103
غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے
اکیلے میں مجھ کو رلایا بہت ہے
مرا حوصلہ ہے جئیے جا رہی ہوں
جدائی نے تیری جلایا بہت ہے
وفا کی ڈگر پر چلی عمر بھر میں
ملا کچھ نہ مجھ کو گنوایا بہت ہے
نہ جانے یہ کیا ہے محبت یا نفرت
گیا جب سے تو یاد آیا بہت ہے
مجھے راس آئی نہ چاہت کبھی بھی
محبت کو میں نے نبھایا بہت ہے
وہ خوابوں میں میرے ہی چھایا ابھی تک
جسے یارو میں نے بھلایا بہت ہے
غزل اس لیے سوئی ہوں میں سکوں سے
مجھے رتجگوں نے جگایا بہت ہے
کویتا غزل مہرا
