خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامچھ چور قسم کی عادات
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

چھ چور قسم کی عادات

از ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم جولائی 5, 2026
از ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم جولائی 5, 2026 0 تبصرے 30 مناظر
31

6 Habits That Steal Your Time & Future
ہمارے ایک استاد محترم تھے جو اکثر کسی بچے کو جب کوئی فضول کام کرتے دیکھتے تھے تو کہتے تھے گھڑی ہے ۔ بچہ کہتا نہیں سر !
تو وہ کہتے خرید لو
پھر موبائل کا دور آیا ۔ اس وقت وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے ۔
ملنے کا اتفاق ہوا تواس وقت میرا ایک دوست میرے ساتھ تھا ۔ انہوں نے پوچھا اعظم بیٹا گھڑی ہے ۔
میں نے کہا جی
تو میرے دوست نے موبائل نکال کر ان کو وقت بتایا
تو انہوں نے کہا بیٹا ! وقت ہمیں زبانی یاد ہے اور اب وقت مکمل ہوا جاتا ہے ۔
سنو لڑکے !موبائل اچھی بات ہے مگر پھر بھی گھڑی خریدو ۔
انہوں نے اپنی پوری زندگی گھڑی باندھنے کا کہا اور تقریبا ہر بچے کو کہا ۔کبھی کبھار ایسا لگتا تھا کہ ان کی کسی گھڑی ساز کمپنی سے ڈیل ہے جو ہر کسی کو یہی نصیحت کرتے ۔ لیکن ایک بات ہے جو ان کی بات سمجھ گیا اس ہر طالب علم کے ہاتھ پر آپ گھڑی لازمی دیکھیں گے ۔
یہ بظاہر ایک سادہ نصیحت تھی، مگر اس کے پیچھے ایک گہری تعلیمی اور نفسیاتی حکمت موجود تھی۔گھڑی پہننے پر زور دراصل وقت کی شعوری تربیت (Time Consciousness) پیدا کرنے کے لیے تھا۔ گھڑی نظم و ضبط (discipline) کی علامت ہے۔ جس طالب علم کے ہاتھ میں گھڑی ہو، اس کے اندر لاشعوری طور پر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اس کا ہر لمحہ محدود اور قیمتی ہے۔ یوں وہ اپنے کام، پڑھائی اور معمولات میں وقت کی پابندی سیکھتا ہے۔اس نصیحت کا ایک علامتی پہلو بھی تھا: استاد دراصل یہ سکھانا چاہتے تھے کہ “زندگی کو دیکھنے کا زاویہ سادہ رکھو، غیر ضروری مشغولیات سے بچو، اور اپنے وقت کے مالک بنو۔”اسکے برعکس انسان جب وقت کو بار بار دیکھنے کے لیے موبائل پر انحصار کرتا ہے تو اکثر توجہ بٹ جاتی ہے—کیونکہ موبائل صرف وقت نہیں دیتا بلکہ بے شمار خلفشار بھی ساتھ لاتا ہے۔ جبکہ گھڑی صرف ایک ہی پیغام دیتی ہے: “وقت کیا ہے اور کتنا گزر چکا ہے۔
آئیے اب میں آپ کو ہمارے اس زمانہ کی وہ چھ 6 عادتیں بتاتا ہوں جو آپ کا وقت ہی نہیں، آپ کا مستقبل بھی چھین سکتی ہیں۔ پہلے انگلش کا یہ قول سمجھیں ۔
Your habits shape your future more than your goals.
زندگی میں انسان کی کامیابی یا ناکامی اکثر بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی روزمرہ عادتوں سے تشکیل پاتی ہے۔ بعض عادتیں بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں، مگر رفتہ رفتہ وہ انسان کے وقت، توانائی اور مستقبل کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔
1. بغیر سوچے سمجھے اسکرولنگ
ایک مختصر سا وقفہ اکثر خاموشی سے گھنٹوں میں بدل جاتا ہے۔ ہم اسے “تھوڑی دیر کا آرام” سمجھتے ہیں، مگر وقت بغیر رکے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ ہم موبائل، خیالات یا بے مقصد مصروفیت میں کھو جاتے ہیں اور پھر اچانک احساس ہوتا ہے کہ لمحے گزر کر ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔
وقت کی سب سے بڑی خاموشی یہی ہے کہ وہ اپنی کمی کا اعلان نہیں کرتا۔ وہ آہستگی سے ہماری زندگی سے لمحے کم کرتا رہتا ہے اور ہمیں تب خبر ہوتی ہے جب بہت کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔
“Time is the most valuable thing a man can spend.” — Theophrastus
2. صرف منصوبہ بندی، مگر عمل کا فقدان
صرف منصوبہ بندی، مگر عمل کی کمی ایک خاموش ناکامی ہے۔ نوٹ بکس خوابوں سے بھر جاتی ہیں، ویژن بورڈز امیدوں سے سجے رہتے ہیں، مگر قدم وہیں جمود میں رہتے ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ منصوبہ بنانا آغاز نہیں ہوتا؛ اصل آغاز وہ لمحہ ہے جب سوچ کو عمل میں بدلا جائے۔ کیونکہ خواب صرف لکھنے سے نہیں، چلنے سے پورے ہوتے ہیں۔
“Dreams don’t work unless you do.”
3. آرام دہ زون میں قید رہنا
وہ نوکری جس میں ترقی کا دروازہ بند ہو، وہ تعلقات جو سکون دینے کے بجائے توانائی چوس لیں، اور وہ معمول جو برسوں سے ایک ہی دائرے میں گھوم رہا ہو—یہ سب بظاہر محفوظ راستے لگتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ سب سے زیادہ مہنگے انتخاب ہوتے ہیں۔ان کی قیمت پیسے میں نہیں، وقت، صلاحیت اور اندرونی سکون میں ادا ہوتی ہے۔ بظاہر ہم ٹھہرے ہوئے ہوتے ہیں، مگر اندر سے آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے ہیں۔
“Comfort zone is a beautiful place, but nothing ever grows there.”
4. دوسروں کو دیکھنا، خود کچھ نہ کرنا
کامیاب لوگوں کو دیکھنا، موٹیویشنل مواد جمع کرنا اور علم حاصل کرنا بظاہر مفید اور مثبت سرگرمیاں ہیں، مگر جب تک انہیں عمل میں نہ بدلا جائے، یہ سب صرف ذہنی اطمینان تک محدود رہتی ہیں۔اصل تبدیلی معلومات کے جمع ہونے سے نہیں بلکہ اس کے اطلاق سے آتی ہے۔ بصیرت اسی وقت حقیقت بنتی ہے جب سوچ قدموں کی صورت اختیار کرے۔
“Knowledge without action is meaningless.”
5. سب کے لیے وقت، مگر خود کے لیے کچھ نہیں
سب کے لیے وقت نکالنا ایک خوبصورت خصلت ہے، مگر جب یہ عادت اپنی ذات کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دے تو توازن بگڑ جاتا ہے۔ انسان دوسروں کی ضرورتوں، تقاضوں اور خواہشات کے لیے تو ہمیشہ حاضر رہتا ہے، لیکن اپنی صحت، اپنے خوابوں اور اپنے مستقبل کے لیے وقت نکالنا بھول جاتا ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ سب کے لیے سہارا بنتا رہتا ہے مگر خود کے لیے بوجھ بنتا چلا جاتا ہے۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے اپنی ذات کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جائے، کیونکہ ٹوٹا ہوا انسان کسی کو مکمل سہارا نہیں دے سکتا۔
“You cannot pour from an empty cup.”
6. “صحیح وقت” کا انتظار
“صحیح وقت” کا انتظار دراصل اکثر تاخیر کا ایک مہذب نام ہوتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ حالات مکمل طور پر سازگار ہوں گے تو وہ قدم اٹھائے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ حالات کبھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے۔کامل وقت کبھی باہر سے نہیں آتا، وہ اندر سے پیدا کیا جاتا ہے۔ جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ وقت کے آنے کا انتظار نہیں کرتے، بلکہ اپنی ہمت، فیصلے اور عمل سے وقت کو خود اپنے حق میں ڈھال لیتے ہیں۔
“The best time to start was yesterday. The next best time is now.”
زندگی کی تبدیلی ہمیشہ کسی بڑے انقلاب، غیر معمولی موقع یا اچانک کامیابی کی مرہونِ منت نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا مستقبل اکثر انہی چھوٹی مگر مستقل عادتوں کے زیرِ اثر بنتا یا بگڑتا ہے جنہیں وہ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو زیادہ تر رکاوٹیں بیرونی نہیں ہوتیں، بلکہ اندرونی عادتوں کی صورت میں موجود ہوتی ہیں—تاخیر، بے مقصد مصروفیت، غیر ضروری آرام، اور عمل سے گریز۔ انہی چھوٹی کمزوریوں کو چھوڑ دینا، اور ان کی جگہ نظم، توجہ اور مستقل مزاجی کو اپنانا، انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔اصل تبدیلی باہر سے نہیں آتی، وہ اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی ایک فیصلہ، ایک عادت کا خاتمہ، اور ایک چھوٹا سا قدم ہی اس بڑے سفر کی ابتدا بن جاتا ہے جو انسان کو اس کی حقیقی منزل تک لے جاتا ہے۔

“Small habits create big futures.”
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
  • کچہری بس سٹاپ
  • میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے
  • بدگمانی سے بنایا گیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

اگلی پوسٹ
ہارنا نہیں کوشش نہ کرنا جرم ہے
پچھلی پوسٹ
پہلا قدم ہی پہلا انعام ہے

متعلقہ پوسٹس

ہم اپنی مرضی کا وحشت کدہ بنائیں گے

فروری 22, 2026

معجزاتی ملک اور کرشماتی لوگ!

اپریل 15, 2020

مندر والی گلی

جون 14, 2020

آپ کیسی جاب چاہتے ہیں؟

فروری 23, 2022

لگ کر گلے سے ہم ترے

جون 21, 2026

توبۃ النصوح – فصل ہشتم

اکتوبر 30, 2020

ملا ہے مجھ کو پڑاؤ سفر بناتا ہوا

جون 21, 2026

نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

مارچ 18, 2026

نوجوان نسل اور معاشرتی ذمہ داریاں

اکتوبر 20, 2025

سیاہ جھیل سی آنکھیں

جولائی 31, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فُرصتِ نگاہ

اپریل 10, 2026

آہ! اب تو خون کی آتی...

فروری 4, 2020

بجلی کے بلوں میں ریلیف

جولائی 24, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں