15
مِرے سُخن میں یہی اِک کلام کافی ہے
نبیؐ کی نعت لکھوں بس یہ کام کافی ہے
نہ شہرتیں، نہ ہی اعلیٰ مقام کافی ہے
فقیر کو تو محمدؐ کا نام کافی ہے
بہشت، خُلد بریں اور عَدَن نہ مانگوں میں
مدینے پاک میں تھوڑا قیام کافی ہے
مئے طہور کی لذت تمھیں مبارک ہو
ہمیں تو بس یہی کوثر کا جام کافی ہے
نبیؐ کی آل کی حُرمت پہ جاں لٹانے کو
حضورؐ! آپ کے در کا غلام کافی ہے
تبھی سےعیش جوانی کےہم نے چھوڑے ہیں
پتہ لگا کہ وہاں اِنتظام کافی ہے
مجھے قبول نہیں عمرِ جاوِداں یا رب!
نبیؐ کے شہر میں بس ایک شام کافی ہے
شہِ اُممؐ! تِرے ثاقب کی ایک حسرت ہے
کہ دیکھ لوں میں تِرے فرش وبام کافی ہے
اقبال ثاقب
