خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف

از رحمت عزیز خان نومبر 15, 2025
از رحمت عزیز خان نومبر 15, 2025 0 تبصرے 36 مناظر
37

Salampakistan logo

27ویں آئینی ترمیم کے خلاف جسٹس جواد ایس خواجہ کی درخواست

پاکستان کی آئینی تاریخ 1947 سے لے کر آج 2025 تک مسلسل اس بحث کے گرد گھومتی رہی ہے کہ ریاست کے تین ستونوں میں سے کون سا ستون کتنا طاقتور ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ قانون سازی کا حق رکھتی ہے، عدلیہ آئین کی تشریح کرتی ہے اور انتظامیہ اسے نافذ کرتی ہے۔ لیکن جب کبھی ان کے اختیارات میں تصادم پیدا ہوتا ہے تو آئینی بحران جنم لیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے نے اسی تاریخی بحث کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔
پاکستان میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان طاقت کی کشمکش کوئی نئی بات نہیں۔ 1954 میں گورنر جنرل غلام محمد کی اسمبلی تحلیل کے بعد جسٹس منیر کے "نظریۂ ضرورت” نے آئین کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ 1973 کا آئین اگرچہ عدلیہ کی آزادی کا ضامن ٹھہرا، مگر 1977، 1999 اور 2007 کے فوجی ادوار میں جب آئین معطل ہوا تو عدلیہ نے کبھی مزاحمت اور کبھی توثیق کا کردار ادا کیا۔
اسی تناظر میں 18ویں، 21ویں اور 25ویں ترامیم کے بعد اب 27ویں ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ 27ویں ترمیم عدلیہ کے اختیارات میں مخصوص تبدیلیاں تجویز کرتی ہے، جن میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کی حد بندی، ججز کے تبادلے کا نیا طریقہ کار اور بعض انتظامی اختیارات کی منتقلی شامل بتائی جاتی ہے۔ اگر یہ ترمیم منظور ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عدلیہ کی خودمختاری پر پڑ سکتا ہے۔
یہی نکتہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے مؤقف کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق یہ ترمیم "سپریم کورٹ کے آئینی وجود کے خاتمے کی طرف پہلا قدم” ہے۔ ان کی درخواست میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کا اختیار پارلیمنٹ یا کسی دوسرے ادارے کے تابع کر دیا گیا تو عوام اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی آزاد فورم سے رجوع نہیں کر سکیں گے۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 175 عدلیہ کی آزادی کو بنیادی اصول قرار دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ کو عوامی اہمیت کے مقدمات میں ازخود نوٹس لینے کا اختیار حاصل ہے۔ یہی اختیارات ماضی میں کئی اہم فیصلوں کا باعث بنے، جیسے پانامہ کیس یا عدلیہ بحالی تحریک کے فیصلے وغیرہ وغیرہ۔
27ویں ترمیم کے ذریعے اگر ان اختیارات کو محدود کیا گیا تو یہ صرف ادارہ جاتی مسئلہ نہیں رہے گا، بلکہ عوام کے بنیادی حقوق، شفاف احتساب اور آئینی بالادستی پر بھی اثر ڈالے گا۔
جسٹس جواد ایس خواجہ اپنی عدالتی مدت کے دوران اصول پسندی اور آئین پسندی کے لیے معروف رہے۔ وہ آئین کو جامد نہیں بلکہ زندہ دستاویز سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست کی پائیداری اس وقت ممکن ہے جب عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہو اور پارلیمنٹ اپنی حدود میں رہ کر قانون سازی کرے۔ ان کی یہ درخواست ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد میں دائر کی گئی ہے، جیسا کہ انہوں نے واضح کیا ہے کہ "اگر سپریم کورٹ آزاد نہ رہی تو عوام کی آواز دب جائے گی۔”
2025 میں پاکستان کا سیاسی منظر نامہ غیر یقینی کا شکار ہے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان بار بار آئینی معاملات پر تناؤ پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں 27ویں ترمیم کی پیشکش اور اس کے خلاف درخواست، دراصل اس بات کی علامت ہے کہ آئینی ادارے اپنی بقا کے لیے فکرمند ہیں۔
سابق چیف جسٹس کی یہ درخواست عدلیہ کو متحرک کر سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایک نئی عدالتی بحث جنم لے، جیسا کہ 2007 میں عدلیہ بحالی تحریک کے دوران ہوا تھا۔
اس معاملے کا سب سے اہم پہلو عوامی مفاد ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کیے گئے تو عام شہری کے لیے انصاف تک رسائی مشکل ہو جائے گی۔ ایک خودمختار عدلیہ ہی وہ ادارہ ہے جو ریاست اور شہری کے درمیان توازن برقرار رکھتی ہے۔
اگر عدالتِ عظمیٰ اس ترمیم کو غیر آئینی قرار دیتی ہے تو یہ عدلیہ کی خودمختاری کے لیے ایک تاریخی فیصلہ ہوگا، لیکن اگر پارلیمنٹ کا مؤقف غالب آتا ہے تو پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں اختیارات کی نئی تقسیم عمل میں آ سکتی ہے۔
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنا ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ قدم ہے۔ یہ صرف ایک آئینی مقدمہ نہیں بلکہ ریاستی ساخت، عدالتی خودمختاری اور عوامی حقوق کا سوال ہے۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ایک ستون نے دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی، نظام میں توازن بگڑا۔ اب یہ عدلیہ پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح آئین کے بنیادی اصولوں یعنی آزادی، انصاف اور توازن کو برقرار رکھتی ہے۔
یہ کیس آنے والے برسوں میں پاکستان کے آئینی مستقبل کا فیصلہ کر سکتا ہے، کیونکہ عدلیہ کی آزادی محض اداروں کی نہیں، بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کی ضامن ہے۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مجھے بھی علم نہیں تھا میں شعر کہتا تھا
  • نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے
  • زندگی تو کبھی ہی مسکراتی ہے یارو
  • میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 3)
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
رحمت عزیز خان

اگلی پوسٹ
غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے
پچھلی پوسٹ
پریم چند کی افسانہ نگاری

متعلقہ پوسٹس

ایشیا کپ کا فائنل

ستمبر 29, 2025

ہالی ووڈ کا فریب – پہلی قسط

جنوری 18, 2025

عورت کے حقوق

اپریل 1, 2023

نالہِ ہجر نہیں وصل بھی درکار نہیں

اکتوبر 25, 2025

بڑے میاں

جنوری 30, 2021

دھیان تیرا جہاں لگا ہوا ہے

جولائی 25, 2022

فحاشی اور ہمارا سماج

اکتوبر 3, 2024

مالکن

فروری 15, 2022

رفوگر

جون 14, 2020

دنیا ء بے ثبات کی تصویر دیکھ کر

دسمبر 5, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اس کو جو کچھ بھی کہوں

مئی 4, 2020

حسرت اُن غنچوں پہ

فروری 8, 2020

عشق کرنا میرے ہمدم

اگست 5, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں