خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااُردو کی مخالفت: قومی یکجہتی پر حملہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

اُردو کی مخالفت: قومی یکجہتی پر حملہ

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 21, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 21, 2025 0 تبصرے 101 مناظر
102

اردو پاکستان کی پہچان، ہماری تہذیب اور قومی وحدت کی سب سے بڑی علامت ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت جب نئی مملکت کے لیے زبان کے انتخاب کا مرحلہ آیا، بانیانِ پاکستان نے اردو کو قومی زبان قرار دیا۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اردو کسی ایک صوبے یا علاقے کی زبان نہیں تھی بلکہ برصغیر کے تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث تھی۔ یہ زبان تحریکِ پاکستان کے قافلے کی آواز بنی اور خوابِ آزادی کو تعبیر دینے والی قوت ثابت ہوئی۔ اردو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ہماری تاریخ، قربانیوں اور اسلامی تہذیب کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

افسوس یہ ہے کہ اردو کو آئینی اور قانونی سطح پر قومی زبان تسلیم کرنے کے باوجود عملی طور پر کبھی نافذ نہ کیا گیا۔ ابتدا ہی سے چند حلقوں نے صوبائی تعصب کو ہوا دی اور یہ پروپیگنڈہ کیا کہ اردو ان پر مسلط کی جا رہی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ چونکہ اردو کسی ایک صوبے کی زبان نہیں تھی، یہ سب کے لیے مشترکہ زبان کا درجہ رکھتی تھی۔ اردو کی مخالفت دراصل پاکستان کی نظریاتی بنیاد پر ضرب تھی۔ صوبائی زبانوں کے تحفظ کی ضرورت اپنی جگہ درست ہے، مگر ان زبانوں کی آڑ میں اردو کے خلاف شور مچانا قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کے مترادف تھا۔ یہی رویہ بعد میں لسانی سیاست اور صوبائی تقسیم کا سبب بنا۔

1973 کے آئین میں شق 251 کے تحت اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ پندرہ برس کے اندر اسے سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے گا۔ مگر آج پچاس برس گزرنے کے باوجود یہ وعدہ صرف کاغذوں کی حد تک رہ گیا۔ 2015 میں سپریم کورٹ نے بھی حکومت کو حکم دیا کہ تمام سرکاری اداروں میں اردو رائج کی جائے، مگر اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئین، عدالت اور عوام سب اردو کے حق میں ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے؟ جواب صاف ہے: انگریزی پرست طبقہ، بیوروکریسی اور حکمران اشرافیہ۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ اگر اردو مکمل طور پر رائج ہو گئی تو ان کی انگریزی پرستی اور اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ انگریزی کے ذریعے وہ عوام کو کمتر اور خود کو برتر ثابت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو دشمنی پر مبنی رویہ دہائیوں سے جاری ہے۔

دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی زبان کو ترقی اور علم کا ذریعہ بنایا۔ چین نے چینی زبان کے ذریعے سائنس و ٹیکنالوجی میں کمال حاصل کیا، جاپان نے جاپانی زبان کو صنعت و تحقیق کی بنیاد بنایا، اور جرمنی و فرانس نے اپنی زبانوں کو اعلیٰ تعلیم اور ریسرچ کا ذریعہ بنایا۔ ہم نے اپنی زبان کو پسِ پشت ڈال کر انگریزی غلامی کو خوشی خوشی قبول کیا، جو قومی غیرت اور خودداری کے منافی ہے۔

یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ صوبائی زبانیں ہماری ثقافتی شناخت کا لازمی حصہ ہیں۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو اور دیگر زبانیں پاکستان کے ادبی خزانے کو مالا مال کرتی ہیں، لیکن ان کی اہمیت اردو کی اہمیت کو کم نہیں کرتی۔ اردو وہ رشتہ ہے جو ان سب زبانوں کے بولنے والوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جب ایک سندھی کسی بلوچی سے ملتا ہے یا ایک پنجابی کسی پشتون سے بات کرتا ہے تو اردو ہی ذریعۂ اظہار بنتی ہے۔ اگر اردو نہ ہو تو یہ رشتہ ٹوٹ جائے اور قوم لسانی بنیادوں پر بکھرنے لگے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اردو کو محض آئینی اعلان نہیں بلکہ عملی حقیقت بنایا جائے۔ اس کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں: تعلیم کے تمام درجوں میں اردو کو ذریعۂ تعلیم بنایا جائے اور سائنسی اصطلاحات کا ترجمہ کیا جائے، عدالتوں، دفاتر اور سرکاری نوٹیفکیشنز کو اردو میں جاری کیا جائے، میڈیا، ٹی وی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اردو کے استعمال کو فروغ دیا جائے، جدید علوم کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے تحقیقاتی ادارے قائم کیے جائیں، اور اردو کے ساتھ صوبائی زبانوں کو بھی نصاب اور میڈیا میں جگہ دی جائے تاکہ کسی کو محرومی کا احساس نہ ہو۔

اردو عوام کی زبان ہے۔ مزدور، کسان، طالب علم، استاد اور تاجر سب اسی میں بات کرتے اور سمجھتے ہیں۔ یہ زبان ادب، ذرائع ابلاغ اور روزمرہ زندگی میں سب سے زیادہ رائج ہے۔ یہی اردو ہماری قومی روح کی آواز ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اردو کو اس کا جائز مقام دلایا جائے۔ یہ صرف آئینی تقاضا نہیں بلکہ قومی بقا کی ضمانت ہے۔ اردو کو کمزور کرنا دراصل پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ قومی یکجہتی، معاشی ترقی اور فکری آزادی سب اردو کے نفاذ سے جڑی ہیں۔ صوبائی زبانوں کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن ان کی آڑ میں اردو کی مخالفت دراصل پاکستان کی وحدت پر حملہ ہے۔ اردو ہماری پہچان، ہماری تاریخ اور ہمارا مستقبل ہے۔ اردو کے بغیر پاکستان کبھی مکمل اور مضبوط نہیں ہو سکتا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نہ رنجشیں، نہ شکایت ہے
  • تمہیں بتاو کہ فی زمانہ سراغ پاؤں کہاں سحر کا
  • ذوق کی قصیدہ نگاری
  • سب سے پہلے انہیں رعنائی ودیعت کی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاکستان بھارت میچ: کھیل یا سیاسی کشمکش
پچھلی پوسٹ
پاکستان ؛عالمی تعلقات میں کامیابی کی راہیں

متعلقہ پوسٹس

اس قدر خوابی ء تقدیر نہیں ہو سکتی

فروری 13, 2020

سیاست نہیں ریاست بچاؤ

نومبر 20, 2025

مجھے اَنا کے عِوض بے قیاس کھو دے گا

اکتوبر 24, 2025

ہوتی ہے شمعِ عشق فروزاں کبھی کبھی

نومبر 3, 2021

روشنی کی سفارت ”آبجوئے نور”

مارچ 23, 2025

خدا کلام بشر شش جہات مانتا ہوں

جون 15, 2020

میڈم ٹپ ٹپ، شیخ رشید اور شادی کی فرمائش

جنوری 13, 2020

کارنس

دسمبر 23, 2021

پاکستانی افسانہ

مئی 23, 2026

میں نے دیکھا ہے اُس کی آنکھوں مِیں

مئی 9, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نوری نت اور موگیمبو کا زمانہ...

اپریل 7, 2023

08مارچ : عالمی یوم ِ خواتین!

مارچ 6, 2022

پسماندگان

جنوری 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں