری میں ہی باقی رہ گئی ہے۔

گزشتہ2 دہائیوں سے زائد عرصہ سے ہمارے ہاں بھی 14 فروری محبت کے عالمی دن کے طور پر باقاعدہ منایا جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں فروری کے اس موسم میں بسنت منائی جاتی تھی اور بسنت منانے کی وجہ سے سخت سردی کے بعد بہار کی آمد کا استقبال اور موسم کا خوشگوار ہوتا تھا۔ 14 فروری بھی شاید ویسا ہی کوئی دن ہو۔ اس دن کے بارے میں بہت قصے کہانیاں مشہور ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ پرندوں کے ملن کا موسم ہے، مطلب کہ سردی کے بعد فروری کے درمیان میں پرندے اپنے گھونسلے بناتے ہیں اور بچے دیتے ہیں ۔
14 فروری،فروری کے مہینے کا درمیان ہے کیونکہ فروری کے 28 دن ہوتے ہیں (لیپ کے سال کے علاوہ جو چار سال بعد آتا ہے) مگر اس کی سب سے مظبوط کہانی ویلنٹائن نامی ایک راہب کی محبت کی داستان بیان کیا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس راہب کو ایک راہبہ سے محبت ہو گئی۔ اس نے شادی کرنے کی کوشش کی مگر مذہب کی دیوار سامنے آ گئی کہ شادی کرنا اور ازدواجی تعلق ایک گناہ ہے۔
اس راہب نے یہ روایت توڑنے کی کافی کوشش کی مگر ناکام رہا اور اس بیچارے سے غلطی ہو گئی۔ اس جرم کی سزا میں اسے پھانسی دے دی گئی مگر یہ بھی کوئی زیادہ مستند کہانی نہیں ہے۔ پاکستان جیسے نظریاتی اسلامی مملکت میں اس دن کے حوالے سے بے راہ روی اور بے حیائی کی قطعاََ نہ تو اجازت ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی ایسی کوشش کو سرپرستی ہو نی چاہیے جو اخلاقیات کے دائرے سے باہر ہو ۔
محبت کی بات جہاں بھی کی جائے وہاں دل کا ذکر خیر ضرور کیا جاتاہے۔ مگر سائنسی نقطہ نظر سے محبت کا دل سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے ۔آجکل کے معاشرے میں دولت سے ضرور ہے۔ دل کا کام سر سے لے کر پاؤں تک جسم کے تمام اعضاء کو خون فراہم کرنا ہے اور جدید سائنسی نقطہ نظر کے تحت دل کا محبت سے کوئی لنک ابھی تک سامنے نہیں آیا مگر دل بیچارے کو اس معاملے میں خواہ مخواہ کی اہمیت دے دی جاتی ہے۔
ہم مثال لیتے ہیں کسی سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارا کیا کھانے کو دل چاہ رہا ہے جبکہ کھانے کا ذائقہ محسوس کرنے کیلئے زبان دل کی بجائے دماغ کی طرف پیغام بھیجتی ہے اور اس سب کا ایک باقاعدہ نظام ہے۔ انسان وہی چیز کھانا پسند کرتا ہے جسکا ذائقہ اسے پسند ہو جبکہ دل کا کام صرف خون فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح جب کسی کو کوئی کام کرنے کو کہا جاتا ہے توساتھ ایک بے تکی سی بات بھی کہی جاتی ہے کہ دل لگا کر کام کرو۔
جب کا اچھا ہو جائے توسارا کریڈٹ دل لے جاتا ہے اور اگرکام خراب ہو جائے تو صاف الفاظ میں کہا جاتا ہے کہ تمہارا دماغ کہاں تھا۔ دل کا تو اس غصے میں دور دور تک کہیں ذکر نہیں ملتا۔بد نام بیچارا دماغ ہوتا ہے ویسے شعراء کرام نے بھی لفظ بدنام کو نہیں بخشا اور تو اور بدنامی کو ایسے احاطہ تحریر میں لایا ہے کہ کچھ لوگ تو چاہتے ہیں کہ اچھا ہے بدنام ہی ہو جائیں نیک نامی کے تو کوئی آثار نہیں نظر آتے۔
مثلاً بدنام جو ہوں گے توکیا نام نہ ہوگا۔ایسے جب لوگ محبت میں ناکام ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنی محبت بہت یاد آتی ہے تب بھی شاعر حضرات دل کو صاف کر کہ سارا الزام دماغ پر ہی لگا دیتے ہیں ۔مثلاً "یادمانی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا” مطلب کہ محبت کی سزا بھی دماغ بیچارا ہی بھگتے ،مگر شاعر کہ اس شعر سے کسی حد تک ثابت کرنے میں آسانی ہو رہی ہے کہ محبت کرنے میں سارا فساد دماغ کا ہی پھیلایا ہوا ہوتا ہے اور دماغ نے ایک سازش کر کے الزام دل پر لگا رکھا ہے تا کہ وہ بدنامی سے بچ جائے۔

بقول شاعر
جس نگر بھی جاؤقصے اس کم بخت دل کے
کوئی لے کے رو رہا کوئی دے کے رو رہا

ڈاکٹر نعمان رفیع

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یہ کوئی داستاں نہیں
  • میرے محرماں
  • کافی
  • کوئی نظم بجاتا جا رہا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا الجھنا کسی کہانی میں
پچھلی پوسٹ
ہم کس مرحلے میں ہیں؟

متعلقہ پوسٹس

توبۃ النصوح – فصل نہم

اکتوبر 30, 2020

اخروٹ قوتوں کا خزانہ

اکتوبر 10, 2021

محبت کی ریت میں

دسمبر 6, 2024

کیا سمجھتے ہو جناب

مارچ 1, 2020

توبۃ النصوح – فصل سوم

اکتوبر 28, 2020

جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے

دسمبر 5, 2021

شکاری عورتیں

اکتوبر 29, 2019

فلک کی قید سے ڈر کر نہیں نکلے زمیں زادے

اکتوبر 1, 2020

گزرے لمحات کا احساس ہوا جاتا ہے

مئی 2, 2020

ایک بیوقوف عورت

جنوری 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سو اب دیوار کے اندر سے...

مئی 18, 2020

جگرکےخوں سے ہی لےکے

فروری 20, 2020

لوگ کیا کہیں گے

مئی 14, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں