خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامامید سب سے بڑی مزاحمت ہے
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

امید سب سے بڑی مزاحمت ہے

از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2026
از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2026 0 تبصرے 56 مناظر
57

MA Doshi Column logo

وہی تاج ہے، وہی تخت ہے، وہی زہر ہے، وہی جام ہے
یہ وہی خدا کی زمین ہے، یہ وہی بتوں کا نظام ہے
بڑے شوق سے مرا گھر جلا، کوئی آنچ تجھ پہ نہ آئے گی
یہ زباں کسی نے خرید لی، یہ قلم کسی کا غلام ہے

بشیر بدر صاحب کے ان اشعار سے اب سچ میں یہی لگنے لگا ہے کہ ہماری زبان کسی نے خرید لی ہے اور یہ قلم کسی کا غلام بن چکا ہے۔

سچائی جب بہت کڑوی ہو جائے تو انسان قصے کہانیوں کا سہارا لیتا ہے۔ داستانیں صرف بچوں کو سلانے کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ یہ کبھی کبھی سوئے ہوئے شعور کو جگانے کا کام بھی کرتی ہیں۔ ایک ایسے ہی جنگل کی کہانی ہے جسے دنیا "شیرستان” کے نام سے جانتی تھی۔ کہنے کو تو یہ ایک ہرا بھرا، لہلہاتا ہوا جنگل تھا جہاں زندگی اپنی پوری رعنائی کے ساتھ رواں دواں تھی، لیکن اس ہریالی کے پیچھے سائے بہت گہرے تھے۔

شیرستان کا ایک باقاعدہ نظام تھا۔ وہاں جانوروں کی ایک کونسل تھی جہاں انتخابات ہوتے تھے، نمائندے چنے جاتے تھے اور انصاف کی عدالتیں بھی سجتی تھیں۔ بظاہر دنیا کو یہی دکھایا جاتا تھا کہ یہاں کا نظامِ حکومت عوام کی مرضی سے چلتا ہے۔ لیکن اس پورے نظام کی ایک ایسی سچائی تھی جس سے جنگل کا بچہ بچہ واقف تھا، مگر زبان پر لانے کی اجازت کسی کو نہیں تھی۔ اصل طاقت کونسل کے پاس نہیں، بلکہ جنگل کی اس اندھیری غار میں تھی جہاں شیر رہتے تھے۔ کونسل کا ہر فیصلہ، ہر قانون اور ہر حکم نامہ پہلے اس غار کی منظوری کا محتاج ہوتا تھا۔ اگر شیروں کی غار سے ہری جھنڈی نہ ملتی، تو کونسل کا بڑے سے بڑا فیصلہ بھی کاغذ کا ایک بے جان ٹکڑا بن کر رہ جاتا۔

اس شیرستان کے شمال میں ایک بے حد خوبصورت وادی تھی جسے سب "وادی چنار” کہتے تھے۔ یہ وادی جتنی دلکش تھی، اتنی ہی دکھی بھی تھی۔ چنار کے سرخ پتے گویا اس وادی کے باشندوں کے خون اور آنسوؤں کی عکاسی کرتے تھے۔ اس وادی کے پنچھی، ہرن اور دیگر معصوم جانور برسوں سے ایک ہی خواب دیکھ رہے تھے کہ ایک دن وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں گے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے جنگل کے فیصلے ان کی اپنی مرضی سے ہوں، کسی غار کے حکم پر نہ ہوں۔

لیکن المیہ یہ تھا کہ چنار وادی کو ہر طاقتور فریق نے اپنی جاگیر سمجھ رکھا تھا۔ کوئی اسے اپنی بقا کا مسئلہ کہتا تو کوئی اسے اپنی انا کا محور بنا لیتا۔ اس کھینچ تان میں وادی کے اصل باشندوں کی آواز کہیں بہت پیچھے دب کر رہ گئی تھی، ان کے زخم وقت کے ساتھ گہرے ہوتے گئے، لیکن ان زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ آزادی کی ہوا میں سانس تو لینا چاہتے تھے، مگر شیرستان کے طاقتور شکاریوں نے ان کی فضاؤں پر اپنے خوف کے پہرے بٹھا رکھے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور شیرستان میں ایک ایسا عجیب و غریب نظام جڑ پکڑ گیا جس کی مثال دنیا کے کسی اور جنگل میں نہیں ملتی تھی۔

کہنے کو تو اس جنگل میں ہر چند سال بعد انتخابات کا میلہ سجتا تھا، اور یہ میلہ بھی طاقتور کی مرضی کے بغیر نہیں سج پاتا۔ اس انتخابی میلے میں جانور لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالتے تھے، لیکن سب جانتے تھے کہ ووٹوں کی گنتی سے پہلے ہی یہ طے ہو چکا ہوتا ہے کہ کس کا سر تاج کے لیے موزوں ہے اور کس کو پنجرے میں بند کرنا ہے۔ اختیار کی کرسی پر جو بھی بیٹھتا، اس کی لگامیں غار والے اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگل میں روز صبح اخبارات چھپتے تھے، پرندے خبریں سناتے تھے، لیکن ہواؤں میں ایک عجیب سا ڈر تھا۔ وہ سچائیاں جو سب کو معلوم تھیں، اخباروں کے صفحات پر جگہ نہیں پا سکتی تھیں۔ قلم چلانے والوں کو معلوم تھا کہ کون سی لکیر پار کرنے سے ان کے پر کاٹ دیے جائیں گے۔

جنگل میں ایک انصاف کدہ بھی قائم تھا جہاں انصاف کے منصف موجود ہوا کرتے تھے، جن کے پاس مظلوم جانور فریاد لے کر جاتے تھے۔ لیکن ان عدالتوں کے کچھ ایسے چور دروازے بھی تھے جن پر دستک دینے کی جرات کوئی بڑا سے بڑا منصف بھی نہیں کر سکتا تھا۔ طاقتور کے خلاف فائلیں کھلتی ضرور تھیں، مگر انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر بندھی پٹی شیروں کے خوف سے مزید کالی ہو جاتی تھی۔

عوام الناس کو روز یہ یقین دلایا جاتا کہ آپ ایک آزاد اور جمہوری جنگل کے باسی ہیں، آپ کی رائے ہمارے لیے مقدم ہے، لیکن رات کی تاریکی میں جب غار سے کوئی دھاڑ سنائی دیتی تو سب کی سٹی گم ہو جاتی۔ ہر بڑا اور اہم فیصلہ اسی غار سے لکھ کر آتا تھا اور کونسل کے وزرا اسے اپنی کامیابی بتا کر عوام کے سامنے پیش کر دیتے تھے۔

جنگل کے ایک پرانے اور گھنے درخت پر ایک بوڑھا الو رہا کرتا تھا۔ وہ دن بھر خاموش رہتا اور رات بھر اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے جنگل کے بدلتے رنگوں کو دیکھتا تھا۔ اس نے شیرستان کے کئی موسم دیکھے تھے، کئی عروج اور کئی زوال دیکھے تھے۔

ایک شام، جب جنگل میں انتخابات کے نتائج کا جشن منایا جا رہا تھا اور نئی کونسل کے قیام پر تالیاں بج رہی تھیں، تو کچھ نوجوان جانوروں نے الو سے پوچھا کہ دادا! کیا اب ہمارے جنگل کے دن بدل جائیں گے؟ کیا اب ہم واقعی آزاد ہو گئے ہیں؟

بوڑھے الو نے ایک سرد آہ بھری، اپنی گردن کو آہستہ سے گھمایا اور ایک ایسا جملہ کہا جو شیرستان کی پوری تاریخ کا نچوڑ بن گیا۔ اس نے کہا کہ یہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو، یہ تمہاری آنکھوں کا دھوکہ ہے۔ یہاں بھی وہی ہو گا جو ازل سے ہوتا آیا ہے۔ یہاں بھی تخت کسی اور کا ہو گا اور تاج کسی اور کے سر پر سجا دیا جائے گا۔ یہاں بھی وہ دھندلا سایہ ہو گا (سول مارشل لا) جہاں نہ جمہوریت مکمل نظر آئے گی، نہ ہی مارشل لا کا الزام لگایا جائے گا۔

الو کی اس بات نے شیرستان کے پورے نظام کا پردہ چاک کر دیا تھا۔ ادھر ایک ایسا سحر تھا جس میں بادشاہ تو سامنے نظر آتا تھا، لیکن اس کے پیچھے جادوگر کوئی اور تھا۔ تاج پہننے والا سمجھتا تھا کہ وہ حاکم ہے، لیکن اس کی ہر جنبشِ ابرو غار کے اشاروں کی پابند ہوتی تھی۔ جس جنگل میں ایسا نظام نافذ ہو وہاں کے جانوروں کو یہ جاننے میں مدت لگ جاتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی بات کس سے کریں، حقوق کی جنگ ایوان میں لڑائیں یا عملی میدان میں۔ زیادہ دیر اسی الجھن کا شکار رہنے والے جانور ہمیشہ پوشیدہ طاقت کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہی کالے غار والے ان کو غداری کی اسناد جاری کر دیتے ہیں۔

شیرستان کا یہ المیہ آج بھی جاری ہے۔ وادی چنار کے زخم آج بھی تازہ ہیں، اخباروں کے صفحات پر سچ کی تلاش آج بھی ادھوری ہے اور عدالتوں کے وہ مخصوص دروازے آج بھی بند ہیں۔ مگر تاریخ کا ایک اصول ہے کہ سائے چاہے کتنے ہی گہرے اور طویل کیوں نہ ہو جائیں، وہ سورج کی سچی روشنی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ کٹھ پتلیوں کا تماشا اس وقت تک ہی چلتا ہے جب تک دیکھنے والے خاموش رہیں۔ جس دن شیرستان کے عام جانوروں نے اس سائے کو پہچان لیا اور کٹھ پتلی کے بجائے ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ پر نظر جما لی، اس دن تخت اور تاج کا یہ دھوکہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اور تب شاید وادی چنار کے چناروں پر حقیقی بہار آئے گی، جہاں فیصلے غاروں میں نہیں، بلکہ کھلی ہواؤں میں ہوں گے۔

آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ امید رکھیں، ایک دن نظام کی تبدیلی ضرور ہو گی کیونکہ امید تمام تر اندھیروں کے باوجود تاریخ کی سب سے بڑی مزاحمت ہے۔

ایم اے دوشی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیا اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے؟
  • امید کی شمع
  • دورِ حاضر میں ادب کی افادیت اور معاشرتی تشکیل
  • سوہانجنا ۔ ایک کرشماتی درخت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دو دوستوں کی گہری علمی محفل
پچھلی پوسٹ
شادی کرنے سے پہلے

متعلقہ پوسٹس

خوابوں کی کشتی اور زندگی کا سمندر

دسمبر 1, 2024

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے!

فروری 12, 2022

اردو میں ادبی تاریخ کی روایت

دسمبر 4, 2019

گزر گیا اک برس اور ذندگی کا

جنوری 2, 2025

کراچی کے بلدیاتی نہیں بد نیتی انتخابات!

جنوری 22, 2023

سکون کی تلاش

جون 13, 2025

ماسی گُل بانو

نومبر 2, 2019

فطرت کے بھکاری

اپریل 14, 2020

دنیا اور آخرت کی زندگی میں توازن

ستمبر 6, 2020

باتوں ہی باتوں میں

جنوری 22, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

معاشرہ پھول بنائیں انگار نہیں !

جنوری 2, 2021

نازیہ کی کہانی

اپریل 1, 2023

اک شامِ غم کے سائے میں

دسمبر 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں