خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامننھے بچوں کو موبائل دیں
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمنیب الرحمن عارفی

ننھے بچوں کو موبائل دیں

از سائیٹ ایڈمن مارچ 4, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 4, 2026 0 تبصرے 95 مناظر
96

ننھے بچوں کو موبائل دیں، اور ان کی ذہنی نشوونما خود برباد کریں!

ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے خوش رہیں، محفوظ رہیں اور ان کی زندگی بہتر ہو۔ ہم ان کے لیے اچھے کپڑے، مزیدار کھانے، اچھے اسکول اور آرام دہ ماحول کا انتظام کرتے ہیں۔ مگر اکثر ہم یہ نہیں سوچتے کہ جو چیز ہم سہولت کے طور پر ان کے ہاتھ میں دے رہے ہیں، وہ ان کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔ خاص طور پر جب بات ایک یا دو سال کے بچوں کی ہو، جو ابھی دنیا کو سمجھنا سیکھ رہے ہیں، موبائل اور انٹرنیٹ کی غیر محدود رسائی ان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
چھوٹے بچوں کی ذہنیت بہت نازک اور حساس ہوتی ہے۔ ان کا دماغ ہر چھوٹی چیز کو جذب کر لیتا ہے، اور جو مواد وہ دیکھتے ہیں، وہ ان کے سوچنے کے طریقے، جذبات اور رویے پر دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔ ایک موبائل فون جو ہم انہیں صرف اس لیے دیتے ہیں کہ وہ رونا بند کریں یا ہم کچھ کام مکمل کر سکیں، دراصل ان کی توجہ اور احساسات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ سہولت عارضی سکون دیتی ہے، مگر طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انٹرنیٹ ایک کھلی دنیا ہے، مگر اس کھلے ماحول میں بچے کے لیے خطرات بھی موجود ہیں۔ ویب سائٹس، ویڈیوز اور ایپس میں علم اور تفریح دونوں ہوتے ہیں، لیکن ساتھ میں غلط معلومات، تشدد، غیر اخلاقی مناظر اور ایسے رجحانات بھی شامل ہیں جو بچوں کی کم عمر میں جذبات اور رویے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایک بالغ شخص بھی ہر مواد کی حقیقت اور مناسبیت کا فیصلہ مشکل سے کر پاتا ہے، تو چھوٹا بچہ کیسے اس سمندر میں خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے؟ اگر بچے کو مکمل آزادی دے دی جائے کہ وہ جو چاہے دیکھے، تو وہ بہت جلد ایسی چیزوں کے سامنے آ سکتا ہے جو اس کی عمر اور ذہنی سطح کے لیے موزوں نہیں۔
پہلا اثر تو بچے کی ذہنی نشوونما پر پڑتا ہے۔ چھوٹا بچہ جو بھی بار بار دیکھتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اس کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر وہ تشدد یا غیر اخلاقی مناظر دیکھتا ہے، تو اس کی حساسیت متاثر ہو سکتی ہے اور رشتوں کے احترام کا شعور کمزور ہو سکتا ہے۔ اگر وہ رنگین، مصنوعی اور دھوکہ دینے والی چیزیں دیکھتا ہے تو اپنی حقیقی دنیا سے غیر مطمئن ہو سکتا ہے۔ یہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہیں، مگر دیرپا اثر ڈالتی ہیں اور بچپن کے بنیادی اصولوں کو کمزور کر دیتی ہیں۔
دوسرا بڑا نقصان توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت پر پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ کا مواد تیز، مختصر اور فوری تسکین دینے والا ہوتا ہے۔ چھوٹے ویڈیوز، متحرک تصاویر اور کھیل کا تیز رفتار ماحول بچے کے دماغ کو عادت دے دیتا ہے کہ ہر چیز فوراً ملے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کتاب کے چند الفاظ پڑھنا یا کسی چھوٹی سی ہدایت کو پورا سننا بھی مشکل لگنے لگتا ہے۔ بچے کی توجہ مختصر ہو جاتی ہے اور مستقل مزاجی کمزور ہو جاتی ہے۔ وہ گہرائی میں سوچنے کی بجائے صرف سطحی معلومات پر اکتفا کرنے لگتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک بڑا نقصان عادت اور انحصار کا ہے۔ موبائل فون آہستہ آہستہ صرف سہولت نہیں بلکہ ضرورت بن جاتا ہے۔ اگر بچہ کچھ دیر کے لیے موبائل سے دور رہے، تو بے چینی محسوس کرنے لگتا ہے۔ کھیلنے اور دوڑنے کی عادت کم ہو جاتی ہے، جسمانی سرگرمی محدود ہو جاتی ہے اور نیند کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ رات دیر تک اسکرین دیکھنے سے نہ صرف آنکھوں اور دماغ پر اثر پڑتا ہے، بلکہ اگلے دن کے لیے توانائی بھی کم ہو جاتی ہے۔ جس بچپن کو کھیل، دوستی اور جسمانی سرگرمی بھرپور ہونا چاہیے، وہ آہستہ آہستہ ایک اسکرین تک محدود ہو جاتا ہے۔
چوتھا نقصان اخلاقی اور سماجی شعور پر پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ پر ہر شخص وہ نہیں ہوتا جو وہ ظاہر کرتا ہے۔ جعلی پروفائل، نامعلوم دوستیاں اور ذاتی معلومات کا غلط استعمال عام ہیں۔ چھوٹے بچے اکثر اعتماد میں آ کر ایسی معلومات شیئر کر دیتے ہیں جو بعد میں خطرہ بن سکتی ہیں۔ وہ آن لائن دنیا کی حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ ہر مسکراہٹ یا ہر بات مخلصانہ نہیں ہوتی۔ یہ ان کے سماجی شعور اور اعتماد کی بنیاد پر اثر ڈال سکتی ہے۔
پانچواں نقصان اقدار اور رویے پر پڑتا ہے۔ مسلسل تیز اور آسان مواد دیکھنے سے بچے میں صبر اور برداشت کم ہو سکتی ہے۔ وہ فوری تسکین اور آسان حل کی عادت پیدا کر لیتے ہیں۔ محنت اور انتظار کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور یہ عادت زندگی کے بڑے فیصلوں میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ بچوں کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر چیز فوراً نہیں ملتی اور جدوجہد کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔
کچھ والدین سوچتے ہیں کہ ان کا بچہ سمجھدار ہے اور خود احتیاط کر لے گا، مگر تربیت صرف سمجھداری پر نہیں بلکہ ماحول پر بھی منحصر ہے۔ اگر ماحول میں بچے کے لیے بے شمار غیر مناسب مواقع موجود ہوں، تو لغزش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہاں والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ بچے کے ماحول کو محفوظ اور محدود بنائیں۔
اس کا حل یہ نہیں کہ موبائل اور انٹرنیٹ سے مکمل دوری اختیار کر لی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال زندگی کا حصہ ہے اور یہ بچے کے لیے بھی مستقبل میں اہم ہوگا۔ حل یہ ہے کہ رسائی محدود ہو اور نگرانی موجود ہو۔ اگر موبائل دینا ضروری ہو، تو اس کے اوقات مخصوص کریں، حفاظتی فلٹرز اور کنٹرولز لگائیں اور موبائل کا استعمال ایسی جگہ پر کروائیں جہاں والدین دیکھ سکیں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ بچے کے ساتھ مسلسل بات چیت جاری رہے۔ اگر بچہ کسی چیز سے الجھن میں ہو، تو وہ والدین کے پاس آ کر بات کر سکے۔
چھوٹے بچوں کے لیے سب سے بڑی تربیت موجودگی اور محبت ہے۔ انہیں کہانیاں سنائیں، کھیلیں، ان کے سوالوں کا جواب دیں، کتابوں اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ یہ سب چیزیں بچے کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کے لیے بنیادی ہیں۔ موبائل اگر دیا جائے، تو والدین کے ساتھ رہنمائی اور گفتگو بھی ضروری ہے۔ بصورت دیگر، ایک خاموش اسکرین بچے کی سوچ پر خود اثر ڈالنے لگتی ہے۔
یاد رکھیں، بچپن ایک بنیاد ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو جائے، تو مستقبل مضبوط نہیں رہ سکتا۔ بچے کی معصومیت، ان کا تجسس اور ہر نئی بات سیکھنے کی خواہش قیمتی ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس وقت کی اہمیت سمجھیں اور ہر سہولت کے ساتھ دور اندیشی اور حفاظت کا خیال رکھیں۔ موبائل ایک آلہ ہے، مگر اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم سمجھداری سے فیصلے کریں، تو بچے کے ذہن اور کردار کو غیر ضروری خطرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
وقت اور محبت کے ذریعے ہم بچے کی حقیقی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ اگر ہم انہیں موجودگی، توجہ اور رہنمائی دیں، تو وہ سکون اور خوشی پا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، آنے والا کل انہی ہاتھوں میں ہے جو آج ہمارے سامنے معصومیت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی ہاتھ محبت، علم اور محفوظ تربیت کا پہلا ذریعہ ہیں۔

منیب الرحمن عارفیؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سر ہلائے مسکرائے اور غزل جاری کرے
  • معاشرے میں نصیبو کا کردار
  • وحشی
  • خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بچوں میں اسکرین ٹائم کے اثرات
پچھلی پوسٹ
نوجوان اور رہنمائی

متعلقہ پوسٹس

دو بَیل

اکتوبر 25, 2019

27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف

نومبر 15, 2025

عریاں احتجاج

جنوری 21, 2025

راز داں

مارچ 21, 2020

ماسی گُل بانو

نومبر 2, 2019

یہ ابھی بہت چھوٹا ہے

اکتوبر 28, 2025

اودھ کی شام

جنوری 3, 2020

مذہب کی اصل روح

مارچ 18, 2025

بات کیا جانے آ گئی دل میں

مارچ 22, 2026

مولانا مجھے آپ سے شکایت ہے

ستمبر 9, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نسبت و نام سے ہم آگے...

جون 21, 2026

نازیہ کی کہانی

اپریل 1, 2023

جوانی

دسمبر 9, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں