خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسخاوت
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

سخاوت

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 10, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 10, 2025 0 تبصرے 104 مناظر
105

سخاوت اسلامی زاویۂ نظر اور عربی ورثہ کی روشنی میں

اسلام دینِ اعتدال و توازن ہے۔ اس نے انسانی اوصاف و ملکات کے لیے ایک واضح میزان قائم کیا، جس میں ہر عمل کا مقام بھی متعین ہے اور اس کی حدود بھی۔ اسی لیے اسلام نے ایک طرف اسراف و تبذیر سے روکا، تو دوسری طرف بخل و شح کی سخت مذمت کی، اور ایسی شریعت عطا کی جس میں انسان اپنی جبلّت کے بہترین پہلو سخاوت، ایثار اور جود کی بلندیوں تک پہنچ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جود و انفاق کی خصوصی ترغیب وارد ہوئی اور اسے یقین، برکت، تطہیرِ نفس اور سماجی رحمتوں کا ذریعہ قرار دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ، فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ
یہ آیت سخاوت کے بے پایاں اجر کی ایک بہترین مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ انفاق کے اجر کو انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا: إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ۔
نبی کریم ﷺ نے سخاوت کا مقام یوں بیان فرمایا: السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ، قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ۔
اور فرمایا: ما نَقَصَ مالٌ مِنْ صَدَقَةٍ
یعنی صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی۔
مذکورہ نصوص سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جود و سخا بہت بڑے اجر، عظیم برکت اور بلند اخلاق کا ذریعہ ہے۔
اسلام سے پہلے بھی عرب جود و سخا کے حامل تھے، بلکہ وہ اسے عزت و افتخار کا درجہ دیتے تھے۔ مہمان کی تکریم، محتاج کی دستگیری اور پڑوسی کا خیال رکھنا ان کے نزدیک شرافت کی علامت تھا، اور بخل ایک ایسا عیب تھا جسے وہ ناقابلِ برداشت سمجھتے تھے۔ شاعر کہتا ہے:
فَصِرْتَ الفَقِيرَ وَأَنْتَ الغَنِيُّ (العقد الفريد 1/189)
یعنی بخل نے تجھے فقیر بنا دیا حالانکہ تو مال دار تھا۔
قرآن نے بھی سخاوت کو تقویٰ کے ساتھ ملا کر ذکر کیا، فرمایا:
فَأَمَّا مَنْ أَعْطىٰ وَاتَّقىٰ (الليل/٥)
یعنی حقیقی پرہیزگار وہی ہے جو عطا بھی کرے اور اپنے رب سے ڈرے۔
سخاوت کی تاریخ میں سب سے نمایاں نام حاتم طائی کا ہے، جو جود و کرم کی علامت بن چکا ہے۔ ان کے یہاں مہمان آ جائے تو غلام آزاد کر دیے جاتے، اور وہ راتوں کو آگ روشن کرتے تاکہ راہگیر ان کے خیمے تک پہنچ سکیں۔
ان کے اشعار میں سخاوت کا فلسفہ یوں ملتا ہے: ما أنفقتُ كان نصيبي (حماسة الخالديين 1/160)
یعنی حقیقت میں میرا حصہ تو وہی ہے جو میں نے خرچ کیا۔
اس کی اہلیہ نے جب اسے ٹوکا تو اس نے سخاوت کے مزاج کی توضیح کرتے ہوئے کہا: إنّ الجوادَ يرى في مالِه سُبُلاً (الشعر والشعراء 1/238)
یعنی سخی اپنے مال میں خرچ کرنے کے بے شمار راستے دیکھتا ہے۔
عربی ادب کے شعرا نے بھی جود کی عظمت کو اپنے اشعار میں خوب سمویا ہے۔ ابو تمام نے المتوکل کی مدح میں کہا: هو البحرُ من أيّ النواحي أتيتَه (المحاسن والأضداد 1/87)
یعنی وہ تو سمندر ہے، جدھر سے آؤ، موجِ کرم ہی پاؤ گے۔
بکر بن النطاح نے جود کی حد بیان کرتے ہوئے کہا: هل تجب الزكاة على جواد؟ (الحماسة المغربية 1/671)
گویا وہ اتنا سخی ہے کہ اس پر زکاۃ فرض ہونے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
ابوکدراء العجلی کہتا ہے: إنّي كريمٌ وإنّ اللومَ يؤذيني (الفاضل 1/38)
یعنی میں سخی ہوں اور ملامت مجھے دکھ دیتی ہے۔
اسحاق الموصلی نے کہا: أرى الناسَ خِلّانَ الجواد (المحاسن والأضداد 1/27)
کہ لوگ ہمیشہ سخی کے دوست ہوتے ہیں۔
النمر بن تولب نے مال کے فلسفہ پر یوں روشنی ڈالی:
ما أبقيتُ لم أكن ربَّه (الكامل في الأدب 1/292)
یعنی جو میں نے بچا کر رکھا، وہ میرا نہ رہا۔
اور بحتری نے کہا: لكفاهُ عاجلُ وجهِكَ المتهلّلِ (المحاسن والأضداد 1/87)
یعنی تیرا مسکراتا ہوا چہرہ ہی دوسروں کے لیے کافی عطیہ ہے۔
بکر بن النطاح نے انتہائی سخاوت کا نقشہ یوں کھینچا:
لقاسمَ مَن يرجوه شطرَ حياتهِ (العقد الفريد 1/198)
یعنی اگر مال نہ ہو تو سخی اپنی زندگی بھی بانٹ دے گا۔
عرب اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سخاوت صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ مروّت، شجاعت، اخلاق اور بلند ہمتی کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے کہا گیا: والحرُّ حرٌّ وإن ألمّ به الضرُّ (عيون الأخبار 1/414)
یعنی آزاد خوددار شخص مصیبت میں بھی اپنی شرافت نہیں بدلتا۔
سخاوت انسان کے دل کو وسعت دیتی ہے، تعلقات میں محبت بڑھاتی ہے، اور انسان کو سماج میں عزت کا مقام عطا کرتی ہے؛ جبکہ بخل انسان کو تنہا اور دلوں سے دور کر دیتا ہے۔
الغرض جود و سخا اخلاقی خوبی ہونے کے ساتھ ساتھ، اسلامی زندگی کا نہایت اہم حصہ ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بے شمار فضیلتیں وارد ہیں، اور انسانی معاشروں میں اس کی برکتیں روزِ روشن کی طرح نمایاں ہیں۔ عربی ادب و تاریخ بھی اس خلقِ عظیم کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔
اسلام چاہتا ہے کہ اس امت کا ہر فرد حاتم کا وارث، ابو تمام کا مضمون اور قرآن کا نور بنے؛ نہ کہ بخل و حرص کے اندھیروں کا اسیر۔
اللہ ہمیں سچی سخاوت، پاکیزہ نیت اور انفاق کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔

از ابو خالد قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • روح اور بدن
  • انسدادِموروثی سیاست اور مہنگائی کا خاتمہ !
  • موذی
  • وہی سفر وہی صحرا دکھائی دیتا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
معاشرے میں نصیبو کا کردار
پچھلی پوسٹ
خاموش مگر پُراثر رہنما

متعلقہ پوسٹس

بھارتی فالس فلیگ آپریشن کی سیاست

اپریل 26, 2025

میں کہ سائر بھی ہوں ہدایت بھی

اگست 28, 2025

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

اکتوبر 27, 2020

رئیس امروہوی | رئیس شہر سخن

جولائی 31, 2022

اگائیں کیسے یقین آنکھیں

دسمبر 8, 2025

نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے

دسمبر 16, 2020

اک مدت تک کوشش

مارچ 29, 2026

نیا عزم

جون 10, 2024

مٹی کی خوشبو

فروری 4, 2020

مت رو سالگ رام

جنوری 6, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جب شیطان ناکام ہوتا ہے

نومبر 20, 2024

مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ

مارچ 3, 2026

نوٹ اصلی ہے مگر آدمی بے...

جنوری 5, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں