خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسخاوت
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

سخاوت

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 10, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 10, 2025 0 تبصرے 126 مناظر
127

سخاوت اسلامی زاویۂ نظر اور عربی ورثہ کی روشنی میں

اسلام دینِ اعتدال و توازن ہے۔ اس نے انسانی اوصاف و ملکات کے لیے ایک واضح میزان قائم کیا، جس میں ہر عمل کا مقام بھی متعین ہے اور اس کی حدود بھی۔ اسی لیے اسلام نے ایک طرف اسراف و تبذیر سے روکا، تو دوسری طرف بخل و شح کی سخت مذمت کی، اور ایسی شریعت عطا کی جس میں انسان اپنی جبلّت کے بہترین پہلو سخاوت، ایثار اور جود کی بلندیوں تک پہنچ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جود و انفاق کی خصوصی ترغیب وارد ہوئی اور اسے یقین، برکت، تطہیرِ نفس اور سماجی رحمتوں کا ذریعہ قرار دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ، فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ
یہ آیت سخاوت کے بے پایاں اجر کی ایک بہترین مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ انفاق کے اجر کو انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا: إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ۔
نبی کریم ﷺ نے سخاوت کا مقام یوں بیان فرمایا: السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ، قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ۔
اور فرمایا: ما نَقَصَ مالٌ مِنْ صَدَقَةٍ
یعنی صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی۔
مذکورہ نصوص سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جود و سخا بہت بڑے اجر، عظیم برکت اور بلند اخلاق کا ذریعہ ہے۔
اسلام سے پہلے بھی عرب جود و سخا کے حامل تھے، بلکہ وہ اسے عزت و افتخار کا درجہ دیتے تھے۔ مہمان کی تکریم، محتاج کی دستگیری اور پڑوسی کا خیال رکھنا ان کے نزدیک شرافت کی علامت تھا، اور بخل ایک ایسا عیب تھا جسے وہ ناقابلِ برداشت سمجھتے تھے۔ شاعر کہتا ہے:
فَصِرْتَ الفَقِيرَ وَأَنْتَ الغَنِيُّ (العقد الفريد 1/189)
یعنی بخل نے تجھے فقیر بنا دیا حالانکہ تو مال دار تھا۔
قرآن نے بھی سخاوت کو تقویٰ کے ساتھ ملا کر ذکر کیا، فرمایا:
فَأَمَّا مَنْ أَعْطىٰ وَاتَّقىٰ (الليل/٥)
یعنی حقیقی پرہیزگار وہی ہے جو عطا بھی کرے اور اپنے رب سے ڈرے۔
سخاوت کی تاریخ میں سب سے نمایاں نام حاتم طائی کا ہے، جو جود و کرم کی علامت بن چکا ہے۔ ان کے یہاں مہمان آ جائے تو غلام آزاد کر دیے جاتے، اور وہ راتوں کو آگ روشن کرتے تاکہ راہگیر ان کے خیمے تک پہنچ سکیں۔
ان کے اشعار میں سخاوت کا فلسفہ یوں ملتا ہے: ما أنفقتُ كان نصيبي (حماسة الخالديين 1/160)
یعنی حقیقت میں میرا حصہ تو وہی ہے جو میں نے خرچ کیا۔
اس کی اہلیہ نے جب اسے ٹوکا تو اس نے سخاوت کے مزاج کی توضیح کرتے ہوئے کہا: إنّ الجوادَ يرى في مالِه سُبُلاً (الشعر والشعراء 1/238)
یعنی سخی اپنے مال میں خرچ کرنے کے بے شمار راستے دیکھتا ہے۔
عربی ادب کے شعرا نے بھی جود کی عظمت کو اپنے اشعار میں خوب سمویا ہے۔ ابو تمام نے المتوکل کی مدح میں کہا: هو البحرُ من أيّ النواحي أتيتَه (المحاسن والأضداد 1/87)
یعنی وہ تو سمندر ہے، جدھر سے آؤ، موجِ کرم ہی پاؤ گے۔
بکر بن النطاح نے جود کی حد بیان کرتے ہوئے کہا: هل تجب الزكاة على جواد؟ (الحماسة المغربية 1/671)
گویا وہ اتنا سخی ہے کہ اس پر زکاۃ فرض ہونے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
ابوکدراء العجلی کہتا ہے: إنّي كريمٌ وإنّ اللومَ يؤذيني (الفاضل 1/38)
یعنی میں سخی ہوں اور ملامت مجھے دکھ دیتی ہے۔
اسحاق الموصلی نے کہا: أرى الناسَ خِلّانَ الجواد (المحاسن والأضداد 1/27)
کہ لوگ ہمیشہ سخی کے دوست ہوتے ہیں۔
النمر بن تولب نے مال کے فلسفہ پر یوں روشنی ڈالی:
ما أبقيتُ لم أكن ربَّه (الكامل في الأدب 1/292)
یعنی جو میں نے بچا کر رکھا، وہ میرا نہ رہا۔
اور بحتری نے کہا: لكفاهُ عاجلُ وجهِكَ المتهلّلِ (المحاسن والأضداد 1/87)
یعنی تیرا مسکراتا ہوا چہرہ ہی دوسروں کے لیے کافی عطیہ ہے۔
بکر بن النطاح نے انتہائی سخاوت کا نقشہ یوں کھینچا:
لقاسمَ مَن يرجوه شطرَ حياتهِ (العقد الفريد 1/198)
یعنی اگر مال نہ ہو تو سخی اپنی زندگی بھی بانٹ دے گا۔
عرب اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سخاوت صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ مروّت، شجاعت، اخلاق اور بلند ہمتی کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے کہا گیا: والحرُّ حرٌّ وإن ألمّ به الضرُّ (عيون الأخبار 1/414)
یعنی آزاد خوددار شخص مصیبت میں بھی اپنی شرافت نہیں بدلتا۔
سخاوت انسان کے دل کو وسعت دیتی ہے، تعلقات میں محبت بڑھاتی ہے، اور انسان کو سماج میں عزت کا مقام عطا کرتی ہے؛ جبکہ بخل انسان کو تنہا اور دلوں سے دور کر دیتا ہے۔
الغرض جود و سخا اخلاقی خوبی ہونے کے ساتھ ساتھ، اسلامی زندگی کا نہایت اہم حصہ ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بے شمار فضیلتیں وارد ہیں، اور انسانی معاشروں میں اس کی برکتیں روزِ روشن کی طرح نمایاں ہیں۔ عربی ادب و تاریخ بھی اس خلقِ عظیم کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔
اسلام چاہتا ہے کہ اس امت کا ہر فرد حاتم کا وارث، ابو تمام کا مضمون اور قرآن کا نور بنے؛ نہ کہ بخل و حرص کے اندھیروں کا اسیر۔
اللہ ہمیں سچی سخاوت، پاکیزہ نیت اور انفاق کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔

از ابو خالد قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وٹا سٹا
  • بڑے میاں
  • بابا جمہورا
  • قومی یکجہتی اور اردو زبان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
معاشرے میں نصیبو کا کردار
پچھلی پوسٹ
خاموش مگر پُراثر رہنما

متعلقہ پوسٹس

سکندر کی خود کشی کی کوشش

جنوری 4, 2022

کچھ رہ جانے والی باتیں

جنوری 23, 2020

پت جھڑ کی آواز

جنوری 7, 2020

عزت صحت اور محبت

جنوری 25, 2026

تقسیم ہند اور کشمیر

اگست 27, 2020

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

شعر، غیر شعر اور نثر

مئی 21, 2024

غیر آئینی بندوبست اور عوامی احتجاج

فروری 21, 2023

یومِ آزادی اور ہم

اگست 15, 2020

تمنا وصل حسرت بن کہ رہ گئی

دسمبر 17, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میرا اور اس کا انتقام

جنوری 15, 2020

ایک تصویر

جنوری 13, 2020

استغفار

اگست 17, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں