خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوٹا سٹا
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

وٹا سٹا

ایک اردو افسانہ از سید محمد زاہد

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 3, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 3, 2019 0 تبصرے 619 مناظر
620

وٹا سٹا

دونوں ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئے۔ عورت کومرد نے تقریباً گود میں اٹھا رکھا تھا۔ اس کے پاؤں زمین کے ساتھ رگڑ کھا رہے تھے۔ اس کوکمرے میں پڑے ہوئے بنچ پر لٹا کر مرد کو کچھ حوصلہ ہوا۔ ”ڈاکٹر صاحب، ان ظا لموں نے میری بیوی کو بہت مارا ہے۔ دو دن ہمیں کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں دیا۔ آج جب اس نے خون تھوکنا شروع کر دیا تو ہمیں چھوڑا۔ اب بھی میرے بچے ان کے پاس ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اسے بچا لیں۔ “

”کیوں مارا ہے؟ “

”ہم ان کے پاس کام کرتے ہیں۔ میری بیوی دو ماہ سے بیمار ہے۔ کھانستے کھانستے ہلکان ہو جاتی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دھان لگانے کھیت میں جاؤ۔ ہم دو دن نہ جاسکے۔ میں بھی اس کے پاس رہا۔ “

”اس کے ٹیسٹ کروا کر لاؤ۔ “

”آپ کر دیں، میرا مالک آئے گا تو ساری رقم چکا دوں گا۔ “

کچھ دیر کے بعد مالک تو نہ آیا اس کا ملازم آکرحساب چکتا کر گیا۔

انسانی حقوق کے وزیر کی کھلی کچہری تھی۔ وہی شخص کھڑا ہو ا۔ کہنے لگا۔

”ایک خاندان بکاؤ ہے۔ پورا خاندان۔ ہے کوئی خریدار۔ میں، عمر پنتیس سال۔ میری بیوی، ایک چودہ سالہ بچی اور ایک دس سالہ بچہ۔

نسلی مزدور، پشتینی غلام۔ ”

کچہری میں کھلبلی مچ گئی۔ پولیس والے بھاگ اٹھے۔ قریب کھڑے لوگ اس کو کھینچ کر نیچے بٹھانے لگے۔ وہ بولتا جارہا تھا، ”قیمت صرف تین لاکھ۔ چار غلاموں کی قیمت تین لاکھ۔ میں جانتا ہوں انسان بہت سستا ہے اور میں قیمت بہت زیادہ بتا رہا ہوں۔ لیکن میں اس سے کہیں زیادہ کما کر دے سکتا ہوں۔ “

”سب پیچھے ہٹ جائیں۔ “ وزیر کی آواز گونجی۔

”کہو کیا بات ہے؟ “

”عرصہ دراز سے میں عمر درازبھٹی کے کھیتوں میں کام کرتا ہوں۔ وہ مجھے سرگودھا کے ایک زمیندار سے خریدکر لایا تھا۔ میری بیوی اور بچے اس کے گھر میں کام کرتے ہیں۔ ہم اس کی حویلی میں ہی رہتے ہیں۔ جب کوئی بیمار پڑتا ہے یا کوئی شادی بیاہ ہوتا ہے تو میں اس سے رقم لیتا ہوں۔ وہ ساری رقم جمع ہو کر تین لاکھ بن گئی ہے۔ اب میری بیوی بیمار ہے وہ کام نہیں کر سکتی اور مجھے اپنے بچوں کے پاس رہنا پڑتا ہے۔

رقم بڑھتی جا رہی ہے۔

مائی باپ! آپ مجھے اپنے ڈیرہ پر لے جائیں۔ ”

”ٹھیک ہے، میں عمر دراز سے بات کروں گا۔ “

”مائی باپ، مجھے ساتھ لے جائیں۔ میری بیوی بہت بیمار ہے۔ وہ مر جائے گی۔ “

”لیکن میرا ہی ڈیرہ کیوں؟ “

ٓ ”آپ سیاستدان اتنے ظالم نہیں ہوتے۔ آپ کو ان اخبار والوں کا ڈر رہتا ہے۔ میں اور میرے بچے آپ کو دعائیں دیں گے۔ “

”اس کی بیوی کو ہسپتال میں داخل کروایا جائے۔ “ وزیر نے حکم دیا۔

”اور تم گھر جاؤ۔ میں عمر دراز کو کہہ دوں گا۔ پھر تم میرے پاس آجانا۔ “

”صاحب جی، خیراتی ہسپتالوں میں جا کر لوگ لوٹا نہیں کرتے۔ آپ اپنے پاس لے چلیں میں اس کا علاج گھر میں ہی کر لوں گا۔ “

”ٹھیک ہے۔ لیکن اسے ہسپتال میں ہی بھیجو۔ میں ڈاکٹر صاحب کو بھی کہہ دیتا ہوں۔ “

بندہ تیز تھا۔ وزیر کو پسند آگیا۔ کچھ دنوں کے بعد اس نے اسے اپنے ڈیرہ پر منتقل کر لیا۔

بیوی کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو اسے بھی گھر لے آیا۔ آتے ہی اس نے کام سنبھال لیا۔ باتیں بہت سمجھداری کی کرتا۔ آیا تو مریل سا تھا۔ اب اس پرگوشت نظر آنا شروع ہو گیا تھا۔ اکڑ فوں بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ وزیر کے قریب ہوتا جا رہا تھا۔ سارا دن کام کرتا، چوہدری ڈیرے آجاتا تو اس کے ساتھ جڑا رہتا۔

لیکن بیوی کی حالت نہیں سدھر رہی تھی اس کو پتا نہیں کہا ں کہاں چوٹیں آئی تھیں کہ خون تھوکنا بند نہیں ہوتا تھا۔ چوہدری کہتاکہ اس کی دیکھ بھال کرو۔ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤ۔ وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا، ”میرا ا س کے سوا ہے کون؟ میں تو ساری ساری را ت اس کے ساتھ جاگتا ہوں۔ یہ مر گئی تو مجھے کس نے لڑکی دینی ہے؟ بچے میرے چھوٹے چھوٹے ہیں۔ غریبوں کو کون لڑکی دیتا ہے؟ ہما رے خاندان میں تو صرف وٹے سٹے کی شادی ہوتی ہے۔ میری ایک ہی بہن تھی وہ میرے بدلے میں بیاہی جا چکی ہے۔ “

بیوی کی بیماری بڑھتی جا رہی تھی وہ سوکھ کر ہڈی چمڑہ ہو گئی تھی۔ سار ی ساری رات کھانستی رہتی۔ بلغم کے ساتھ سرخ خون اگلتی۔ پھر ایک رات وہ گھر واپس آیا تو جگہ جگہ خون ملا تھوک بکھراپڑا تھا اور وہ اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہی تھی۔ اس رات وہ چل بسی۔

اب وہ اکیلا رہ گیا تھا۔ دونوں بچے چوہدری نے اپنے گھر میں بھیج دیے۔ سار ا دن بھینسوں کے باڑے میں رہتا۔ دودھ پیتا۔ چوہدری ڈیرے پر آجا تا تو اس کے ساتھ ساتھ آکڑ خان بنا پھرتا۔ کبھی رات کو بچے گھر پر ہوتے تو وہ بھی کمرے میں آجاتا ورنہ ساری ساری رات دربار پر جا کر ملنگوں کے ساتھ بیٹھا رہتا۔

دربار پر طرح طرح کی رونقیں موجود تھیں۔ گانے، بھنگڑا، ملنگ، خسرے اور شور شرابہ۔ بھنگ کے دور چلتے۔ دربار بہت وسیع تھا۔ اس کے اردگرد کافی زمین بیکار پڑی ہوئی تھی جہاں جنگلی جھاڑیوں اورخود رو پودں نے جنگل سا بنا رکھا تھا۔ یہ جنگل دربار کے باہر ہونے والی بہت سی سرگرمیوں کا امین تھا۔ سردیوں میں پوست کے ڈوڈوں کی چائے ٹھنڈ کو دور بھگا دیتی۔ لیکن درد کے قافلے جو بیگم کی جدائی کے بعد بڑھ گئے تھے رات بھیگنے کے ساتھ اور گہرائی تک اتر جاتے اور وہ کہیں ٹھکانہ نہ کرتے۔

جب دربار ویران ہو جاتا۔ پہر رات گزر جاتی، دربار پر ہر طرف یاسیت چھا جاتی اور آوارہ کتے بھی چپ سادھ لیتے تو وہ اپنے کمرے میں لوٹ آتا۔ سردیوں کی ہو شربا لمبی اور بھاری راتیں۔ کڑکڑاتے جاڑے صرف آگ سینک کے نہیں گزارے جاسکتے۔ وہ سو چتا رہتاخدا بھی کتنا ظالم ہے مجھے پنتیس سال کی عمر میں رنڈوا بنا دیا۔ کمرے میں اکیلا بیٹھا اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا۔

”شدید سردی کی راتیں میں جاگ کر گزارتا ہوں کمرے کی کھڑکی پر دستک ہو تی ہے، کھولتا ہوں۔ میری بیوی وہ باہر دھند میں کھڑی مجھے پکار رہی ہوتی ہے۔ جگر تک پہنچتی ہوئی سردی، سناٹا، اندھیرا، راستے الجھے الجھے۔ میں بھاگ کر اس کے پیچھے جا تا ہوں۔ وہ آگے آگے چلتی جاتی ہے۔ قد آدم جھاڑیاں، جنگلی پودے، پوشیدہ سرگرمیوں کے رازوں کے امین۔ دوڑ کر اس کو پکڑ لیتا ہوں۔ موٹی ہو چکی ہے۔ اپنی باہیں میرے گرد لپیٹ دیتی ہے۔ ہاتھ کی انگلیوں سے میرے سر میں کنگھی کرتی ہے۔ میں اس کے ابھاروں کے بیچ اپنا منہ چھپائے کھڑا رہتا ہوں۔

ایک آگ سی بھڑکتی جاتی ہے۔ میں اس آ گ کی بوندبوند انڈیل دینا چاہتا ہوں۔ ایک ہی تو ہے جو میرا اپنا پن ہے۔ رات ہے، تنہائی ہے، میں ہوں، میں ہوں اور صرف میں ہوں لیکن میں ہی تو مکمل نہیں، ناف کے نیچے اس کا دھڑ ہی نہیں۔ ”

یہ مایوسی گناہ میں نہ بدل جائے۔ وہ خوفزدہ رہتا۔ تھک کر اس کا بدن سو جاتا لیکن روح پھر بھی جاگتی رہتی۔ وہ سوچتا ہماری روح اور جسم تو پشتینی گروی پڑے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ روح سو جائے اور بدن جا گ جائے۔ یہ نہ ہو کہ دنیا تو گئی ہی ہے کہیں عقبیٰ بھی انگاروں سے بھر جائے۔

دن مہینے گزرتے گئے۔ اداسی بڑھتی گئی۔

پھر ایک دن وہ سرخ کپڑوں کی ایک گٹھری سے بغل میں ساتھ لئے چوہدری صاحب کے پاس آیا۔

”یہ کون ہے؟ “ چوہدری نے حیران ہو کر پو چھا۔

”میری دلہن۔ “ وہ سر جھکائے بیٹھا رہا۔

”میں نے شادی کر لی۔ “

”کیسے؟ “

”بیٹی جوان تھی۔ اس کو بیاہ دیا۔ ا ور اس کے وٹے میں اس کو بیاہ لایا۔ “

کمرے میں خا موشی چھا گئی۔

تھوڑی دیر بعد چوہدری صاحب بولے۔

”تو اب تمہارے بیٹے کی شادی کیسے ہو گی؟ “

”سال کے اندر گابھن ہو جائے گی۔ تو کوئی رل ہی جائے گی۔ “

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ڈیڈی
  • غبارے
  • یوں دل نے ڈھونڈ رکھا ہے
  • گنڈاسا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاکستان پیپلز پارٹی کا جنم
پچھلی پوسٹ
جواری

متعلقہ پوسٹس

جوڑوں کا درد

ستمبر 18, 2025

یوں وقت ہم سے گزارا نہیں گیا

جنوری 15, 2017

سورج اٹھائے ڈھونڈو گے ہم کو گلی گلی

جنوری 23, 2020

میں عورت ذات ہوں

مارچ 8, 2020

اپنے جذبات کی تدفین کیا کرتا تھا

مئی 14, 2020

گردشِ حال پر کتاب لکھوں

اکتوبر 21, 2025

وہ عنایت اگر نہ کرجاتا

دسمبر 17, 2021

نقش محبت

نومبر 30, 2019

مسز ڈی سلوا

جنوری 17, 2015

بارش – رحمت یا زحمت

ستمبر 17, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

درد بے لگام ہو گئے

دسمبر 11, 2022

طوائف اور جگر مرادآبادی

اپریل 24, 2017

موبائل سے بڑھ کر کون

مئی 16, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں