خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےماسی
اردو افسانےاردو تحاریرانور جمال انور

ماسی

ایک اردو افسانہ از انور جمال انور

از سائیٹ ایڈمن فروری 3, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 3, 2020 0 تبصرے 473 مناظر
474

بزرگ نے فون کر کے بلایا تھا چنانچہ میں ان کے فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر جا رہا تھا۔ بزرگ نے کہا تھا میں نے افسانہ مکمل کر لیا ہے آ کے لے جاؤ ۔

وہ افسانہ نگار تھے ۔ ہمارے پرچے میں ان کے افسانے باقاعدگی سے چھپتے تھے کیونکہ باقاعدگی سے وہ پیسے بھی دیا کرتے تھے ۔ جب میں نے ان کے دروازے پر دستک دی تو سوچا یہ دو بڑے بڑے کمروں کے فلیٹ میں کتنے اکیلے اکیلے رہتے ہیں،کیوں نا کسی دن میں اپنی محبوبہ کو یہاں لے آؤں ۔کافی پرائیویسی میسر آجائے گی ۔ بزرگ کو کسی بہانے آگے پیچھے کیا جا سکتا ہے ۔
میری محبوبہ بہت اچھی تھی ۔ بیچاری مجھ سے شادی کے چکر میں ہر جگہ جانے کو تیار ہو جاتی تھی ۔ ۔ ویسے ہم پارکوں، سینماؤں اور شاپنگ مالز کے علاوہ اب تک کہیں نہیں گئے ۔ کراچی میں جگہ کا مسلہ تو ہے نا

میں دروازے پر دستک دے چکا تھا اور ساتھ ہی محبوبہ کے بارے سوچ رہا تھا ، ساتھ ہی اس کا گورا چٹا مکھڑا بھی دیکھ رہا تھا ،، آہا ۔ ۔ یہ کانوں کی بالیاں ،یہ ہونٹوں کی سرخیاں ، یہ رخسار ، یہ چتون ، یہ ناک نقشہ ، انسان ہو یا پری ہو تم ، مخاطب کون کر سکتا ہے تم کو لفظ قاتل سے ، میرے زیر مطالعہ شعر آپس میں گڈ مڈ ہونے لگے تبھی اس نے سختی سے آنکھیں چار کرتے ہوئے پوچھا ،، کون ہو بھائی تم ۔ ۔ ۔ بولتے کیوں نہیں ،،

میں ہڑبڑا گیا ، سٹپٹا گیا ، لڑکھڑا گیا ، غش کھا گیا ، مزید بھی جو کچھ ایسے موقعوں پر ہوتا ہے وہ ہوگیا تو غور سے دیکھنے پر پتہ چلا کہ بزرگ کا دروازہ کسی جوان نے کھولا ہے ۔

وہ ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ۔ ایں ۔ ۔ ۔وہ مجھے ۔ ۔ ان سے ملنا ہے ۔ میں بزرگ کا نام ہی سرے سے بھول گیا ۔ تاہم وہ سمجھ گئی اور اندر چلی گئی ۔ تھوڑی دیر بعد واپس آکر بولی ،، آجائیں ، وہ بلا رہے ہیں ۔
میں اس کی قیادت میں اندر داخل ہوا ۔ مگر وہ مزید کسی رہنمائی کی بجائے کچن میں گھس گئی ۔

بزرگ نے بتایا وہ ماسی ہے ، ابھی کام ختم کر کے چلی جائے گی ، تم سناؤ ۔

میں کیا سناتا ، میری تو سٹی گم ہو چکی تھی ، جسے محبوبہ بنا کے شادی کرنے جا رہا تھا وہ اچانک ماسی کے درجے پر چلی گئی تھی اور جو ماسی کے درجے پر یہاں نظر آئی تھی وہ محبوبہ سے بڑھ کر ہوچکی تھی ۔ آخر یہ کیا چکر تھا ؟ یہ کونسا دور تھا ؟ کیا اس دور کے بارے میں پہلے کبھی پیشین گوئی ہوئی تھی کہ ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب گھروں کی ماسیاں آسمان سے اتری حوریں ہوا کریں گی ۔ ۔ مقدور میں ہوتا تو بزرگ سے پوچھتا کہ او لئیم ،، تو نے یہ گنج ہائے گراں مایہ کہاں سے اٹھایا ہے ۔

بزرگ جس دوران افسانہ پڑھ کے سنا رہے تھے میری کن انکھیاں کچن میں جا کر اس کا جائزہ لے رہی تھیں ۔ پھر میں ہاتھ میں بزرگ کا افسانہ اور آنکھوں میں ماسی لیے لوٹ آیا ۔

شام کو ایک بڑے اخبار کے مدیر کے پاس بیٹھا تھا ۔ رہا نہ گیا تو اسے شریک راز کر لیا ۔ مدیر مجھے یوں دیکھنے لگا جیسے میری دماغی حالت کنفرم مشکوک ہو چکی ہے ۔ بولا ابے تیرے یہ دن آ گئے ہیں کہ اب تو ماسیوں کے لیے خوار ہو رہا ہے ۔
میں نے کہا ابے یار تو اسے ایک نظر دیکھے گا نا تو خود بولے گا ۔ ۔
جا بھائی مجھے نہیں دیکھنا کسی ماسی واسی کو ۔
یار دیکھ اسے ماسی مت کہہ کیونکہ ماسی کا نام آتے ہی کسی بوڑھی مائی کی یاد آتی ہے ، تو سمجھ کہ وہ ،، بے بی سٹر ،، ہے ۔
المختصر کہ میں نے جیسے تیسے کر کے مدیر کو قائل کر ہی لیا زیادہ تفصیل میں جاؤں گا تو آپ کا وقت ضائع ہوگا ، ممکن ہے آپ یہ داستان ہی چھوڑ کر اٹھ جائیں ۔ تو آگے کہتا ہوں مدیر دو روز بعد میرے ساتھ چل پڑا ۔ ہمیں تحقیق کرنا تھی کہ کوئی ماسی اتنی خوبصورت اتنی جوان کیسے ہو سکتی ہے ۔ اگر وہ اتنی خوبصورت اور جوان ہے تو ماسی ہی کیوں ہے اور اگر وہ ماسی ہے تو اتنی خوبصورت کیوں ہے ، اس طرح کی الٹ پھیر پہلے کبھی کیوں نہیں نظر آئی ۔

مدیر اور بزرگ دونوں لنگوٹیا یار تھے چنانچہ کھل کے بحث کر کے اس گتھی کو سلجھا سکتے تھے
ہم فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے مگر آج دروازہ خود بزرگ نے کھولا ۔ ماسی غائب تھی ۔ ظاہر ہے وہ گھنٹے دیڑھ کے لیے آتی ہوگی ۔ اسے کیا پتہ تھا کہ میں کہیں زیر بحث بنی ہوئی ہوں ۔
ہم کافی دیر تک جب فالتو باتیں کر چکے تو مدیر نے بالآخر بزرگ کے کندھے پر ہاتھ مارا ،، ہاں بھئی ، یہ ماسی کا کیا چکر ہے ،،؟
کونسی ماسی ؟ بزرگ سوچی پے گئے ۔
وہی ۔ ۔ وہ ۔ ۔ اس دن ۔ ۔ میں افسانہ لینے آیا تھا ۔ ۔ تو ۔ ۔ ۔ میں نے ہکلا کر یاد دلایا ۔

اچھا ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ہاں ۔
وہ کوئی مجبور عورت ہے میں نے صفائی کے لیے رکھ لیا ہے ۔ منتیں کر رہی تھی ۔

تو آج کدھر ہے وہ ؟ مدیر کا سوال
وہ تو جا چکی ہے ۔ بزرگ کا جواب
او۔ ۔ ہو ۔ ۔ ہم اتنی دور سے آئے تھے اس کے لیے ۔
مدیر کے منہ سے نکل گیا
اور اب بزرگ مدیر کو ان نظروں سے دیکھ رہے تھے جن نظروں سے پہلے مدیر نے مجھے دیکھا تھا یعنی جیسے کہہ رہے ہوں ، ابے چریا ہو گیا ہے کیا کم از کم ماسی کو تو چھوڑ دیا کر ۔
مدیر بھی گڑبڑا گیا ۔ بے تکی وضاحت پیش کرنے لگا ۔ ،، دراصل یہ بتا رہا تھا کہ وہ ماسی نہیں بی بی سٹر ہے ۔
اچھا میں اسے فون کر کے دیکھتا ہوں شاید آجائے ۔ بزرگ نے فون پر نمبر ملایا ،، ہیلو ، ہاں ،، دیکھو بیٹا ،، وہ ،، کچھ مہمان آئے ہیں اور فریج میں کچھ ہے بھی نہیں ،، تم ایسا کرو تھوڑا سا ٹائم نکال کر آجاؤ اور بریانی بنا دو ۔ ،، کیا ،، وہ (شوہر ) گھر پہ نہیں ہیں ،،، تم بچے سنبھال رہی ہو،، ارے میرا بیٹا ،، بس تھوڑی دیر کے لیے آجاؤ ، چلو بس چائے بنا دینا ۔۔

بچے اور شوہر وغیرہ کے ذکر پر میں تو مایوس ہوا ہی ہوا مگر مدیر کے بھی ارمانوں پر اوس پڑ گئی ۔ شاید اس نے بھی دل میں ایک تصویر بنا لی تھی ۔ میں نے تعریفیں جو اتنی کی تھیں ۔
مگر جب ماسی نما بے بی سٹر از راہ کرم چائے بنانے کے لیے تشریف لے آئی تو ہم دونوں میں ہی اس نے نئی روح پھونک دی ۔
گہرے سی گرین سوٹ میں اس کا چمکتا جھلکتا بدن ، گورے گورے ہاتھ اور کلائیاں جن میں چوڑیاں بھری ہوئی ۔ کانوں کی بالیاں اور ہونٹوں کی سرخیاں لیے عارض و کاکُل اور پلکیں بھی سی گرین کلر کی ،، اف ،، یہ ماسی اس قدر میچنگ کے ساتھ کیوں آئی ہے ۔اس سے پہلے کہ وہ چائے بناتی ، مدیر نے جلدی سے مجھے پانچ سو کا نوٹ پکڑایا اور کہا ،، بھاگ کے جا اور سموسے وغیرہ لے آ ۔
میں بھاگ کر گیا اور سموسے چپس رول جلیبیاں اور جانے کیا کیا لے کر آ گیا ۔ ماسی نے پلیٹیں فراہم کیں ۔ ہم نے وہ تمام اشیاء نکال کر میز پر سجا دیں ۔
ہم ماسی کے سامنے مدیر اور نائب مدیر کی بجائے مکمل طور پر نوکر ، غلام ، چپڑاسی اور کمی کمین وغیرہ بن گئے تھے اوپر سے بزرگ کی زیر لب مسکراہٹ الگ ہماری عزت خراب کر رہی تھی ۔پھر جب چائے آگئی تو مدیر نے کہا ،، آپ بھی بیٹھیے ناں ۔ ۔ یہ سموسہ لیجئیے ۔ ۔ یہ بسکٹ ہیں ، یہ نمکو ،، یہ اتنا سب ، یہ بہت زیادہ ہے ، ہم اکیلے نہیں کھا سکتے ، ، ادھر آجائیے ، یہ اس والے صوفے پر بیٹھ جائیے ۔

ماسی کے چہرے پر اپنے ہی معاملات کا تفکر پھیلا ہوا تھا ۔ بولی ،، نہیں مجھے جانا ہے ، اب میں جاؤں نا انکل ۔ بزرگ کو اس نے انکل کہا
بزرگ نے کہا – بھئی یہ اتنا ضد کر رہے ہیں تو بیٹھ جاؤ تھوڑی دیر

چار و ناچار وہ بیٹھ گئی ۔ مگر صوفے پر نہیں ،، زمین پر
ملاحظہ ہو کہ ہم تین بندے صوفوں پر دراز تھے اور وہ زمین پر بیٹھ گئی ۔ بالکل نوکرانیوں کی طرح ۔
ہم اسے ماہ , تمام کہہ رہے تھے ۔ ملکہ بلقیس سمجھ کر تخت پر بٹھانا چاہ رہے تھے مگر وہ ثابت کر رہی تھی کہ نہ صرف ماسی ہے بلکہ نہایت ہی بری ماسی ہے ۔ اور اس وقت تو حد ہی ہو گئی جب اس نے اپنے پرس سے ایک خالی پلاسٹک کی تھیلی نکالی پھر اسے کھول کر بالکل بھکاریوں کی طرح کہا ،، اگر یہ سموسے وغیرہ ضرورت سے زیادہ ہیں تو اس میں ڈال دیں ۔ میرے بچے کھا لیں گے ۔

تحریر :- انور جمال انور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ملا نصیر الدین
  • سیاہ گڑھے
  • ہیں خواب میں ہنوز
  • اعداد و شمار کا پاکستان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شال
پچھلی پوسٹ
دودا پہلوان

متعلقہ پوسٹس

منظروں کی ڈھیری پر شام کا بسیرا ہے

جون 3, 2020

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 13, 2025

کوکن کا نسائی ادب

مئی 23, 2019

کوئی مرے کوئی جیوے

مئی 22, 2021

پاکستان خالی ہو رہا ہے

اگست 15, 2025

بےنظیر

دسمبر 29, 2019

علوم کی بدنصیبی

جنوری 16, 2026

نوجوان ورتھر کی داستان غم اور لیلیٰ

جون 2, 2026

یہاں کچھ پھول رکھے ہیں

دسمبر 15, 2019

جلاوطن

جون 3, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سنا ہے عالم بالا میں کوئی...

جنوری 3, 2020

سعادت حسن منٹو

جنوری 9, 2026

عاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟

جولائی 18, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں